خوشاب (راجہ نورالہی عاطف سے) پکھلین ادبی سوسائٹی کے زیر اہتمام معروف کالم نگار و ادیب سراج احمد تنولی کی تین کتب “بات کر کے دیکھتے ہیں” ، “انسائیکلوپیڈیا مانسہرہ” اور “مایسطرون” کی تقریب رونمائی کا انعقاد کیا گیا۔
جس میں خوشاب سمیت دیگر علاقوں سے معروف علمی و ادبی شخصیات نے شرکت کی۔ تقریب کی صدارت پاکستان کی معروف علمی و ادبی شخصیت شاعر و ادیب صدارتی ایوارڈ یافتہ اور شفیق استاد احمد حسین مجاہد نے کی۔ مہمان خصوصی پاکستان کے معروف خطاط، کیلی گرافر، شاعر اور افسانہ نگار حافظ محمد نعیم یاد تھے۔ نظامت کے فرائض نہات نفیس اور خوبصورت لب و لہجہ رکھنے والی علمی شخصیت تبارک حسین نے سر انجام دیے۔
تلاوت کلام پاک کی سعادت حافظ محمد خنظلہ نزیر کو حاصل ہوئی۔۔
پہلی کتاب “بات کر کے دیکھتے ہیں” پر تخلیقی مقالہ معروف شاعر میجر (ر) امان اللّٰہ امان نے پڑھا۔
دوسری کتاب “انسائیکلو پیڈیا مانسہرہ” پر تخلیقی و تنقیدی مضمون معروف شاعر و نقاد احمد ریاض نے پڑھا جبکہ
تیسری کتاب “مایسطرون” پر تحقیقی و تخلیقی مقالہ معروف عالم دین معروف محقق حضرت مولانا مفتی عنایت الرحمان ہزاروی نے پڑھا۔
تقریب کے آخر میں میزبان ڈائریکٹر جناح کالجز سر فیاض نے معززین محفل کا شکریہ ادا کیا اور سراج احمد کی ادبی و صحافتی خدمات پر بھرپور خراج تحسین ادا پیش کیا۔ احمد حسین مجاہد ، تبارک جمال اور فیاض حسین نے مصنف کے والد محترم کو بہترین انداز میں خراج تحسین پیش کیا اور مبارک باد دی۔
تقریب میں مصنف سراج احمد تنولی کے والد محترم جان محمد تنولی ، ان کے چچا نزیر احمد، ڈاکٹر لال محمد، ڈاکٹر عادل سعید قریشی ، تاج الدین تاج ، قمر زمان ، رحمان شاہ ، نور الحق ، محمد حسیب، لقمان احمد ، سردار تنولی ، جاوید تنولی ،بابر تنولی ، قدیر شریف تنولی ، عبداللّٰہ بلال، محمد حذیفہ، عظیم ناشاد ، ملک محمد بلال ، نوید رحمان ، قلب ویلفئر کے چیئرمین ظہور معاویہ ، عمر افتخار ، محمداویس ، محمدزوہیب اور محمد وقاص خواجہ اور طلحہ اکرم کے علاوہ میڈیا کے دوست اور کئی اہم شخصیات نے پروگرام میں شرکت کر کے محفل کو چار چاند لگا دیے۔
* دروازۂ جہنم —* ایک ایسا گڑھا جو پچاس سال سے مسلسل جل رہا ہے
*ڈاکٹر قالیباف :* فلسطین کے بغیر امن و استحکام نہیں ہوسکتا۔
اتنا عبرت ناک انجام
190 ملین پاؤنڈ کیس میں عمران خان اور بشریٰ بی کی اپیلوں کی سماعت 29 جون کو ہوگی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے کیس مقرر کر دیا ہے۔
دل۔کی بات۔خ ح شہزاد مشن حسینی کی تکمیل کے لیے ضروری ھے