*بیدار ہونے تک*
*عنوان: تاریخ، ہجرت اور سیاسی بیانیوں کا غیر جانب دار جائزہ*
*کالمکار: جاوید صدیقی*
تاریخ صرف ماضی کا بیان نہیں ہوتی بلکہ وہ قوموں کے اجتماعی شعور، موجودہ سیاسی رویوں اور مستقبل کی سمت کا بھی تعین کرتی ہے۔ اسی لیے تاریخ کے کسی المناک واقعے کو سیاسی مفاد کے لیے یک طرفہ انداز میں پیش کرنے کے بجائے ضروری ہے کہ اسے دستیاب دستاویزات، سرکاری اعداد و شمار، جغرافیائی حقائق اور مختلف فریقوں کے تجربات کی روشنی میں سمجھا جائے۔برصغیر کی تقسیم اور سنہ 1947ء کی ہجرت انسانی تاریخ کے بڑے ترین آبادیاتی سانحات میں شمار ہوتی ہے۔ لاکھوں خاندان اپنے گھر، کاروبار، زمینیں اور آبائی بستیاں چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ یہ ہجرت محض اعداد و شمار کا معاملہ نہیں بلکہ انسانی المیے، خوف، عدم تحفظ، بچھڑنے اور ازسرنو زندگی شروع کرنے کی ایک طویل داستان ہے۔اس تاریخی پس منظر میں آج بھی پاکستان کے مختلف علاقوں میں مہاجرین کی آبادکاری اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی آبادیاتی تبدیلیاں سیاسی بحث کا موضوع ہیں۔ خصوصاً سندھ میں یہ سوال بارہا اٹھایا جاتا ہے کہ سنہ 1947ء کے بعد آنے والے مہاجرین کس طرح اور کن حالات میں سندھ اور کراچی میں آباد ہوئے۔ بعض قوم پرست حلقوں کی طرف سے یہ مؤقف بھی سامنے آتا رہا ہے کہ مہاجرین کو پنجاب سے آگے سندھ کی طرف دھکیلا گیا۔ تاہم کسی بھی تاریخی دعوے کو حتمی حقیقت قرار دینے سے پہلے اسے مستند تاریخی ریکارڈ سے جانچنا ضروری ہے۔ سنہ 1951ء کی پہلی مردم شماری اس بحث کے لیے بنیادی سرکاری ماخذ فراہم کرتی ہے۔ مردم شماری کے مطابق پاکستان میں مہاجرین کی تعداد 72 لاکھ 26 ہزار 584 تھی۔ ان میں 52 لاکھ 81 ہزار 194 پنجاب و بہاولپور میں، 6 لاکھ 16 ہزار 906 کراچی کے وفاقی دارالحکومت کے علاقے میں اور 5 لاکھ 50 ہزار 291 سندھ و خیرپور میں شمار ہوئے۔ اس حساب سے پنجاب و بہاولپور میں آباد مہاجرین کا حصہ تقریباً 73 فیصد بنتا ہے، جبکہ کراچی اور سندھ و خیرپور کو الگ شمار کیا جائے تو دونوں کا مجموعہ تقریباً 16 فیصد بنتا ہے۔ یہ اعداد اس بات کی واضح نشاندہی کرتے ہیں کہ تقسیم کے بعد پاکستان آنے والے مہاجرین کی سب سے بڑی تعداد پنجاب و بہاولپور میں آباد ہوئی۔ اس لیے یہ عمومی تاثر کہ تمام یا تقریباً تمام مہاجرین سندھ منتقل ہوگئے تھے، سنہ 1951ء کی مردم شماری کے اعداد و شمار سے مطابقت نہیں رکھتا۔ لیکن یہاں ایک اہم احتیاط بھی ضروری ہے۔ مردم شماری کے اعداد و شمار یہ ضرور بتاتے ہیں کہ مہاجرین کہاں آباد ہوئے، مگر محض ان اعداد سے یہ حتمی طور پر ثابت نہیں کیا جاسکتا کہ کسی خاص گروہ نے کسی دوسرے گروہ کو دانستہ طور پر کسی صوبے کی طرف دھکیلا یا نہیں۔ اس سوال کے لیے اُس دور کے سرکاری احکامات، مہاجر کیمپوں کے ریکارڈ، نقل و حمل کے انتظامات، متروکہ املاک کے فیصلوں، انتظامی مراسلات اور عینی شہادتوں سمیت متعدد بنیادی ذرائع کا تقابلی مطالعہ ضروری ہے۔ یہ فرق سمجھنا بہت اہم ہے، کیونکہ ایک طرف تاریخی اعداد و شمار کو نظرانداز کرنا درست نہیں اور دوسری طرف کسی ایک عدد کو بنیاد بنا کر تاریخ کے تمام پیچیدہ عوامل کا فیصلہ بھی نہیں کیا جاسکتا۔
”پنجاب میں بڑی تعداد کیوں آباد ہوئی؟“ تقسیم کے وقت پنجاب خود دو حصوں میں تقسیم ہوا۔ مشرقی پنجاب سے آنے والے مسلمان مہاجرین کے لیے مغربی پنجاب جغرافیائی اعتبار سے قریب ترین خطہ تھا۔ مردم شماری کے اعداد بھی ظاہر کرتے ہیں کہ مشرقی پنجاب اور اس سے ملحقہ علاقوں سے آنے والے مہاجرین کی بڑی اکثریت مغربی پنجاب میں آباد ہوئی۔ ایک تحقیقی ماخذ کے مطابق مشرقی پنجاب اور ملحقہ علاقوں سے آنے والے تقریباً 97 فیصد مہاجرین مغربی پنجاب میں آباد ہوئے۔اس کی ایک بڑی وجہ جغرافیائی قربت کے ساتھ ساتھ معاشی اور معاشرتی مماثلت بھی تھی۔ بہت سے مہاجرین دیہی اور زرعی پس منظر رکھتے تھے اور مغربی پنجاب میں موجود زرعی علاقوں میں ان کی آبادکاری نسبتاً فطری جغرافیائی سمت اختیار کرتی تھی۔ بعد کے عرصے میں ان میں سے بڑی تعداد مقامی معاشرے میں ضم بھی ہوگئی۔ ایک تحقیقی مطالعے میں بھی پنجاب میں آباد ہونے والے مہاجرین کے نسبتاً تیز معاشرتی انضمام اور سندھ میں آباد ہونے والے مہاجرین کے مختلف لسانی و ثقافتی پس منظر کی نشاندہی کی گئی ہے۔
”کراچی اور سندھ کی صورتحال مختلف کیوں رہی؟“
دوسری جانب کراچی اور شہری سندھ کی صورت حال مختلف تھی۔ سنہ 1951ء کی مردم شماری میں کراچی کے وفاقی دارالحکومت کے علاقے میں 6 لاکھ 16 ہزار 906 مہاجرین درج ہوئے، جو کراچی کی مجموعی آبادی کا تقریباً 55 فیصد تھے۔ یہ تبدیلی اس لیے بھی غیر معمولی محسوس ہوئی کہ کراچی کی آبادی تقسیم سے قبل نسبتاً کم تھی اور سنہ 1947ء کے بعد شہر کو پاکستان کا دارالحکومت بنائے جانے سے اس کی انتظامی، تجارتی اور معاشی اہمیت بہت بڑھ گئی۔ دستیاب تحقیقی مواد کے مطابق کراچی میں مہاجر آبادی کے بڑے حصے کا تعلق ہندوستان کے مختلف شہری علاقوں سے تھا، جبکہ سندھ کے دوسرے شہری مراکز، بالخصوص حیدرآباد، میں بھی مہاجر آبادی نمایاں تعداد میں آباد ہوئی۔ سنہ 1951ء میں حیدرآباد کی کل آبادی 2 لاکھ 41 ہزار 801 تھی، جس میں 1 لاکھ 59 ہزار 805 مہاجرین شمار ہوئے۔ یوں سندھ اور بالخصوص کراچی میں مہاجرین کی تعداد مجموعی قومی تناسب کے اعتبار سے پنجاب سے کہیں کم ہونے کے باوجود مقامی آبادی کے تناسب سے ان کا اثر بہت نمایاں تھا۔ یہی آبادیاتی تبدیلی آگے چل کر زبان، شناخت، سیاست، روزگار، شہری وسائل اور نمائندگی کے سوالات سے جڑتی گئی۔
”اعداد و شمار سے آگے بھی تاریخ موجود ہے“
یہاں ایک بنیادی نکتہ نظر انداز نہیں ہونا چاہیے کہ سنہ 1947ء کی ہجرت ایک واحد راستے، ایک واحد طبقے یا ایک ہی نوعیت کے لوگوں کی ہجرت نہیں تھی۔ ہندوستان کے مختلف علاقوں سے مختلف لسانی، معاشرتی اور معاشی پس منظر رکھنے والے مسلمان پاکستان آئے۔ پنجاب سے آنے والوں کی بڑی تعداد کا راستہ اور منزل جغرافیائی طور پر مختلف تھی، جبکہ یوپی، دہلی، بہار، گجرات، بمبئی اور ہندوستان کے دیگر علاقوں سے آنے والے افراد کے لیے کراچی اور سندھ کے شہری مراکز روزگار، تجارت، تعلیم اور انتظامی مواقع کے اعتبار سے زیادہ موزوں ہوسکتے تھے۔ سنہ 1951ء کے سرکاری اعداد و شمار میں بھی مہاجرین کے سابقہ علاقوں اور ان کی نئی آبادکاری کے مقامات میں واضح علاقائی فرق دکھائی دیتا ہے۔ لہٰذا یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ پاکستان میں مہاجرین کی آبادکاری مختلف جغرافیائی، معاشی، انتظامی اور سماجی عوامل کا نتیجہ تھی۔ اسے صرف ایک سیاسی جماعت، ایک قوم یا ایک صوبے کی دانستہ پالیسی قرار دینا تاریخی پیچیدگی کو غیر ضروری طور پر سادہ بنا دیتا ہے۔
”سندھ کا احساسِ محرومی بھی ایک تاریخی حقیقت ہے“
غیر جانب دارانہ تجزیے کا تقاضا یہ بھی ہے کہ اگر ایک طرف کسی سیاسی بیانیے کے تاریخی دعوے کو اعداد و شمار کی بنیاد پر پرکھا جائے تو دوسری طرف سندھ کے مقامی باشندوں کے احساسِ محرومی کو بھی نظرانداز نہ کیا جائے۔ کراچی اور سندھ کے شہری علاقوں میں آبادیاتی تبدیلی نے زبان، سرکاری ملازمتوں، شہری زمین، تعلیمی مواقع، کاروباری سرگرمیوں اور سیاسی نمائندگی کے بارے میں نئے سوالات پیدا کیے۔ دوسری طرف ہندوستان سے ہجرت کرکے آنے والے خاندانوں نے بھی اپنے گھر بار چھوڑ کر ایک نئے ملک میں زندگی دوبارہ شروع کی اور ریاست کی تعمیر میں مختلف شعبوں میں کردار ادا کیا۔ اس لیے تاریخ کو ایک فریق کی فتح اور دوسرے کی شکست کے طور پر پیش کرنے کے بجائے اسے مشترکہ قومی تاریخ کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔
”سیاست کے لیے تاریخ کا استعمال:“
مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب تاریخی دکھ، قربانیاں اور آبادیاتی تبدیلیاں موجودہ سیاست میں نفرت، تعصب یا مستقل تقسیم پیدا کرنے کے لیے استعمال ہونے لگیں۔ کسی بھی قوم یا لسانی گروہ کو اجتماعی طور پر جھوٹا، غدار، لٹیرا یا دشمن قرار دینا نہ تاریخی تحقیق ہے اور نہ ہی صحافت۔اسی طرح مہاجرین کی قربانیوں اور مشکلات کو نظرانداز کرنا بھی انصاف نہیں۔ جو لوگ اپنے گھر بار چھوڑ کر ایک نئے وطن میں آئے، ان کی خدمات اور قربانیوں کو تسلیم کرنا قومی تاریخ کا حصہ ہے۔ اسی طرح سندھ کے مقامی باشندوں کے تاریخی، ثقافتی اور سیاسی حقوق کا احترام بھی اتنا ہی ضروری ہے۔پاکستان کی موجودہ نسل کو ماضی کے زخموں سے سبق لینا چاہیے، انہیں مستقل سیاسی تنازعات میں تبدیل نہیں کرنا چاہیے۔
”مستقبل کا راستہ کیا ہے؟“
آج پاکستان کو سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ شہری کی شناخت اس کی زبان، نسل، صوبے یا آبائی علاقے کے بجائے اس کے آئینی حقوق اور مساوی شہریت سے کی جائے۔کراچی جیسے بڑے شہر میں انتظامی مسائل کا حل بھی محض لسانی سیاست میں نہیں بلکہ مؤثر بلدیاتی نظام، شفاف مقامی حکومت، اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی، میرٹ پر ملازمتوں، بہتر شہری منصوبہ بندی اور قانون کی یکساں عمل داری میں ہے۔چھوٹے، بااختیار اور جواب دہ انتظامی و بلدیاتی یونٹس شہریوں کو ان کی دہلیز پر سہولیات فراہم کرسکتے ہیں۔ اگر مقامی حکومتوں کو حقیقی اختیارات، وسائل اور جواب دہی دی جائے تو شہریوں کے بنیادی مسائل کے حل میں بہتری آسکتی ہے۔یہی اصول پورے پاکستان پر لاگو ہوتا ہے۔ کسی بھی صوبے یا شہر کی محرومی کا حل دوسرے صوبے یا قوم کو موردِ الزام ٹھہرانا نہیں بلکہ ایسا نظام قائم کرنا ہے جس میں ہر شہری کو تعلیم، صحت، روزگار، تحفظ، انصاف اور باعزت زندگی کے مساوی مواقع حاصل ہوں۔
”٤تاریخ ہمیں تقسیم ہونے کے لیے نہیں، سمجھنے کے لیے ملتی ہے۔“
سنہ1947ء کے واقعات میں ہر فریق کے اپنے دکھ، قربانیاں اور تجربات ہیں۔ ان تجربات کو تسلیم کرتے ہوئے اگر ہم مستند اعداد و شمار، تاریخی دستاویزات اور مختلف نقطۂ نظر کو سامنے رکھیں تو شاید وہ سیاسی دیواریں کم ہوسکیں جو کئی دہائیوں سے معاشرے کو تقسیم کرتی آئی ہیں۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ نئی نسل کو جذباتی نعروں کے بجائے تحقیق، دلیل اور تاریخ کے اصل ماخذ سے آگاہ کیا جائے۔ نہ کسی قوم کو اجتماعی طور پر مجرم قرار دیا جائے اور نہ کسی تاریخی حقیقت کو سیاسی مصلحت کے تحت چھپایا جائے۔پاکستان کی ترقی کا راستہ ماضی کے زخم کریدنے سے نہیں بلکہ سچ، انصاف، مساوی شہریت، مضبوط اداروں، شفاف حکمرانی اور بااختیار مقامی نظام سے نکلے گا۔اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں واقعی بیدار ہونے کی ضرورت ہے۔









