November 4, 2026

پشاورکیپٹل سٹی پولیس نے پشاور میں اسٹریٹ کرائمز کے خلاف بڑے کریک ڈاؤن کی تیاری،

Screenshot_2026-11-02_183146.270

پشاورکیپٹل سٹی پولیس نے پشاور میں اسٹریٹ کرائمز کے خلاف بڑے کریک ڈاؤن کی تیاری،

پشاور(سید گوہر شاہ ) ہاٹ اسپاٹس پر پولیس تعیناتی اور گشت بڑھانے کا فیصلہ
سی سی پی او ڈاکٹر میاں سعید احمد کی زیرِ صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس، اسٹریٹ کریمنلز اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت؛ 15 روز میں تمام ٹاسک مکمل کرنے کا حکم
پشاور (شاکر خان سے ) کیپٹل سٹی پولیس پشاور نے شہر میں بڑھتے ہوئے اسٹریٹ کرائمز، راہزنی، موبائل فون اور نقدی چھیننے کی وارداتوں سمیت دیگر جرائم کی روک تھام کے لیے سخت اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ آئندہ چند روز کے دوران اسٹریٹ کریمنلز، سنیچرز اور دیگر جرائم پیشہ عناصر کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن شروع کرنے کی تیاری کرلی گئی ہے۔
اس سلسلے میں کیپٹل سٹی پولیس آفیسر (سی سی پی او) پشاور ڈاکٹر میاں سعید احمد کی زیرِ صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں شہر کی مجموعی امن و امان کی صورتحال، اسٹریٹ کرائمز کی روک تھام، جرائم کے ہاٹ اسپاٹس کی نشاندہی اور پولیس کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے دوران جرائم کی بیخ کنی اور شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے متعلقہ پولیس افسران کو نئی گائیڈ لائنز جاری کرتے ہوئے عملی اقدامات مزید مؤثر بنانے کی ہدایت کی گئی۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ شہر کے ان علاقوں کی نشاندہی کی جائے گی جہاں اسٹریٹ کرائمز کی وارداتیں زیادہ رپورٹ ہوتی ہیں، تاکہ ہاٹ اسپاٹ پولیسنگ کے تحت ایسے مقامات پر پولیس نفری کی تعیناتی، گشت اور نگرانی میں اضافہ کیا جاسکے۔ جرائم کے زیادہ خطرے والے علاقوں میں مخصوص اوقات کے دوران پولیس کی موجودگی بڑھانے، ناکہ بندیوں اور داخلی و خارجی راستوں پر اسنیپ چیکنگ کو مزید سخت کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔
سی سی پی او پشاور نے اسٹریٹ کریمنلز، سنیچرز، راہزنوں اور دیگر جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن تیز کرنے کا حکم دیتے ہوئے واضح کیا کہ شہریوں کو لوٹنے اور خوف و ہراس پھیلانے والے عناصر کے خلاف مؤثر کارروائیاں کی جائیں۔ پولیس پٹرولنگ اور اسنیپ چیکنگ کے نظام کی نگرانی متعلقہ ڈویژنل ایس پیز اور ایس ڈی پی اوز خود کریں گے، جبکہ کارروائیوں کے نتائج اور پیش رفت کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے گا۔
اجلاس میں قبضہ مافیا، منشیات فروشوں، اشتہاری مجرمان، سود خوروں، قمار بازوں، انڈر پلے میں ملوث عناصر، عادی جرائم پیشہ افراد اور دیگر معاشرتی برائیوں میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائیوں کی ہدایت بھی کی گئی۔ متعلقہ افسران کو حکم دیا گیا کہ جرائم پیشہ نیٹ ورکس کی نشاندہی کرکے ان کے خلاف قانون کے مطابق مؤثر اقدامات کیے جائیں اور کسی بھی دباؤ یا رعایت کے بغیر کارروائی کو یقینی بنایا جائے۔
نیشنل ایکشن پلان کے تحت شہر اور اس کے مضافاتی علاقوں میں سرچ اینڈ اسٹرائیک آپریشنز مزید تیز کرنے، مشتبہ عناصر کی نگرانی اور جرائم کی روک تھام کے لیے مربوط حکمت عملی اپنانے پر بھی زور دیا گیا۔ اجلاس میں ہدایت کی گئی کہ کسی بھی جرم یا ناخوشگوار واقعے کی اطلاع ملنے پر فوری قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے اور ایف آئی آر کے اندراج میں کسی قسم کی تاخیر یا غفلت نہ برتی جائے۔
سی سی پی او ڈاکٹر میاں سعید احمد نے تمام متعلقہ پولیس افسران کو تفویض کردہ ٹاسک اور جاری کردہ ہدایات پر 15 روز کے اندر عمل درآمد مکمل کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ اقدامات کی پیش رفت کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے گا اور کارکردگی کی بنیاد پر ذمہ داریوں کا تعین کیا جائے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ عوام کی جان و مال کا تحفظ، شہریوں کو فوری انصاف کی فراہمی اور ان کے مسائل کا بروقت حل پشاور پولیس کی اولین ترجیح ہے۔ تمام پولیس کارروائیوں میں میرٹ، شفافیت، فرض شناسی اور قانون کی بالادستی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے، جبکہ شہریوں کے ساتھ بہتر رویے اور پولیس کے مؤثر عوامی کردار پر بھی خصوصی توجہ دی جائے۔
کیپٹل سٹی پولیس پشاور کے مطابق جرائم کے خاتمے، شہریوں کے تحفظ اور امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے جاری اقدامات کو مزید مؤثر بنایا جائے گا، جبکہ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیوں میں کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی