ریکارڈ درست رکھیے کہ تحریک انصاف نے اسمبلی فلور پہ واضح اعلان کیا کہ ہماری جماعت 26 ویں آئینی ترمیم کے مسودے پہ مولانا سمیت کسی ایک پوائنٹ پہ بھی متفق نہیں تھی نہ ہے ۔ اس اعلان کے ساتھ مزید تفصیلی وضاحت چیئرمین بیرسٹر گوہر نے پارلیمان میں اپنی تقریر میں کی
ریکارڈ درست رکھیے کہ تحریک انصاف نے اسمبلی فلور پہ واضح اعلان کیا کہ ہماری جماعت 26 ویں آئینی ترمیم کے مسودے پہ مولانا سمیت کسی ایک پوائنٹ پہ بھی متفق نہیں تھی نہ ہے ۔ اس اعلان کے ساتھ مزید تفصیلی وضاحت چیئرمین بیرسٹر گوہر نے پارلیمان میں اپنی تقریر میں کی کہ کیسے یہ آئینی ترمیم عدلیہ کے پر کاٹنے اور آئین اور جمہوریت پہ شب خون کی بدترین کوشش ہے۔
چیف جسٹس کی تقرری کےلیے جعلی حکومت نے مولانا سے وعدے کرتے ہوئے پارلیمانی کمیٹی میں اپوزیشن اور حکومتی بینچز سے برابر تعداد لینے اور دو تہائی اکثریت سے منظوری پہ اتفاق کیا تھا لیکن اب بارہ رکنی کمیٹی کا اعلان جماعتی بنیادوں پہ کیا گیا ہے جس میں تحریک انصاف کے حصے میں تین ممبرز آئے ہیں ۔ تحریک انصاف اور مولانا کے ملا کر ٹوٹل چار ارکان ہیں۔ یوں دونوں ایوانوں سے حکومت کو آٹھ ارکان ملے ہیں اور دو تہائی اکثریت پوری یے لہذا اس کمیٹی میں اپوزیشن کا کردار ہی نہیں ۔
تحریک انصاف اس حوالے سے کوئئ مؤثر کردار ادا کر ہی نہیں سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ تحریک انصاف نے پارلیمانی کمیٹی میں حصہ لینے کے بجائے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا ہے۔
ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کی جانب سے چھبیسویں آئینی ترمیم کو مکمل طور پہ مسترد کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے ریکارڈ درست رہنا چاہیے ۔ یہ ترمیم آئین سے بلکل متصادم ہے اور نامکمل ایوان میں ہونے والی کوشش ہے جس پہ قاضی کے جاتے ہی تحریک انصاف سپریم کورٹ جائے گی ۔ قوم عدلیہ سے یقین رکھتی ہے کہ وہ اس آمرانہ کوشش کے رستے میں رکاوٹ بنتے ہوئے اس ترمیم کو کالعدم قرار دے ۔
اگر سینئر موسٹ جج کے علاؤہ چیف جسٹس بنایا گیا تو اس حوالے سے ملک کی سب سے بڑی نمائندہ جماعت پاکستان تحریک انصاف سٹریٹ موومنٹ شروع کرے گی اور قوم کو ڈی چوک کی کال دے گی ۔ حکومت کو یہ پیغام بھیج دیا گیا ہے ۔
عمران خان کے ساتھ جیل میں ناروا سلوک ہمارا سب سے اہم کنسرن ہے ۔ اس کے علاؤہ اگر اس آئینی ترمیم کی آڑ میں کپتان کی رہائی کے رستے میں رکاوٹ پیدا کی گئی تو اس حوالے سے تحریک انصاف بھرپور سٹریٹ موومنٹ پہ مجبور ہو گی اور ان شاءاللہ پوری قوم اپنے کپتان کی رہائی کےلیے اس کٹھ پتلی اور جعلی حکومت کا چلنا ناممکن بنا دیں گے۔ اگر عدلیہ کو مفلوج کیا گیا تو آخری فیصلہ جمہور خود کرے گی۔
کپتان کی پچھلے 443 دنوں سے اسیری کے پیچھے واحد وجہ عمران خان اور قوم کو عدلیہ اور آئین پہ اعتماد تھا اور اگر یہ ختم ہوا تو پھر فیصلے سڑکوں پہ ہوں گے۔