*شام کی جیل میں قیدیوں کی دلخراش اور حیران کن باتیں!*
*شام کی جیل میں قیدیوں کی دلخراش اور حیران کن باتیں!*
(1) رہائی کے بعد قیدی کو معلوم ہوا کہ موبائل فون بھی دنیا میں ایجاد ہو چکا ہے (قید کی مدت 40 سال)
(2) جب مجاہدین نے جیل کا دروازہ کھول کر قیدیوں کو کہا چلو چلو تم آزاد ہو تو قیدی نے پوچھا کہ کیا صدام حسین نے اسد خاندان کا خاتمہ کردیا ہے اسے نہیں معلوم کہ صدام حسین خود دنیا میں نہیں ہے –
(قید کی مدت 30 سال)
(3) کچھ قیدی ایسے تھے جو جیل میں ہی پیدا ہوئے اور انہوں نے سورج دھوپ درخت گھاس وغیرہ جیل سے رہائی کے بعد پہلی مرتبہ دیکھے-
(4) جیل میں ایسی درد ناک سزائیں دی گئی، کہ قیدی مجنون اور پاگل ہوگئے، ان کو اپنا نام، شہر، اور علاقہ بھی معلوم نہیں –
(5) جیل میں کئیں کئیں دنوں اور ہفتوں تک پانی اور کھانا نہیں دیا جاتا تھا بے تاب ہو کر قیدی پیشاب پینے پر مجبور ہوتے تھے –
(6) قیدیوں کے لیے جیل کے اندر نماز، روزہ، اور کوئی بھی عبادت ممنوع تھی-
(7) جیل کے اندر ہر وقت آگ کی بڑی بھٹی دہکتی رہتی تھی، جسے حافظ الاسد کی جہنم کہا جاتا تھا، اور جس قیدی کو اس میں جلانا ہوتا تھا تو اسے کہا جاتا تھا کہ اسد کی جہنم میں خوش آمدید۔
(8) جیل کے اندر ایسی کلنگ مشین تھی، جس میں لاش کو دبا کر خون اور ہڈیوں کو الگ الگ کرکے گٹھڑی میں باندھ کر گڈھے میں دبا دیا جاتا تھا ۔
(9) قیدیوں کے دانت توڑ دئے جاتے تھے، اور کرنٹ کے جھٹکے دئے جاتے تھے .
(10) قیدیوں کے پیر توڑ کر ان کو دوڑنے کے لئے کہا جاتا تھا، اور کھانے کے لئے مرے ہوے چوہے دیے جاتے تھے ۔
(11) ہر ہفتہ 40 سے 50 قیدیوں کو پھانسی دی جاتی تھی، اور جس کو پھانسی دینی ہوتی اس کو رات بھر پیٹا جاتا تھا ۔
(12) جیل کے اندر نمک کی کان بنا رکھی تھی، قیدیوں کو زخمی کر کے نمک پر لٹایا جاتا تھا –
(13) ایک قیدی کا رہائی کے بعد کہنا ہے کہ آج میری اور میرے 50 ساتھیوں کی پھانسی کا دن تھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے آج ہی مجاہدین کو فتح عطاء فرما دی ۔
بدنام زمانہ صیدنایا جیل اسد خاندان کی بنائی ہوئی ایسا بوچڑ خانہ ہے، کہ جس کی دردناک المناک اور دلخراش داستان سن کر امریکہ کی گونتانامو بے جیل جنت لگتی ہے ۔