*جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسرڈاکٹر خالد محمودعراقی سے سوڈانی سفیر کی ملاقات*
*جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسرڈاکٹر خالد محمودعراقی سے سوڈانی سفیر کی ملاقات*
*وائس چانسلر سے سوڈانی جامعات میں زیر تعلیم طلباوطالبات کے کریڈٹ آورز کی منتقلی کی درخواست*
کراچی (رپورٹ: جاوید صدیقی) سوڈانی سفیر صالح محمد احمد نے کراچی میں اعزازی قونصل، اکنامک آفیسر اور اعزازی ٹریڈ ایڈوائزر کے ہمراہ گزشتہ روز جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی سے وائس چانسلر سیکرٹریٹ جامعہ کراچی میں ملاقات کی اور جامعہ کراچی و سوڈان کے مختلف تعلیمی اداروں کے مابین تدریسی و تحقیقی شعبوں اور معاشی شعبہ جات میں ممکنہ تعاون اور اشتراک پر تبادلہ خیال کیا۔ سوڈانی سفیر صالح محمد احمد نے بتایا کہ جامعہ کراچی سے فارغ التحصیل ہونے والے سوڈانی طلباء کی ایک اچھی تعداد اپنے ملک کے مختلف شہروں میں سرکاری و نجی اداروں میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوکر خدمات انجام دے رہے ہیں نہ صرف یہ بلکہ جامعہ کراچی سے فارغ التحصیل طلبہ دنیا کے مختلف حصوں میں ملازمت کررہے ہیں اور اپنے ملک کی معیشت کو بہتر کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔ انہوں نے جامعہ کراچی میں سوڈانی طلباوطالبات کو فراہم کی جانے والے سہولیات پر شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی کے کردار کو سراہا اور بالخصوص کوویڈ نائن ٹین کی وباء کے دوران جامعہ کی بہترین حکمت عملی اور منصوبہ بندی کی بدولت تمام غیر ملکی طلبہ کو جامعہ کے کیمپس میں بہترین اور محفوظ ماحول فراہم کیا گیا جو لائق تحسین اور قابل تقلید ہے۔ صالح محمد احمد نے مزید کہا کہ پاکستانی حکومت نے فلسطینی طلباوطالبات کو جو فوائد اور سہولیات فراہم کی ہیں مجھے امید ہے کہ سوڈانی جامعات کے طلباء کے کریڈٹ آورز کی منتقلی کے حوالے سے بھی جامعہ کراچی، ہائر ایجوکیشن کمیشن اسلام آباد اور متعلقہ حکومتی ادارے کریڈٹ آورز کی منتقلی کے لئے سوڈانی طلبہ کی حمایت اور انہیں سہولت فراہم کریں گے۔ جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے سوڈانی سفیر کی کریڈ ٹ آورز کی منتقلی کے حوالے سے کہا کہ اگر حکومت جامعہ کراچی کو اجازت دے تو وہ طلباوطالبات کو یہ سہولت فراہم کرنے کے لئے تیار ہیں۔ ڈاکٹر خالد عراقی نے مالی مشکلات کا شکار اور اس وجہ سے فیس دینے سے قاصر سوڈانی طلباوطالبات کی مالی اعانت کی پیشکش بھی کی جس کو سوڈانی سفیر اور دیگر نے بیحد سراہا۔