October 28, 2026

عنوان فلسطین تحریر سدرہ بنت منور سنو پکار میری سنو پکار میری

عنوان فلسطین
تحریر سدرہ بنت منور

سنو پکار میری سنو پکار میری

اے عالم اسلام غیرت کہاں ہے تیری
زخموں سے چور جسم ہے انکھوں سے ختم نور
راکھ کا میں ڈھیر ہوں گلیوں میں بہتا خون
چیختی چلاتی مائیں روتے ہوئے ہیں پھول
اجڑی ہوئی ہوں داستاں مسئلا ہوا ہوں پھول

خلیل کا میں دیس ہوں موسی کی سرزمین ہوں
کہا مجھے قران نے برکت والی زمین ہوں

دیکھو میں فلسطین ہوں
دیکھو میں فلسطین ہوں

سنو پکار میری سنو پکار میری

ایک دور تھا جب کبھی لرزتا یہود تھا
عمر کی وہ داستاں ایوبی کا وہ معرکہ
بھول گئے سبھی تم جہاد کا وہ راستہ
مانند ہے ایک جسم کے سبھی جہاں کے مسلمان

کٹ رہا ہے جسم تیرا بکھر رہے ہیں اعضاء
دیکھو میں فلسطین ہوں
دیکھو میں فلسطین ہوں

آواز تجھ کو دے رہی ہے انبیاء کی سرزمین
منتظر ہے اقصی تیری کب سنے پکار میری
اٹھ میرے اے نوجوان کہاں گئی تلوار تیری
تاریخ کے اوراق میں اسلاف کے وہ کام دیکھ
کفار کو لرزا دیں جو ان بہادروں کے نام دیکھ
اے عالم اسلام غیرت کہاں ہے تیری
سنو پکار میری سنو پکار میری

دیکھو میں فلسطین ہوں
دیکھو میں فلسطین ہوں