November 1, 2026

سکھر پریس کلب کے سامنے JST 40+ پاس امیدواروں کا احتجاج، حکومت سندھ سے انصاف اور یکساں پالیسی کا مطالبہ

IMG-20261101-WA0168

سکھر پریس کلب کے سامنے JST 40+ پاس امیدواروں کا احتجاج، حکومت سندھ سے انصاف اور یکساں پالیسی کا مطالبہ

40 یا اس سے زائد نمبر حاصل کرنے والے امیدواروں کو فوری اہل قرار دے کر ملازمتیں دی جائیں، 2021 کی PST/JEST بھرتی کی طرز پر ایک سندھ، ایک پالیسی نافذ کی جائے، مظاہرین

سکھر(بیورورپورٹ) جے ایس ٹی (JST) 40+ پاس امیدواروں نے ٹیسٹ میں 40 یا اس سے زائد نمبر حاصل کرنے کے باوجود ملازمتوں کے لیے اہل قرار نہ دیے جانے کے خلاف سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا اور حکومت سندھ و محکمہ تعلیم سے انصاف فراہم کرنے، یکساں پالیسی نافذ کرنے اور تمام اہل امیدواروں کو فوری طور پر ملازمتیں دینے کا مطالبہ کیا۔اس موقع پر مظاہرین کا کہنا تھا کہ جے ایس ٹی ٹیسٹ کے بنیادی اشتہار میں 55 نمبرز کی شرط واضح طور پر درج نہیں تھی، اس کے باوجود 40 یا اس سے زائد نمبر حاصل کرنے والے امیدواروں کو ملازمتوں کے لیے اہل قرار نہ دینا ناانصافی کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کی جانب سے 2021 کی PST/JEST بھرتیوں سمیت دیگر اداروں میں 40 نمبرز کو پاسنگ معیار تسلیم کیا گیا ہے، لہٰذا ایک ہی صوبے میں مختلف بھرتیوں کے لیے الگ الگ معیار مقرر کرنا امیدواروں کے ساتھ امتیازی سلوک ہے۔احتجاج کرنے والے امیدواروں نے کہا کہ انہوں نے وسیع نصاب کی تیاری کے لیے انتہائی مختصر، صرف 20 روز کا وقت ملنے کے باوجود بھرپور محنت کی اور 40 یا اس سے زائد نمبر حاصل کیے۔ اس کے باوجود انہیں نظرانداز کرنا نوجوانوں کی محنت اور مستقبل کے ساتھ ناانصافی ہے۔ حکومت سندھ کو چاہیے کہ امیدواروں کے مسائل کا فوری نوٹس لے اور میرٹ و انصاف کے تقاضوں کے مطابق فیصلہ کرے۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ سندھ کے سرکاری اسکولوں میں سائنس اساتذہ کی شدید کمی ہے، جس کے باعث تعلیمی نظام متاثر ہو رہا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی کمی دور کرنے کے لیے نئی آسامیاں پیدا کرے اور خالی نشستوں پر 40+ نمبر حاصل کرنے والے اہل امیدواروں کو تعینات کرکے نوجوانوں کو روزگار فراہم کیا جائے۔انہوں نے حکومت سندھ اور محکمہ تعلیم سے مطالبہ کیا کہ جے ایس ٹی ٹیسٹ میں 40 یا اس سے زائد نمبر حاصل کرنے والے تمام امیدواروں کو فوری طور پر پاس قرار دیا جائے، 2021 کی PST/JEST بھرتیوں کی طرز پر ’’ایک سندھ، ایک پالیسی‘‘ کے اصول کے تحت یکساں معیار اپنایا جائے اور تمام اہل امیدواروں کو ملازمتیں فراہم کی جائیں۔احتجاجی مظاہرے میں ایکشن کمیٹی JST 40+ امیدواران سندھ کے رہنماؤں بلاول پٹھان، پرویز، تصور، سراج، مسعود اور فرمان میمن سمیت دیگر امیدواروں نے شرکت کی۔ مظاہرین نے حکومت سندھ سے مطالبہ کیا کہ ان کے جائز مطالبات تسلیم کرکے نوجوانوں کے مستقبل کو محفوظ بنایا جائے اور سندھ کے تعلیمی اداروں میں سائنس اساتذہ کی کمی کو ترجیحی بنیادوں پر دور کیا جائے۔

You may have missed