قصور مچھلی فروشوں کی گراں فروشی عروج پر،لوگوں کو لوٹنے کا بازار سرعام گرم،حکومت خاموش تماشائی
قصور
مچھلی فروشوں کی گراں فروشی عروج پر،لوگوں کو لوٹنے کا بازار سرعام گرم،حکومت خاموش تماشائی
تفصیلات کے مطابق تاریخی شہر قصور کہ جہاں لوگ سیر و تفریح کیلئے آتے ہیں ،وہاں مقامی اور باہر سے آنے والے لوگوں کو مچھلی فروشوں نے لوٹنے کا بازار گرم کر رکھا ہے
مچھلی فروشوں کی گراں فروشی پر حکومت بھی خاموش ہے
500 روپیہ فی کلو کے حساب کچی مچھلی خرید کر اسے فرائی کرکے 2000 روپیہ فی کلو تک فروخت کر رہے ہیں جبکہ وہی مچھلی
چھوٹی دکانوں والے 1000 سے 1200 روپیہ فی کلو تک فروخت کرتے ہیں حالانکہ ساری مچھلی ایک ہی ہے
چھوٹی دکانوں والے کم منافع لے رہے ہیں جبکہ بڑی بڑی دکانوں والوں کا نام بھی بڑا اور منافع بھی بڑا ہے جو کہ کھلا تضاد ہے
اس مچھلی کو دریائے ستلج قصور کا کالا رہو کا نام دے کر فروخت کیا جاتا ہے اور لوگوں کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے جس پر شہریوں نے اے سی و ڈی سی قصور سے اس گراں فروشی کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا ہے
رپورٹ غنی محمود قصوری
بیورو چیف باغی ٹی وی
بیورو چیف دعا نیوز
کونسل ممبر ڈسٹرکٹ پریس کلب قصور
ممبر آل پاکستان جرنلسٹس اینڈ لائرز فورم
#قصوریات