گلبرگ ٹاؤن ڈسٹرک سنٹرل میں غیر قانونی تعمیرات کا دہندہ نہ روک سکھا پلاٹ نمبر ار 1382 بلاک 15 میں دو منزلہ بلڈنگ کھڑی کردی
گلبرگ ٹاؤن ڈسٹرک سنٹرل میں غیر قانونی تعمیرات کا دہندہ نہ روک سکھا
پلاٹ نمبر ار 1382 بلاک 15 میں
دو منزلہ بلڈنگ کھڑی کردی
جس کا نقشہ بھی جعلی بن وا کر ڈی جی ایس بی سی اے کو مامو مانا دیا جبکہ رہائشی گھر بنے کی جگا پر 6 فلیٹ تعمیر کردیے گے ہیں مزید فلیٹ کی تعمیرات کی جاری ہے
اور اسی طرح پلاٹ نمبر
بی ایس 2 بلاک 12 میں بھی اضافی فلور کی تعمیرات آخری مرحلے میں داخل ہوتی نظر انے لگی جبکہ نہ ہی بلڈنگ کے اندر ایئر ڈگ دیا گیا ہے نہ ہی کوئی ایمرجنسی اكزیت دیا گیا ہے
جبکہ پلاٹ نمبر آر 1713 بلاک 2 میں رہائشی مکان پر کمرشل دوکان کی تعمیرات جاری ہے
پلاٹ نمبر 1990 بلاک 2 میں نقشہ کے بار خلاف تعمیرات زورو شورو سے جاری ہے
*ایس بی سی اے کے مذکورہ افسران صحافیوں کو خبر/چلانے اور کرپشن کی نشاندہی پر ملک کے اہم تحقیقاتی اداروں نیب وب۴یف آئی اے اور دیگر سے خوفزدہ کرنے لگے*
*وزیر اعلی سندھ شہر کی سڑکوں اور انفرا اسٹرکچر کو جنگل بنتا دیکھ کر خاموش شہریوں نے ملک کے مقتدر حلقوں سے نوٹس لینے کا مطالبہ کردیا*
کراچی(رپورٹ ایس قریشی) *اسیسٹنٹ ڈائریکٹر شاہد دُرانی، ریحان الائچی اور قمر قائم خانی نے ڈسٹرکٹ سینٹرل میں کرپشن کا ٹھیکہ اپنی مُٹھی میں کر لیا ہے جس میں ان کی سہولت کاری *SBI ارشد ریاض، DD عمران رضوی، AD قمر قائم خانی، BI اورنگزیب ،* کررہے ہیں جبکہ وصولی کام دیگر پرائیوٹ بیٹرز کے زریعے کروایا جارہاہے جس کا کوئی پرسان حال نہیں ہے موجودہ صورت حال پر شہریوں نے وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف ،شہر کی نمائندہ جماعت ایم کیو ایم کے سربراہ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی اور چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایس بی سی اے جیسے کرپٹ ترین ادارے کا شہر سے خاتمہ کریں واضح رہے ایس بی سی اے کی کرپشن کے حوالے سے بیشتر مرتبہ ملک کی اعلی عدلیہ کے سینئر ججز اپنے ریمارکس میں کہہ چکے ہیں کہ مذکورہ ادارے کی کرپشن کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کو ختم کردینا چاہیے جو کہ مختلف سماعتوں میں ریکارڈ کا حصہ ہے عوامی رائے کے مطابق سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی کرپشن کے ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اگر 20 سالا دور میں اس محکمے میں رہنے والے افسران کے اکاؤنٹ اور اثاثہ جات کی جانچ پڑتال کی جائے تو ان کرپٹ افراد سے حاصل شدہ رقم سے ملک کا قرضہ نا صرف اتارا جاسکتا ہے بلکہ پاکستان مستقبل میں امریکہ جیسے ممالک کو قرضہ دینے کے قابل ہو جائے گا.
مزید تفصیلات کے لیے انتظار کریں۔