ورڈ کاونٹ :1517 درحقیقت قائد اعظم کا پاکستان آئیے کوئی راہ نکالیں! خالد نجیب خان
ورڈ کاونٹ :1517
درحقیقت
قائد اعظم کا پاکستان آئیے کوئی راہ نکالیں!
خالد نجیب خان
khalednajeebkhan@gmail.com
مملکتِ خداداد پاکستان کے جو اِس وقت حالات ہیں، اُس کے پیش نظر اکثر لوگوں کی زبان سے یہ کلمات دانستہ یا نادانستہ نکل جاتے ہیں؛ ’’قائداعظم یہ حالات دیکھتے تو یقیناً بہت رنجیدہ ہوتے۔‘‘
بے شک یہ احساس زیاں ہی ہے، جس نے پاکستان کوا بھی تک جیسا بھی ہے،سلامت نہ سہی ، برقرار رکھا ہوا ہے۔ قائداعظم کے یومِ ولادت کے موقع پر پاکستان کی سیاست کو زیر بحث لانا بعض لوگوں کو ناگوار بھی لگ سکتا ہے مگر اِس حقیقت سے بھی کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ قائداعظم کو پاکستان سے الگ تو نہیں کیا جا سکتا ۔بلکہ پاکستان سے الگ ہو کر بھی بنگلہ دیش والے قائداعظم کو فراموش نہیں کر سکےہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ 1937ء سے 1947ء کے دوران قائداعظم نے اپنی تقاریر میں برملا کہا ہے کہ ہمارا قانون ہمارا نظام بلکہ ہماری ہر شۓ اسلام کے مطابق ہوگی ۔ 11 جنوری 1938ء کو بہار کے گیا ریلوے اسٹیشن پر ایک بہت بڑے مجمع سے انگریزی میں خطاب کرتے ہوئے قائداعظم نے مسلم لیگ کا جھنڈا لہراتے ہوئے فرمایا ؛ ’’آج اس عظیم الشان اجتماع میں آپ نے مجھے مسلم لیگ کا جھنڈا لہرانے کا اعزاز بخشا ہے۔یہ جھنڈا درحقیقت اسلام کا جھنڈا ہے کیونکہ آپ مسلم لیگ کو اسلام سے علیحدہ نہیں کر سکتے۔ بہت سے لوگ بالخصوص ہمارے ہندو دوست ہمیں غلط سمجھتے ہیں، جب ہم اسلام کی بات کرتے ہیں یا جب ہم کہتے ہیں کہ یہ جھنڈا اسلام کا جھنڈا ہے تو وہ خیال کرتے ہیں کہ ہم مذہب کو سیاست میں گھسیٹ رہے ہیں، حالانکہ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس پر ہم فخر کرتے ہیں ۔ اسلام ہمیں مکمل ضابطۂ حیات دیتا ہے۔ درحقیقت اِس میں وہ سب کچھ موجود ہے جس کی ایک آدمی کو صبح سے رات تک ضرورت ہوتی ہے۔‘‘
6 مارچ 1946ء کو ایک جگہ تقریر کرتے ہوئے فرمایا؛’’ہمیں قرآن پاک، حدیث شریف اور اسلامی روایات کی طرف رجوع کرنا ہوگا جن میں ہمارے لئے مکمل رہنمائی ہے۔ اگر ہم اِن کی صحیح ترجمانی کریں اور قرآن پاک پر عمل پیرا ہوں۔‘‘ اِس سے قبل 29 مارچ 1944ء کو سول اینڈ ملٹری گرٹ لاہور میں قائداعظم کے حوالے سے ایک خبر شائع ہوئی ہے جس میں اُن کی ایک تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے؛ ’’مسٹر جناح نے غیر مسلم اقلیتوں کو یقین دلایا کہ اگر پاکستان قائم ہوگیا تو اُن کے ساتھ رواداری، انصاف اور فیاضی کا سلوک کیا جائے گا۔ اقلیتوں کو یہ حقوق قرآن نے دئیے ہیں اور مسلمانوں کی تاریخ اُن کو یہ سبق سکھاتی ہے۔
25 جنوری 1948ء کو کراچی بار ایسوی ایشن سے خطاب کرتے ہوئے قائداعظم نے دوٹوک انداز میں فرمایا؛ ’’اسلامی اصول آج بھی ہماری زندگی کے لیے اسی طرح قابل عمل ہیں جس طرح تیرہ سو سال پہلے قابل عمل تھے۔ وہ یہ نہیں سمجھ سکے کہ لوگوں کا ایک گروہ جان بوجھ کر فتنہ اندازی سے یہ بات کیوں پھیلانا چاہتا ہے کہ پاکستان کا آئین شریعت کی بنیاد پر مدوّن نہیں کیا جائے گا۔
قائداعظم نے پاکستان بنایا اور اُن کے دستِ راست لیاقت علی خان نے اُن کے انتقال کے چند ماہ بعد ہی دستور ساز اسمبلی سے قرار داد مقاصد منظور کرا کے پاکستان میں نظام خلافت کی بنیاد رکھ دی جو آج دستور پاکستان کا آرٹیکل 2-A ہے۔ جس میں یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ حاکمیت اعلیٰ اللہ تعالیٰ کی ہے اور خلافت انسانوں کی، خصوصاً مسلمانوں کی جو اللہ تعالیٰ کو مانتے ہیں۔ حاکمِ مطلق اللہ تعالیٰ ہے، رسول اکرم ﷺ اُس کے نمائندے ہیں۔ قرآن و حدیث میں اللہ اور اُس کے رسول ﷺ کا جو حکم آگیا وہ تو واجب التعمیل اور واجب الاطاعت ہے ،اُس سے آپ اِدھر اُدھر نہیںجا سکتے لیکن باقی معاملات قرآن و حدیث کے دائرے کے اندر اندر ’’اَمْرُهُمْ شُوْرٰى بَیْنَهُمْ‘‘ کے اصول پر باہمی مشورے سے طے کے جائیں گے۔ یہی خلافت ہے ہمارے پاس خود بھی اختیارات ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک مقدس امانت ہے اور اُنہیں انہی حدود کے اندر استعمال کیا جا سکتا ہے جو قرآن و حدیث اور سنت سے متعین ہیں۔ دُکھ کی بات یہ ہے کہ اسلام کے نام پر حاصل کیے ہوئے پاکستان کو جس قدر غیر اسلامی بنا دیا گیا ہے، اُس کی وجہ سے ایک اسلامی نظریاتی ریاست کی ’’تعریف‘‘ ہی بدل گئی ہے۔ لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد تو یہاں اسلامی سماجی عدل کے نظام کے ساتھ ساتھ اخوت و بھائی چارہ مساوات آزادی غرض ہر اسلامی قدر ناپید ہونے لگی اور بات آگے سے آگے بڑھنے لگی ہے ۔ چند سال پہلے جن باتوں کو دیکھ کر نظریں شرم سے جھک جایا کرتی تھیں ،آج اُنہیں کھلی آنکھوں سے دیکھ کر بھی احساسِ ندامت نہیں ہوتا۔ معیشت سود پر چل رہی ہے ، شرعی عدالت نے واضح طور پر کہہ دیا کہ یہ حرام ہے مگراپیل سپریم کورٹ میں چلی گئی جہاں کئی سالوں سے اِس اپیل کی شنوائی نہیں ہوئی۔ قانون پڑھانے والے تمام اداروں میں طلبہ کو شروع میں ہی یہ بتایا جاتا ہے کہ” انصاف دینے میں تاخیر، انصاف نہ دینے کے مترادف ہے” اور اِس کا مظاہرہ ہمیں دیکھنے کو مل رہا ہے جبکہ یہ بھی حقیقت ہے کہ قانون بنانے والے ہوں یا قانون کی تشریح کرنے والے، اُن کے مفادات کے تحفظ کے لیے نا صرف فوری طور پر قوانین بن جاتے ہیں بلکہ اُن پر عمل درآمد بھی کرا لیا جاتا ہے۔
جاگیرداری نظام یا غیر حاضرز مینداری کا نظام، دورِ ملوکیت میں سامنے آیا، جسے خلیفہ عمر بن عبدالعزیزؒ نے ختم کر دیا۔ اُنہوں نے گزشتہ ادوار میں دی گئی تمام جاگیرداروں کی دستاویزات کو بذاتِ خود کاٹ کر پھینک دیا تھا مگر بعد میں یہ پھر سے جاری ہوگیا، حالانکہ امام مالکؒ اور امام ابوحنیفہ ؒدونوں نے مزارعت یا غیر حاضر زمینداری کو حرام مطلق قرار دیا ہے۔ قیام پاکستان کے بعد کئی سیاسی جماعتوں نے جاگیرداری کو ختم کرنے کے نعرے تو لگائے مگر اُس کے خلاف حقیقی اور عملی قدم کوئی نہیں اُٹھایا۔
مغرب کے تعلیمی اداروں اور اُن کے رائج کردہ نصاب تعلیم نے جو یہاں پر طوفانِ بدتمیزی برپا کیا ہے ، آج اُس کی وجہ سے وہ لوگ جو بڑے شوق سے اُس طرف گئے تھے، اس کی وجہ سے پریشان اور پشیمان نظر آتے ہیں اور اِس بات کا تقاضا کرتے نظر آتے ہیں کہ اِس طوفان بدتمیزی کو کسی طرح سے روکا جائے مگر سرکاری سطح پر اِس کو ختم کرنے کے حوالے سے کوئی کام نہیں ہو رہا ۔ کئی سال پہلے مختلف این جی اوز کے تعلیمی ادارےقومیاء کر تعلیمی نظام کا ستیاناس کر دیا گیا اور اُس کی بجائے غیر ملکی اور نجی تعلیمی اداروں کو فروغ دیا گیا۔ آج قومیائے گئے اور اصلی سرکاری تعلیمی اداروں کو پرائیوٹائز کیا جا رہا ہے اور مختلف این جی اوز یا ٹرسٹس کے زیراہتمام چلنے والے دینی مدارس کو قومی تحویل میںلینے کی بات ہاٹ ایشوہے کہ اِن دینی مدارس پر قابو پانے کے بعدیہاں اپنی مرضی کا نصاب پڑھا کر اپنی مرضی کی نئی نسل تیار کی جائے اور اپنی مرضی سے اُس سے کام لیا جا سکے۔یہ تمام اقدامات اگر حکومت یا عوامی نمائندگانِ ازخود یاعوامی ڈیمانڈ پر کر رہے ہوں تو پھر بھی اِس کو کسی طرح سے برداشت کیا جا سکتا ہے مگر بدقسمتی یہ ہے یہ تمام کام بیرونی آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔
یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ موجودہ صورتِ حال کیوں پیدا ہوئی ہے تو اِس کاسیدھا سادا اور برملا جواب یہی ہے کہ ہم نے اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے وعدے سے انحراف کیا ہے۔
وہ وعدہ کیا تھا؟
اِس کے بارے میں سب کو علم ہے ،مگر بتانے میں حرج نہیں ہے۔ ہم نے وعدہ کیا تھا کہ؛” اے اللہ اگر تو نے ہمیں آزادی کی نعمت عطا کر دی تو ہم تیرے دین کا بول بالا کریں گے۔” 1937ء سے 1947ء تک قائداعظم اور برصغیر کے مسلمانوں نے یہ وعدہ کیا۔ 1948ء میں قائداعظم کے خالقِ حقیقی سے ملتے ہی پاکستان کے مسلمانوں نے اپنا وہ عہد فراموش کر دیا یا اُن سے فراموش کرا دیا گیا۔ دونوں ہی صورتوں میں وعدہ سے انحراف ہوگیا جس کا نتیجہ نفاق کی صورت میں ہمارے سامنے ہے۔بقول ڈاکٹر اسرار احمد مرحومؒ یہ نفاق بھی تین طرح کا ہے۔ اوّل “نفاق باہمی” یعنی ہم ایک قوم تھے مگر اب قومیتوں میں تحلیل ہو چکے ہیں ۔ دوم” نفاق عملی” ، ہمارے اخلاق کا دیوالیہ نکل چکا ہے ۔ منافق کی تمام تر نشانیاں مِن حیث القوم ہمارے اندر موجود ہیں، اِلا ماشاء اللہ۔ تیسرا اور سب سے اہم نفاق “دستور کا نفاق” ہے۔ کسی بھی مملک کی اہم ترین دستاویز اُس کا دستور ہوتا ہے۔ دستور پاکستان کے ساتھ جو سلوک ہوا ہے اور جو ہو رہا ہے وہ کسی بھی ذی شعور سے پوشیدہ نہیں ہے ۔
مادہ پرستی کے اِس دور میں ارباب اقتدارِ پاکستان کو اگر اللہ تعالیٰ سے کیا ہوا وعدہ یاد نہیں ہے تو قائد سے کیا ہوا وعدہ توپھر یقیناًیاد ہونا چاہئے ۔ آئیے ابھی بھی موقع ہے، یومِ قائد کے موقع پر قائد اور اللہ سے کیے ہوئے وعدہ کو پورا کرنے کا دوبارہ عہد کریں اور وطن عزیز پر چھائی ہوئی نحوست سے نجات پانے کی کوئی راہ نکالیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔
…..