*رائے بہادر سر گنگا رام* منگل 08 اکتوبر 2024 انجینئر نذیر ملک سرگودھا
*رائے بہادر سر گنگا رام*
منگل 08 اکتوبر 2024
انجینئر نذیر ملک سرگودھا
ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے
آتے ہیں جو کام دوسروں کے
سرگنگارام اسپتال لاہور کو ہم ایسا ہی جانتے ہیں جیسے کراچی میں مزار قائد
لاہور شہر پر ان کے اتنے احسانات ہیں کہ اگر سر گنگا رام کو محسن لاہور کہا جائے تو یہ غلط نہ ہو گا اس عظیم انسان نے ایک مکمل اسپتال بنا کر لاہور شہر کو دے دیا تھا اور یہ اسپتال انھیں کے قائم کردہ ٹرسٹ آج تک چلا رہا ہے اور ہزاروں مریض روزانہ یہاں سے مفت علاج کی سہولت پا رہے ہیں یاد رہے سب مریضوں کو دو وقت کا کھانا بھی ٹرسٹ کی جانب سے دیا جاتا ہے۔
ضیاء الحق کے زمانے میں کچھ لوگوں نے مطالبہ کیا تھا کہ اس اسپتال کا نام تبدیل کیا جائے کیونکہ یہ ایک ہندو کے نام پر ہے اس پر جناب ضیاء الحق نے کہا تھا کہ آپ لوگ مجھے ایک ایسا اسپتال بنا دیں تو میں اس کا نام بدل کر دونگا۔
یاد رہے کہ وطن عزیز میں لوگ باتیں بنانے والے بہت ہیں مگر عملی طور پر صفر ہیں۔
سر گنگا رام ہندوستانی معمار اور تاجر (١٨۵١-١٩٢٧) تھے
رائے بہادر سر گنگا رام (اپریل 1851ء – 10 جولائی 1927ء) ایک معروف سول انجنیئر تھے، جو برطانوی ہند کے صوبہ پنجاب کے ایک چھوٹے گاؤں مانگٹاں والا میں پیدا ہوئے، جو اب پنجاب، پاکستان کا حصہ ہے۔
*معلومات شخصیت*
پیدائش اپریل 1851
مانگٹانوالا، برطانوی ہند (اب پاکستان)
وفات 10 جولائی 1927 (عمر 76) لندن میں انتقال کیا ان کا مذہب ہندو مت
عملی زندگی مادر علمی
انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی روڑکی
پیشہ کے اعتبار سے
انجینئر تھے اور شعبۂ عمل
زراعت تھی اور انکی وجہ شہرت انسان دوست، زرعی ماہر ہونا تھا۔
ان کے اعزازات میں
کمپینین آف دی آرڈر آف دی انڈین ایمپائر نائٹ بیچلر
انھوں نے تھامسن کالج آف سول انجینرنگ میں تعلیم حاصل کی جو اب انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی روڑکی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ انھیں اپنے وقت کے ایک معروف انسان دوست اور زرعی ماہر کے طور پر جانا جاتا ہے۔ عمارتیں آج بھی سر گنگا رام کی عظمت کی گواہی دے رہی ہیں۔ وہ ایک کہنہ مشق اور ذہین انجینئر، قابل زرعی سائنس دان اور سماجی کارکن تھے۔ ان کے شہر لاہور پر بے شمار احسانات ہیں۔
لاہور میں عجائب گھر، جنرل پوسٹ آفس، ایچی سی کالج، میواسکول آف آرٹس، میو ہسپتال کا سر البرٹ وکٹر ہال اور گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کا کیمسٹری ڈیپارٹمنٹ ان کے ڈیزائن کردہ ہیں۔ جبکہ سرگنگارام ہسپتال، ڈی اے وی کالج (موجودہ اسلامیہ کالج سول لائنز)، سرگنگارام گرلزاسکول (موجودہ لاہور کالج فارویمن)، ادارہ بحالی معذوراں اور دیگر بے شمار فلاحی ادارے اُنھوں نے اپنے ذاتی خرچ سے قائم کیے تھے۔
1925ء میں انھیں امپیریل بینک آف انڈیا کا صدر بنایا گیا۔ اسی دوران میں انھوں نے گنگا رام ٹرسٹ کا آغاز کیا۔ 10 جولائی 1927ء کو وہ اپنی لندن کی رہائش گاہ میں وفات پا گئے۔ ان کا جسم ہندو رسوم کے مطابق راکھ کر دیا گیا، جس میں سے نصف راکھ دریائے گنگا میں بہا دی گئی، جبکہ باقی ماندہ لاہور میں دریائے راوی کے کنارے ان کی سمادھی میں دفن ہے۔
سر گنگا رام اسپتال دہلی، گنگا بھون (انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی رُڑکی) اور سر گنگا رام ہیریٹیج فاؤنڈیشن لاہور اُن کے تعمیری اور خدماتی ورثے کی دیگر یادگاریں ہیں۔ ان کے اعزازات میں رائے بہادر اور سر کے خطاب کے علاوہ ممبر آف رائل وکٹورین آرڈر (MV0) اور کوم پینیئن آف دی انڈین ایمپائر (CIE) کے اعزازات شامل ہیں۔
یہ شخص ہندو ہونے کے باوجود اتنا بڑا مخیر اور انسان دوست تھا اور اگر یہ مسلمان ہوتا تو یقینا” ولی اللہ ہوتا۔
قرآن و حدیث کا سکالر ہونے کے باوجود کئی بار ذھن میں آتا ہے کہ سر گنگا رام کے نیک اعمال کیا ایسے ہی رد کر دیئے جائیں گے جبکہ میرا رب العالمین اور میزان قائم کرنے والا ہے۔
Please visit us @
www. nazirmalik.com
Cell:00923008604333