November 4, 2026

پربھو کمار کلانی ایک ایسی ایک کا نام جو نا چاہتے ہوئے بھی کرکے دیکھانے کا نام

IMG-20261104-WA0090

پربھو کمار کلانی ایک ایسی ایک کا نام جو نا چاہتے ہوئے بھی کرکے دیکھانے کا نام

پی کے کلانی: غربت سے جدوجہد تک، ہنر، خودداری اور عزم کی ایک ناقابلِ فراموش داستان
کچھ لوگ حالات کے سامنے ہار مان لیتے ہیں، مگر کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو نامساعد حالات کو اپنی کامیابی کا راستہ بنا لیتے ہیں۔ پی کے کلانی بھی ایک ایسی ہی شخصیت ہیں جن کی زندگی جدوجہد، محنت، خودداری اور بے شمار صلاحیتوں کی عکاس ہے۔
زندگی ہمیشہ ہر انسان کو یکساں مواقع فراہم نہیں کرتی۔ کسی کو آسائشیں ورثے میں ملتی ہیں تو کسی کو اپنی منزل حاصل کرنے کے لیے غربت، مشکلات اور آزمائشوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ پی کے کلانی نے بھی اپنی زندگی میں ایسے ہی حالات کا سامنا کیا، لیکن کبھی اپنی ہمت نہیں ہاری۔ محدود وسائل کے باوجود انہوں نے اپنی محنت، ذہانت اور ہنر کو اپنا سب سے بڑا سرمایہ بنایا۔
ان کی شخصیت کا ایک منفرد پہلو یہ ہے کہ انہوں نے خود کو کسی ایک شعبے تک محدود نہیں رکھا۔ تعلیم اور میڈیکل کے شعبے سے لے کر الیکٹریشن کے کام اور ٹائر کلچر جیسے فنی ہنر تک، مختلف میدانوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ ان کے اندر سیکھنے کا جذبہ، کچھ نیا کرنے کی لگن اور اپنے بل بوتے پر آگے بڑھنے کا حوصلہ ہمیشہ موجود رہا۔
پی کے کلانی کی سب سے بڑی خوبی ان کی خودداری ہے۔ مشکل ترین حالات میں بھی انہوں نے کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے کے بجائے اپنی محنت پر بھروسہ کیا۔ ملازمت کے بجائے اپنے ہنر کو ترجیح دی اور اپنی صلاحیتوں کے ذریعے باعزت زندگی گزارنے کی کوشش جاری رکھی۔
زندگی کے بعض ایسے کٹھن مراحل بھی آئے جب انہیں بیماری اور ذہنی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ کئی آزمائشیں انہوں نے خاموشی سے برداشت کیں اور اپنی تکالیف کو دوسروں کے سامنے ظاہر کرنے سے گریز کیا۔ ان کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ انسان کی اصل طاقت صرف اس کی ذہانت نہیں بلکہ مشکل حالات میں حوصلہ برقرار رکھنے اور اپنے وقار کے ساتھ جینے میں بھی ہے۔
افسوس کا مقام ہے کہ ہمارے معاشرے میں ایسے باصلاحیت، محنتی اور خوددار لوگوں کی قدر اکثر ان کی زندگی میں نہیں کی جاتی۔ ہم بڑے ناموں اور ظاہری کامیابیوں کو تو اہمیت دیتے ہیں، لیکن اپنے اردگرد موجود ایسے خاموش ہیروں کو پہچاننے میں دیر کر دیتے ہیں۔
میری نظر میں پی کے کلانی ایک ایسی باصلاحیت شخصیت ہیں جن کے تجربات، فنی مہارت اور زندگی کی جدوجہد سے نئی نسل بہت کچھ سیکھ سکتی ہے۔ اگر ایسے لوگوں کی صلاحیتوں کو پہچان کر انہیں مناسب مواقع، حوصلہ افزائی اور سرپرستی فراہم کی جائے تو وہ نہ صرف اپنی زندگی بلکہ اپنی قوم، برادری اور ملک کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
آج میں پی کے کلانی کی محنت، خودداری، ہنر اور ثابت قدمی کو سلام پیش کرتا ہوں۔ ایسے لوگ واقعی معاشرے کا قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔
کیونکہ انسان کی پہچان اس کے پاس موجود دولت سے نہیں، بلکہ اس کی محنت، کردار، ہنر اور مشکل حالات میں قائم رہنے والے حوصلے سے ہوتی ہے۔

تحریر: ڈاکٹر ایم لال واگھانی انٹرنیشنل ہیومن رائٹس موومنٹ جنیوا پاکستان سیکریٹری جنرل صوبہ سندھ مینارٹی ونگ و فوکل پرسن جینیوا
عمرکوٹ، سندھ