132

25 جون کو وفات پانے والی چند مشہور شخصیات

25 جون کو وفات پانے والی چند مشہور شخصیات
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

2009ء مائیکل جیکسن – امریکی فنکار

جان بویڈ اور (23 ستمبر1880ء – 25 جون1971ء), جو کہ1935ء سے 1949ء تک سر جون بوائڈ اور کے نام سے جانے جاتے تھے۔ سکاچ ٹیچر، معالج، ،حیاتیاتدان اور سیاست دان تھے جنھوں نے نوبل امن انعام حاصل کیا۔ انھیں یہ انعام غزائیات میں انکی سائنسی تحقیق پر دیا گیا۔ وہ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے ادارہ برائے خوراک و زراعت کے پہلے ڈائریکٹر جنرل تھے۔

25 جون 1953 ۔یوم وفات حکیم سید محمد کرم حسین تجارہ، الور سے تعلق رکھنے والے یونانی طب کے ایک نامور ہندوستانی حکیم تھے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی شہر تجارہ سے حاصل کی۔ وہ 14 سال کی عمر میں میروت منتقل ہو گئے۔ میروت میں انہوں نے دو نامور حکیموں حکیم محمد حسین حازق اور حکیم بلدیو سہائی سے طب یونانی میں مہارت، علم اور قابلیت حاصل کی
حکیم حسین حازق (وفات 1928ء) بہت سی یونانی ادویات کی کتابوں کے مصنف تھے جن میں ” لطیف غالب” بھی شامل ہے جو نامی پریس میروت نے شائع کی۔ جب کہ حکیم بلدیو سہائی بذات خود حکیم احسن اللہ خان کے شاگرد تھے جو شہنشاہ بہادر ظفر کے شاہی طبیب اور وزیر اعظم تھے۔ حکیم سید کرم حسین نے 1893ء میں تجارہ، الور میں یونانی طب میں اپنا کیرئیر شروع کیا اس نے 1894ء میں دوا خانہ شفاءالمراہ کے نام سے یونانی دوا خانہ کھولا۔ وہ مہاراج الور جے سنگھ پربھارکر (1882ء-1937ء) کے ذاتی معالج بھی تھے۔ سید کرم حسین آل انڈیا آیوروید اور طب یونانی کے کمیٹی کے رکن بھی تھے جس کے صدر حکیم اجمل خان تھے۔ مہاراج جے سنگھ پربھارکر نے ایک بار اہم اداروں اور الور میں یونانی اطباء کو مدعو کیا جس کا مقصد یونانی طب کے فروغ اور مستقبل میں یونانی طب کی ترقی پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔ حکیم سید کرم حسین اس وفد کے سربراہ مشن تھے۔ اس وفد میں دیگر نامور اطباء جن میں حکیم سید محمد( خیرتال) ، حکیم محمد سلیمان، حکیم محمد عمر فصیح، حکیم امام علی، حکیم سید احمد علی اکبر آبادی اور حکیم ضیاء الدین (تجارہ) شامل تھے۔ حکیم سید ہندوستان کی تقسیم سے قبل رئیس تجارہ کے طور پر مقبولیت حاصل کر چکے تھے۔ اور قاضی محلہ کے بہت مذہبی اور پارسا انسان کے طور پر جانے جاتے تھے۔ انہوں نے تجارہ میں سات حویلیاں خریدیں جن میں قاضی محلہ کی سب سے قدیم حویلی ” حویلی قدیم ” بھی شامل تھی۔ اس کے علاوہ ان کے دہلی میں دو گھر مزید بھی تھے۔ ان کی پسندیدہ جگہوں میں “ابو ماؤنٹین” اور دہلی شامل تھے۔

1995ء۔۔ارنسٹ والٹن ایک آئر رلینڈ کے طبیعیات دان اورنوبل انعام برائے طبیعیات نوبل انعام جیتنے والے سائنس دان تھے۔ انھوں نے یہ انعام 1951ء میں پیڑ زیمین کے ساتھ مشترکہ جیتا ،جس کی ایٹامک نیوکلس کی ایٹمی زرات کے ذریعے ٹرانس میوٹیشن کرنے میں ان کے قابل قدر کارنامے تھے۔تاریخ پیدائش ۔06 اکتوبر 1903

1999ء۔۔سید محمد تقی ٭پاکستان کے نامور فلسفی، دانشور اور روزنامہ جنگ کراچی کے سابق مدیر سید محمد تقی کی تاریخ پیدائش 2 مئی 1917ء ہے۔ سید محمد تقی امروہہ میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ مشہور شاعر رئیس امروہوی کے چھوٹے بھائی تھے۔ ان کی تصانیف میں تاریخ و کائنات: میرا نظریہ، پراسرار کائنات، منطق، فلسفہ اور تاریخ، نہج البلاغہ کا تصور الوہیت اور روح اور فلسفہ کے نام شامل ہیں۔ ان کے علاوہ انہوں نے کارل مارکس کی مشہور تصنیف داس کیپٹال کو بھی اردو میں منتقل کیا تھا۔ ان کا شمار پاکستان کے صف اوّل کے فلسفیوں اور دانشوروں میں ہوتا تھا۔ 25جون 1999ء کو سید محمد تقی کراچی میں وفات پاگئے اور سخی حسن کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔

1944ء۔۔نواب بہادر یار جنگ ٭ جدوجہد آزادی کے نامور رہنما نواب بہادر یار جنگ کا اصل نام محمد بہادر خان تھا اور وہ 3 فروری 1905ء کو حیدرآباد دکن میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ ایک شعلہ بیان مقرر تھے۔ 1927ء میں انہوں نے مجلس تبلیغ اسلام کے نام سے ایک جماعت قائم کی بعدازاں وہ علامہ مشرقی کی خاکسار تحریک اور مجلس اتحاد المسلمین کے سرگرم کارکن رہے۔ وہ آل انڈیا مسلم لیگ کے اہم رہنمائوں میں شامل تھے اور قائداعظم محمد علی جناح کے قریبی رفقا میں شمار ہوتے تھے۔ مارچ 1940ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کے جس اجلاس میں قرارداد پاکستان منظور ہوئی اس میں آپ نے بڑی معرکہ آرا تقریر کی تھی۔ نواب بہادر یارجنگ آل انڈیا اسٹیٹس مسلم لیگ کے بانی اور صدر بھی تھے۔ آپ کو قائد ملت اور لسان الامت کے خطابات سے نوازا گیا تھا۔ 25 جون 1944ء نواب بہادر یار جنگ حیدر آباد دکن میں وفات پا گئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں