شفاعت کی جھوٹی امیدیں، حقوق *العباد کی پامالی اور معاشرتی تباہی: ایک لمحۂ فکر*
شفاعت کی جھوٹی امیدیں، حقوق *العباد کی پامالی اور معاشرتی تباہی: ایک لمحۂ فکر*
بقلم: انجینئر نذیر ملک، سرگودھا
الحمد للہ رب العالمين والصلوة والسلام على خاتم النبيين اما بعد!
ہمارے معاشرے کی غالب اکثریت ایک انتہائی خطرناک، روح فرسا اور ہولناک فکری غلط فہمی (Misconception) میں مبتلا ہے۔
آج ہمارے گردوپیش میں اسی فیصد (80%) سے زائد لوگ وہ ہیں جو زبان سے کلمہ گو ہیں، اپنے آپ کو مسلمان اور امتی کہتے ہیں، لیکن عملی زندگی میں حلال و حرام کی تمیز سے بالکل فارغ ہیں۔ نماز اور روزے سے غفلت اپنی جگہ، مگر حلال رزق، سچائی اور بندوں کے حقوق کے معاملے میں ہمارے معاشرے میں اخلاقی اور دینی قدریں تباہی کے آخری دہانے پر پہنچ چکی ہیں۔
عوام کا یہ کٹھور پن اور گناہوں پر دلیری صرف اس لیے ہے کہ انہوں نے اپنے ذہنوں میں چند فرضی اور غلط خیالات کو نجات کا ذریعہ بنا رکھا ہے۔ زیرِ نظر مضمون میں انہی تلخ حقائق، شریعت کے فیصلوں اور ہمارے ہولناک انجام کا ایک سچا اور بے باک جائزہ پیش کیا گیا ہے۔
* کلمہ گو ہونے کا مغالطہ اور “استحلالِ حرام” کا خطرہ:
ہمارے معاشرے میں پہلا بڑا دھوکہ یہ ہے کہ انسان سمجھتا ہے کہ میں نے زبان سے کلمہ پڑھ لیا ہے، اب میں چاہے چوری کروں، ڈاکہ ماروں، جھوٹ بولوں یا لوگوں کے جیب کاٹوں، میں مسلمان ہی رہوں گا۔
علمِ عقیدہ اور شریعتِ مطہرہ کا اصول بہت واضح ہے۔ جو شخص گناہ کو گناہ اور حرام کو حرام مان کر نفس کی مجبوری سے غلطی کرتا ہے، وہ تو گناہگار مسلمان رہتا ہے۔ لیکن جب انسان رشوت، حرام خوری، دھوکہ دہی اور حقوق العباد کے غصب کو اپنا “حق”، “انعام” یا “چائے پانی” کہہ کر جائز سمجھ لیتا ہے، تو شریعت کی اصطلاح میں اسے “استحلالِ حرام” (حرام کو حلال سمجھنا) کہتے ہیں۔ علماء اور محققین کا متفقہ فیصلہ ہے کہ اللہ کے قطعی حرام کردہ کام کو جائز اور حلال ٹھہرانا انسان کو دائرۂ اسلام کی حدود سے نکال دیتا ہے۔ کلمہ محض زبان سے اقرار کا نام نہیں، بلکہ اس کے ساتھ عمل کی شہادت شرط ہے۔
* “نبی بخشوا لیں گے” اور شفاعت کا غلط تصور
دوسرا سب سے بڑا اور خطرناک مغالطہ جس نے لوگوں کے دلوں سے خدا کا خوف مٹا دیا ہے، وہ یہ سوچ ہے کہ “ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہیں، قیامت کے دن آپ ﷺ ہمیں بخشوا ہی لیں گے”۔
یہ سوچ شریعت کی روح کے بالکل خلاف اور شیطانی فریب ہے۔ قرآنِ مجید اور احادیث میں نبی کریم ﷺ کی شفاعت کا حق برحق ہے، لیکن شفاعت کن لوگوں کے لیے ہوگی؟ قرآنِ پاک فرماتا ہے کہ شفاعت صرف ان کے لیے مفید ہوگی جن سے اللہ راضی ہوگا۔ کیا اللہ اس شخص سے راضی ہو سکتا ہے جو رشوت کھاتا ہے، مظلوموں کی فائلیں روک کر ان کے سال ضائع کرتا ہے، اور لوگوں کے ادھار ہڑپ کرتا ہے؟ جب نبی کریم ﷺ سے پوچھا گیا کہ آپ کی شفاعت کا سب سے زیادہ حقدار کون ہوگا، تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ شخص جس نے اخلاص کے ساتھ دل سے کلمہ پڑھا ہو۔ اخلاص کا تقاضا حلال کمانا اور بندوں کے حقوق ادا کرنا ہے۔ جو شخص کلمے کا نام لے کر حرام خوری کرے، وہ شفاعت کا نہیں بلکہ قیامت کے دن حوضِ کوثر سے دھتکارے جانے کا مستحق ہوگا۔
* “چند دن جہنم میں جلنے” کی حماقت
لوگوں کو گناہوں پر جری کرنے والا تیسرا فکری ناسور یہ جملہ ہے کہ “اگر سزا مل بھی گئی تو اللہ جہنم میں ڈالے گا، کبھی تو نکالے گا؛ چند دن جل کر باہر آ جائیں گے”۔
یہ سوچ انسان کی سخت ترین حماقت اور بے وقوفی ہے۔ قرآنِ مجید نے جہنم کے عذاب کی جو ہولناکی بیان کی ہے، اس کے مطابق جہنم کا ایک دن دنیا کے ہزار سال کے برابر ہے۔ وہاں کا پینا کھولتا ہوا پیپ اور عذاب ایسا ہوگا کہ کھالیں جل جائیں گی اور نئی کھالیں بدلی جائیں گی۔ دنیا میں اگلی انگلی کا ایک پور اگر موم بتی کے شعلے پر سیکنڈ کے دسویں حصے کے لیے آ جائے تو انسان تڑپ اٹھتا ہے، لیکن لوگ جہنم کی ہولناک آگ میں چند دن جلنے کا ذکر اتنی بے باکی اور نادانی سے کرتے ہیں۔ جہنم کا ایک لمحہ بھی پوری دنیا کے عذاب سے بڑا ہے، اور اسے ہلکا سمجھنا اپنے آپ کو بربادی کے دہانے پر دھکیلنا ہے۔
* رشوت خوری، فائلیں لٹکانا اور نسلوں کی بربادی
ہمارے معاشرے کا سب سے بھیانک چہرہ رشوت خوری ہے، جسے اب باقاعدہ حق اور نظام کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔ لوگ دفاتر اور عدالتوں میں فائلیں اٹکا دیتے ہیں، جائز کام کے لیے غریبوں کا خون چوستے ہیں، اور مقدمات کو سالہا سال، حتیٰ کہ نسل در نسل لٹکائے رکھتے ہیں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا صریح اور واضح فرمان ہے کہ رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے، دونوں پر اللہ کی لعنت ہے۔ جب کسی مظلوم کی فائل روکی جاتی ہے، اس کی زندگی کے سال ضائع کیے جاتے ہیں، تو اس کے دل سے نکلنے والی آہ اور بددعا اس رشوت خور کے پورے خاندان، اس کی اولاد اور اس کی آخرت کو جلا کر راکھ کر دیتی ہے۔ حرام مال سے جو جسم پرورش پاتا ہے، حدیثِ نبوی کی روشنی میں اس کے لیے سب سے زیادہ موزوں جگہ جہنم کی آگ ہے۔
* ادھار ہڑپ کرنا اور حقوق العباد کا غصب
ہمارے معاشرے میں ایک اور عام بیماری کسی سے ادھار لینا اور پھر رقم ہوتے ہوئے بھی واپس نہ کرنا یا ادھار مار کر مر جانا ہے۔ غریب قرض خواہ مجبوری میں صدمے سہتا رہتا ہے اور بالآخر خاموش ہو جاتا ہے۔
دینِ اسلام میں حقوق العباد کا معاملہ اتنا سخت ہے کہ صحیح مسلم کی روایت کے مطابق، اللہ کے راستے میں کٹ مرنے والے “شہید” کے بھی تمام گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں لیکن قرض معاف نہیں ہوتا۔ جو شخص ادھار لے کر نیت خراب کرتا ہے، وہ اللہ کی بارگاہ میں چور کے طور پر اٹھایا جائے گا۔
* قیامت کا دن اور “مفلس” کا حشر:
لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم جمعہ پڑھ لیں گے، عمرہ کر لیں گے یا کلمہ ورد کر لیں گے تو ہمارے گناہ دھل جائیں گے۔ لیکن صحیح مسلم کی مشھور حدیثِ مفلس ہماری آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میری امت کا مفلس وہ شخص ہے جو قیامت کے دن نماز، روزے، زکوۃ اور کلمے کی نیکیاں لے کر آئے گا، لیکن اس نے کسی کو گالی دی ہوگی، کسی کا مال کھایا ہوگا، کسی کا ادھار مارا ہوگا، کسی کی فائل روکی ہوگی۔ اللہ کی عدالت میں اس کی تمام نیکیاں ان مظلوموں میں بانٹ دی جائیں گی، اور جب اس کی نیکیاں ختم ہو جائیں گی تو مظلوموں کے گناہ اس کے اکاؤنٹ میں ڈال کر اسے اوندھے منہ جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔
نتیجہ اور الٹی میٹم:
محترم قارئین! آج ہمارے معاشرے کا غالب حصہ جس راہ پر چل رہا ہے، وہ اسلام کی سچی راہ نہیں بلکہ نفس پرستی، قارونی ذہنیت اور شیطانی فریب ہے۔ محض کلمے کا زبانی دعویٰ اس وقت تک نجات کا ضامن نہیں بن سکتا جب تک انسان حلال روزی پر قانع نہ ہو، رشوت اور حرام سے توبہ نہ کرے، اور بندوں کے حقوق ادا نہ کرے۔
جو لوگ آبا و اجداد سے چلی آ رہی اس غفلت میں زندہ ہیں اور سمجھتے ہیں کہ گناہ کرتے رہنے کے باوجود ان کا انجام اچھا ہوگا، وہ دراصل اپنے آپ کو جہنم کے ایندھن کے لیے تیار کر رہے ہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اس جھوٹی امید اور فریب سے نکلیں، اپنے گناہوں سے سچی توبہ کریں، لوگوں سے اپنے ادھار اور حقوق معاف کروائیں، حلال رزق پر قناعت کریں اور اپنے آپ کو عذابِ الٰہی سے بچائیں۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو سچی ہدایت، خوفِ خدا، حلالِ طیب کی توفیق اور حقوق العباد کی پاسداری عطا فرمائے،
آمین یا رب العالمین
وما علينا إلا البلاغ المبين
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333