*امام مسجد پر بوجھ کم کریں۔ ایک خود کفیل اور باشعور اسلامی معاشرے کی تشکیل* جمعہ 09 اکتوبر 2026ء تحقیق و تحریر: انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
*امام مسجد پر بوجھ کم کریں۔ ایک خود کفیل اور باشعور اسلامی معاشرے کی تشکیل*
جمعہ 09 اکتوبر 2026ء
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
آج ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا المیہ اور فکری انحراف یہ ہے کہ ہم نے دین کو چند مخصوص افراد کی ذمہ داری سمجھ کر اپنے کندھوں سے اتار پھینکا ہے۔ ہم نے مساجد کے آئمہ کو تمام تر دینی فرائض کا تنہا ضامن بنا دیا ہے، حالانکہ اسلام کی بنیادی روح اس انحصار کی نفی کرتی ہے۔
امام مسجد کی بے پناہ مصروفیت اور معاشرتی بے حسی:
آج حالت یہ ہے کہ عید ہو یا تہوار، جمعہ ہو یا اتوار، طوفان ہو یا سخت گرمی، بیماری ہو یا خوشی کا کوئی موقع، امامِ مسجد کے لیے آرام یا چھٹی کا کوئی تصور نہیں۔ اس پر فتن دور میں جہاں معاشرے کی فلاح و بہبود اور فکری تربیت کے لیے علمائے کرام کو آزادانہ ماحول ملنا چاہیے تھا، ہم نے انھیں انتہائی قلیل مشاہروں اور بنیادی ضرورتوں کی چکی میں پیس رکھا ہے۔ کیا کبھی کسی نے یہ سوچا کہ دین کے ان معماروں کی معاشی حالت کیا ہے؟ کیا حکومت وقت نے کبھی اس اہم طبقے کے لیے کوئی مستقل اور باوقار کفالت کا پروگرام بنایا ہے؟ ہم نے امام کو صرف تعزیت، نکاح، جنازے اور امامت تک محدود کر کے رکھ دیا ہے اور ان کی مالی حالت کو بہتر بنانے کی کبھی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔
اندھی تقلید اور انحصار کے نقصانات:
امام مسجد پر ضرورت سے زیادہ انحصار کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا ہے کہ عام مسلمان دینی علم اور فہم سے کوسوں دور ہو گیا ہے۔ جب انسان دین کے بنیادی امور کے لیے بھی دوسروں کا محتاج ہو جائے تو اس کی فکری خود مختاری ختم ہو جاتی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اس فرسودہ روش کو بدلا جائے اور اپنے مقصد تخلیق کو پانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔
خود کفالت اور عملی بیداری کا راستہ:
اس صورتحال کا واحد حل یہ ہے کہ ہم امامِ مسجد پر غیر ضروری انحصار کم کریں اور اپنا دینی بوجھ خود اٹھانے کی عادت ڈالیں۔ اسلام کا تقاضا ہے کہ معاشرے کا ہر فرد دین کے بنیادی معاملات میں خود کفیل ہو۔
* نکاح کا معاملہ:
والد کو چاہیے کہ وہ خود آگے بڑھ کر اپنی بیٹی کا نکاح پڑھائے، کیونکہ شریعت میں اس کے لیے کسی پروفیشنل مولوی کی قید نہیں۔
* تہیز و تدفین:
گھر کے کسی بھی عزیز کی وفات پر گھر کا بڑا خود آگے بڑھے، تجہیز و تدفین کے انتظامات کرے اور خود نمازِ جنازہ پڑھائے۔
* روزمرہ کے فرائض:
آج کا نوجوان جو عصری تعلیم کے لحاظ سے انتہائی کوالیفائیڈ ہے، اسے چاہیے کہ وہ پیدائش سے لے کر موت تک کے دینی مسائل پر عبور حاصل کرے اور اپنے گھرانے پر دین کو نافذ کرے۔ مسلمان صرف گوشت کھانے والا نہیں بلکہ سنت کے مطابق خود ذبیحہ کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہو۔
علمِ دین پر کسی کی اجارہ داری نہیں:
شریعتِ اسلامیہ میں اس بات کا کوئی تصور نہیں ہے کہ دین کا علم صرف چند مخصوص لوگوں کی وراثت بن جائے۔ مسلمان قوم کا ہر صاحبِ عقل فرد اس قابل ہونا چاہیے کہ وہ اپنی مسجد میں نماز کی امامت کرا سکے۔ اگر گھر کا سربراہ یا بڑا بھائی قرآن پاک کی بنیادی سورتیں حفظ کرنے اور نماز کے مسائل سے واقف ہونے کی صلاحیت پیدا کر لے تو اسے ہر چھوٹے مسئلے کے لیے امام کو بلانے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔ آج کا تعلیم یافتہ نوجوان جو جدید علوم میں مہارت رکھتا ہے، اگر وہ دینی فہم بھی حاصل کر لے تو وہ محض پیچھے کھڑے ہونے والا مقتدی نہیں بلکہ آگے بڑھ کر امامت کے فرائض انجام دینے کا زیادہ حقدار ہے۔
آئیے، اس اصلاحی تحریک کا آغاز اپنے گھر سے کریں، دین کو خود سمجھیں، اس پر عمل کریں اور ایک خود کفیل، باشعور اور متحرک اسلامی معاشرے کی بنیاد رکھیں۔
وما علینا الا البلاغ المبین
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333