October 28, 2026

*جامعہ کراچی میں اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پردوروزہ بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد*

IMG-20241008-WA0624

*جامعہ کراچی میں اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پردوروزہ بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد*

*سائنس کے شعبہ میں ترقی کے بغیر ملک کی ترقی ایک خواب کی مانند ہے۔ڈاکٹر خالد عراقی*

*پاکستان میں سائنس وٹیکنالوجی کے معجزات کی باتیں کی جاتی ہیں لیکن اس میں سرمایہ کاری کرنے کو تیارنہیں۔ڈاکٹر خالد عراقی*

کراچی (رپورٹ: جاوید صدیقی) جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ سائنس کے شعبہ میں ترقی کے بغیر ملک کی ترقی ایک خواب کی مانند ہے، عصر حاضر میں سائنسی ایجادات نے دنیا کو ورطہ حیرت میں مبتلا کردیا ہے۔ صرف وہ ہی اقوام ترقی کی منازل طے کررہی ہیں جنہوں نے سائنس کو ترجیح دی۔ خلائی سائنس کی ترقی نے انسانی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ خلائی سائنس اور ٹیکنالوجی میں تحقیق ایک بہت وسیع میدان ہے۔ پاکستان میں سائنس و ٹیکنالوجی کے معجزات کی باتیں کی جاتی ہیں لیکن اس میں سرمایہ کاری کرنے کو تیار نہیں اور سائنس و ٹیکنالوجی پر سرمایہ کاری کئے بغیر ہم اس کے ثمرات سے مستفید نہیں ہوسکتے۔ عصر حاضر مقابلے کا نہیں بلکہ اشتراکیت ہے جس کی ایک بڑی مثال یورپی یونین ہے۔ ہمیں ٹیکنالوجیز میں ایک دوسرے سے مقابلہ کرنے کے بجائے اشتراکیت کو فروغ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ وسائل کے بغیر آپ ٹیکنالوجیز کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے انسٹی ٹیوٹ آف اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی جامعہ کراچی کے زیر اہتمام چائنیز ٹیچرز میموریل آڈیٹوریم جامعہ کراچی میں منعقدہ دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس بعنوان:”اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی“ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ڈاکٹر خالد عراقی نے مزید کہا کہ عصرحاضر میں دنیا خلائی سائنس اور ٹیکنالوجی کو دفاعی مقاصد کے لئے استعمال کررہی ہے۔ کمیونیکشن کے شعبہ میں انقلاب انگیز ایجادات اور دریافت خلائی سائنس کا ہی نتیجہ ہے۔ ہم اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے شعبہ میں کافی ممالک سے پیچھے ہیں جو لمحہ فکریہ ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہماری قومی ترجیحات میں اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کو شامل کیا جائے اور مناسب سرمایہ کاری کرکے اسکا انفرااسٹرکچر مرتب کیا جائے۔ انسٹی ٹیوٹ آف اسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی جامعہ کراچی کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر محمد جاوید اقبال نے کہا کہ اسپیس سائنس محض علم فلکیات نہیں بلکہ اس میں اسپیس ٹیکنالوجی کے مختلف شعبے موجود ہیں جن میں سیٹلائٹ کمیونیکشن، ایرو اسپیس سائنس، ریموٹ سنسنگ، جی آئی ایس اور اسپیس فلائٹ ڈائنامکس شامل ہیں۔ہمارے طلبہ جو ان شعبوں سے فارغ التحصیل ہوتے ہیں ان کے لئے ٹیلی کام، اربن پلانننگ، انٹرنیٹ اور ٹی وی چینلز انڈسٹریز میں ملازمت کے بہترین مواقع میسر آتے ہیں۔ہمارے نوجوانوں کو چاہئے کہ وہ اپنی سائنسی صلاحیتوں میں اضافے کے لئے کوشاں رہیں۔ کانفرنس میں امریکہ، چین اور ملک بھر کی مختلف جامعات کے اسکالرز نے اپنے تحقیقی مقالاجات پیش کئے۔ کانفرنس کے دوسرے روز بھی قومی و بین الاقوامی اسکالرز اپنے مقالاجات پیش کریں گے۔