ایک کروڑ سے زائد لاگت سے تعمیر ہونے والا ریڑھی بازار فعال ہونے سے پہلے ہی ختم، تعمیرات اکھاڑ دی گئیں، سرکاری خزانے کو نقصان پہنچنے کا خدشہ۔
ایک کروڑ سے زائد لاگت سے تعمیر ہونے والا ریڑھی بازار فعال ہونے سے پہلے ہی ختم، تعمیرات اکھاڑ دی گئیں، سرکاری خزانے کو نقصان پہنچنے کا خدشہ۔
میلسی(محمدمختارسولگی) میں سرکاری وسائل کے استعمال اور ترقیاتی منصوبوں کی ناقص منصوبہ بندی کا ایک نیا معاملہ سامنے آگیا، جہاں شہر سے ریڑھیوں کا خاتمہ کرکے ٹریفک اور شہری مسائل پر قابو پانے کے لیے ایک کروڑ روپے سے زائد لاگت سے تعمیر کیا جانے والا ریڑھی بازار مقامی انتظامیہ کی مبینہ غفلت اور عدم توجہی کے باعث فعال ہی نہ ہوسکا، جبکہ اب اس کی تعمیرات بھی اکھاڑ دی گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق ریڑھی بازار کی اراضی مبینہ طور پر سہولت بازار اتھارٹی کے سپرد کردی گئی ہے، جہاں اتھارٹی کی جانب سے نئے فنڈز خرچ کرکے ازسرنو تعمیرات کے بعد سہولت بازار قائم کرنے کا منصوبہ ہے۔ قابل ذکر امر یہ ہے کہ مذکورہ ریڑھی بازار بھی عوامی مسائل کے حل اور شہر کی سڑکوں و بازاروں کو ریڑھیوں سے پاک کرنے کے مقصد کے تحت تعمیر کیا گیا تھا، جس پر قومی خزانے سے ایک کروڑ روپے سے زائد رقم خرچ ہوئی، تاہم مقامی انتظامیہ کی جانب سے منصوبے کو فعال بنانے، ریڑھی بانوں کو وہاں منتقل کرنے اور مستقل انتظامی نظام وضع کرنے میں مبینہ ناکامی کے باعث یہ منصوبہ اپنے بنیادی مقاصد حاصل نہ کرسکا۔ اب اسی مقام پر ایک نئے منصوبے کے تحت دوبارہ تعمیرات اور مزید سرکاری فنڈز کے استعمال کی تیاری حکومتی وسائل کے مؤثر استعمال، ترقیاتی منصوبوں کی منصوبہ بندی اور انتظامی نگرانی پر کئی سوالات کھڑے کر رہی ہے۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر پہلے منصوبے کو فعال بنانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جاتے تو نہ صرف ایک کروڑ روپے سے زائد کی سرمایہ کاری ضائع ہونے سے بچ سکتی تھی بلکہ شہر کو ریڑھیوں کے مسئلے سے بھی نجات مل سکتی تھی۔ عوامی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب، ڈپٹی کمشنر وہاڑی اور متعلقہ اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ریڑھی بازار کی تعمیر، اس پر خرچ ہونے والے سرکاری فنڈز، منصوبے کو فعال نہ بنانے کے اسباب، تعمیرات اکھاڑنے کے فیصلے اور اراضی سہولت بازار اتھارٹی کے حوالے کرنے کے معاملے کی شفاف انکوائری کرائی جائے اور ذمہ داران کا تعین کرکے جوابدہی یقینی بنائی جائے تاکہ سرکاری خزانے کے ضیاع اور ناقص منصوبہ بندی کے ایسے واقعات کا سدباب ہوسکے۔