October 29, 2026

آنے والے وقت میں پانی کی شدید کمی ھوگی۔کیونکہ ھم اینے ہاتھوں خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی چلا چکے ھیں۔زمینی پانی شوگر مافیا نے خراب کردیا ھے۔دریاؤں کے پانی پر انڈیا قبضہ کرچکا ھے ھم ابھی تک میٹنگ میٹنگ کھیل رھے ھیں۔اور بے شرمی بے غیرتی اور بے حسی بزدلی کے آخری

IMG-20241108-WA0196

۔آنے والے وقت میں پانی کی شدید کمی ھوگی۔کیونکہ ھم اینے ہاتھوں خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی چلا چکے ھیں۔زمینی پانی شوگر مافیا نے خراب کردیا ھے۔دریاؤں کے پانی پر انڈیا قبضہ کرچکا ھے ھم ابھی تک میٹنگ میٹنگ کھیل رھے ھیں۔اور بے شرمی بے غیرتی اور بے حسی بزدلی کے آخری درجے پر ھیں۔لوٹ مار۔کرپشن۔کے سوائے ہمارا کوئی کام نہیں رھا۔سندھ طاس معاھدہ کے مطابق تین دریاؤں کا پانی جو پاکستان آنا تھا سب پر انڈیا ڈیم بناکر یا پانی کا رخ موڑ کر پاکستان کوبنجر بنانے کے منصوبہ پر کاربند ھے اور ھمارے حکمران ھوں یا نمائندے سب سو رھے ھیں۔یہاں تک کہ خبر تھی کہ جو ھمارا نمائندہ بھارت کے ساتھ مزاکرات کرتا تھا وہ انڈیا کا زرخرید تھا۔گزشتہ روز المصطفے فاؤنڈیشن کے زیر انتظام فری میڈیکل کیمپس کے سلسلے میں بھوآنہ جانا ھوا تو دریا چناب کی سیر بھی کی جو کہ ایک صحرا کا منظر پیش کررھا تھا۔ابھی اکتوبر تھا اور دریا بالکل خشک کہیں کچھ پانی کھڑا تھا۔باقی ریت ھی ریت تھی جوکہ یہ پیغام دے رھی تھی کہ غافل ۔نااہل قوم عنقریب ہر طرف ریت ہی ریت ھوگی۔بے ایمان دنیا پرست۔لالچی۔قوم کا آخر انجام یہ ھی ھے۔قدرت کے بے شمار انعامات کو ضائع کرنے والے اب قدرت کے انتقام کا انتظار کریں۔ھمارے ساتھ معروف لکھاری اور سماجی کارکن ڈاکٹر غلام حسین زاہد اور بھوآنہ کے سماجی کارکن سید اعجاز بخاری اور اعجاز نصیری بھی تھے جنہوں نے بتایا کہ شوگر مل کے کیمیکل شدہ پانی کس طرح زیر زمین ڈالا گیا اور اب تمام گاؤں بستی کے لوگ جو پہلے عام نلکے کا پانی پیتے تھے اب وہ پینے کے قابل نہیں رھا۔دریا کے اردگرد دور دور تک سرسبز لہلہاتے کھیت ھوسکتا ھے چند سالوں بعد نظر نہ آھیں کیونکہ سپیکر پنجاب اسمبلی کہ چکے ھیں آئندہ پندرہ سالوں میں ایک ایک بوند پانی کو ترسو گے۔بات ٹھیک ھے انکی لیکن جس پارٹی کے وہ ممبر ھیں اور جو پارٹی انکی اتحادی ھے دونوں کی تو ملز ھیں۔اور یہ ظلم عظیم پچھلے چالیس سال سے جاری ھے جس انجام اب قریب ھے۔ملک احمد خان کاش یہ بھی بتاتے کہ ایون فلیڈ والے اور سرے محل والے سبھی اپنے اپنے گھروں کو چلے جاھیں گے اورھم عوام مرنے کے لیے یہاں رہ جاھیں گے۔پانی پانی جی ھاں اب پانی سر سے گزر چکا ھے۔لیکن اب بھی ہوش کے ناخن لو جاگ جاؤ اور بھارت سمیت اینے غداروں سے بھی حساب لو۔اور سفید زہر بنانے والوں سے بھی حساب لو کہ زیر زمین پانی کو خراب کرنے والوں اب ٹھیک بھی تم کرو۔
دل کی بات
خ ح شہزاد