October 9, 2026

تحریر وتصاویر سینر صحافی سید نصیر حسین زیدی پریس کلب سکھر سکھر: واڑی تڑ، آدم شاہ کالونی اور ریتی لائن کے مکینوں کا ریلوے انتظامیہ کے خلاف احتجاج، گھروں

IMG-20261008-WA0173(1)

تحریر وتصاویر سینر صحافی سید نصیر حسین زیدی پریس کلب سکھر
سکھر: واڑی تڑ، آدم شاہ کالونی اور ریتی لائن کے مکینوں کا ریلوے انتظامیہ کے خلاف احتجاج، گھروں سے بے دخلی روکنے اور مالکانہ حقوق دینے کا مطالبہ پورے پاکستان ریلوے کی زمینوں پر قبضہ کیا ھوا ھےکراچ سے کوہٹہ بلکہ پشاور تک یھی مسلہ )واڑی تڑ، آدم شاہ کالونی اور ریتی لائن کے رہائشی مرد و خواتین نے ریلوے انتظامیہ اور پولیس کی مبینہ زیادتیوں، گھروں سے بے دخلی اور نوٹسز کے خلاف سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے ریلوے انتظامیہ کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ طویل عرصے سے آباد غریب خاندانوں کو بے دخل کرنے کا سلسلہ فوری طور پر روکا جائے، گھروں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور کچی آبادیوں کے مکینوں کو قانونی و مالکانہ حقوق فراہم کیے جائیں۔احتجاج میں مسمات وقار النساء، صداقت علی، مشتاق چاچڑ سمیت سیاسی، سماجی اور مذہبی رہنماؤں نے شرکت کی۔ مظاہرے سے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما قاری لیاقت علی مغل، ایم کیو ایم کے سابق رکن سندھ اسمبلی دیوان چند چاؤلہ، ایم کیو ایم پاکستان لیگل ایڈ کمیٹی سکھر کے انچارج ایڈووکیٹ سعید احمد قریشی اور سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے رہنما ماجد علی ڈنور سمیت دیگر نے خطاب کیا۔جمعیت علمائے اسلام کے رہنما قاری لیاقت علی مغل نے کہا کہ احتجاج کا مقصد ان غریب اور مظلوم خاندانوں کے حق میں آواز بلند کرنا ہے جن کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول پہلے ہی مشکل ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی سے پنجاب تک ریلوے کی زمینوں پر بڑی بڑی عمارتیں اور بنگلے موجود ہیں، تاہم کارروائی صرف غریب آبادیوں کے خلاف کی جا رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ واڑی تڑ، آدم شاہ کالونی اور ایوب گیٹ کے اطراف میں متعدد خاندان کئی دہائیوں سے آباد ہیں، ایسے میں انہیں اچانک بے دخل کرنا قابل تشویش ہے۔قاری لیاقت علی مغل نے کہا کہ مذکورہ علاقوں میں زمین کی قیمتیں بڑھنے کے باعث غریب آبادیوں کو ہٹانے کے پیچھے مبینہ طور پر مفادات کارفرما ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جمعیت علمائے اسلام متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کے حقوق کے لیے ہر فورم پر آواز اٹھائی جائے گی۔ انہوں نے وفاقی وزیر ریلوے، ریلوے ڈی ایس سکھر، ایس ایس پی ریلوے، ضلعی انتظامیہ اور میئر سکھر سمیت متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ متاثرہ خاندانوں کے مسائل کا فوری حل نکالا جائے۔متاثرہ رہائشی صداقت علی نے کہا کہ وہ واڑی تڑ، آدم شاہ کالونی کے رہائشی ہیں اور انہیں اچانک گھر خالی کرنے کے لیے نوٹس دیا گیا۔ ان کے مطابق رہائشیوں نے متعلقہ ریلوے حکام سے رابطہ کیا، تاہم انہیں ایک دفتر سے دوسرے دفتر بھیجا جاتا رہا اور کوئی واضح جواب نہیں دیا گیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کارروائی کے دوران ان کے گھر کا دروازہ توڑا گیا اور اہل خانہ کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔صداقت علی نے کہا کہ متاثرہ خاندانوں میں بزرگ، خواتین اور بچے شامل ہیں جو کئی برسوں سے ان علاقوں میں رہائش پذیر ہیں۔ انہوں نے حکومت پاکستان، اعلیٰ حکام اور متعلقہ انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ متاثرہ خاندانوں کو بے دخل کرنے کے بجائے ان کے رہائشی حقوق کا تحفظ کیا جائے اور اگر یہ علاقے کچی آبادی کے زمرے میں آتے ہیں تو انہیں قانونی حقوق فراہم کیے جائیں۔ایم کیو ایم کے سابق رکن سندھ اسمبلی دیوان چند چاؤلہ نے احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غریب خاندانوں کو گھروں سے نکال کر سڑک پر لانا کسی صورت قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی کارروائی کے لیے قانونی تقاضے موجود ہیں تو انہیں پورا کیا جائے، تاہم خواتین، بچوں اور بزرگوں کو گھروں سے بے دخل کرنا انسانی اور سماجی لحاظ سے بھی قابل تشویش ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر کسی اہلکار یا افسر نے اختیارات سے تجاوز کیا ہے تو اس معاملے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ انہوں نے متاثرین کے گھروں کی بحالی اور انہیں قانونی تحفظ فراہم کرنے پر بھی زور دیا۔ایم کیو ایم پاکستان لیگل ایڈ کمیٹی سکھر کے انچارج ایڈووکیٹ سعید احمد قریشی نے کہا کہ واڑی تڑ اور ملحقہ علاقوں میں کچی آبادیوں کا معاملہ نیا نہیں ہے اور ماضی میں بھی ان آبادیوں کو قانونی حیثیت دینے کے حوالے سے مختلف سطحوں پر کارروائی ہوتی رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے پاس سکھر کی بعض کچی آبادیوں سے متعلق پرانے سرکاری دستاویزات موجود ہیں اور اس معاملے کو قانونی و آئینی طریقے سے حل کیا جانا چاہیے۔ایڈووکیٹ سعید احمد قریشی نے الزام عائد کیا کہ بعض مقامات پر غریب مکینوں سے زمین خالی کرانے یا متبادل جگہ فراہم کرنے کے نام پر مبینہ طور پر رقم کے مطالبات کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسی شکایات درست ہیں تو ان کی شفاف تحقیقات ضروری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ریلوے اراضی پر کارروائی یکساں اور قانون کے مطابق ہونی چاہیے اور صرف غریب آبادیوں کو نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر کسی علاقے کے مکین عدالت سے رجوع کر چکے ہیں تو عدالتی احکامات اور قانونی طریقہ کار کی مکمل پابندی کی جائے۔ انہوں نے پولیس کے کردار پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ پولیس کا بنیادی کام قانون کے مطابق امن و امان برقرار رکھنا اور شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے، اس لیے کسی بھی کارروائی میں خواتین، بچوں اور بزرگوں کے احترام اور قانونی حقوق کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔احتجاج میں شریک دیگر رہائشیوں نے بھی کہا کہ کئی خاندان دہائیوں سے ان علاقوں میں رہائش پذیر ہیں اور انہوں نے اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی اپنے گھروں کی تعمیر پر خرچ کی ہے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ چند روز کے نوٹس پر گھروں کو خالی کرانے سے خاندانوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور بچوں، خواتین اور بزرگوں کے لیے متبادل رہائش کا کوئی انتظام بھی موجود نہیں۔مظاہرین نے وزیراعظم پاکستان، چیف جسٹس آف پاکستان، وفاقی وزیر ریلوے، سندھ حکومت، ریلوے کے اعلیٰ حکام، ضلعی انتظامیہ اور پولیس افسران سے مطالبہ کیا کہ واڑی تڑ، آدم شاہ کالونی اور ریتی لائن کے رہائشیوں کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے، گھروں سے بے دخلی کا عمل روکا جائے، متاثرہ خاندانوں کو قانونی تحفظ دیا جائے اور کچی آبادیوں کی حیثیت واضح کرکے مکینوں کو ان کے حقوق فراہم کیے جائیں۔مظاہرین نے خبردار کیا کہ اگر ان کے مطالبات پر فوری توجہ نہ دی گئی تو احتجاج کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے ریلوے انتظامیہ کے خلاف مزید احتجاجی اقدامات کیے جائیں گے۔یاد رھے کہ جب بھی کسی بڑا آفیسر بدلی ھو کر سکھر ڈی ایس آفیسر میں آتے ھیں تو یہ ریلوے کی زمین پر قبضہ کے خلاف آپریشن شروع کر دیتے ھیں۔ یہ بھی یار ھو نہ ھو یہ ریلوے نے یر اشیٹشین پر i.o.w اور aiow. رکھے ھوے ھیں اور ساتھ ان کے عملہ بھی مو جو ود ھوتا ھے جو لاکھوں کی مد میں ریل کے پیسو ں پر پل رھے ھوتے ھیں ان کو ۔۔۔کیا ان کو معلوم نہیں ھوتا کہ فلاں جگہ قبضہ ھو رھا ھے اور جھوپڑی بنا ی جا رھی ھے پھر کچھ عرصہ کے بعد وہ جھوپڑی مکان کی صورت اختیار کدیتی ھے۔ اسوقت یہ افسران کہاں ھوتے ھیں اسوقت یہ اپنی جیبوں بھر کر عیش کی زندگی گزار تے ھیں
وقت تھا کھبی کراچی سے پیشاور تک ریل نظام ایسا تھا کہ لاہین کے سات ساتھ فون کے کھمبے لگے ھوے تھے جس سے ریل کا اپنا نظام چلتا تھا
آج ترقی کے دور میں پرانا سٹم ختم ھوگیا ان افسران سے معلوم کیا جاے وھ تاریں اور کمھبے زمین کھا گی یا آسمان
لاکھوں کڑروں روپے کا سامان کہاں گیا انجن پاورں کی تارکین کٹ جاتی ھیں ٹرین کی بجلی کی تارکین کٹ جاتی ھیں ریل کا میٹریل لوھا نامعلوم چور لے جاتے ھیں یہ کیس پر ایک ریلوے تھانے چوکی پر برسوں سے درج ھوتا آدھا ھے
ازطرف یہ افسران توجہ نہیں دیتے بلکہ گھروں کو ڈھیر کرنا شامل ھی