قصور گورنمنٹ ماڈل ہائی سکول قصور میں طلبہ سے پارکنگ فیس کی وصولی، آخر کس کے حکم پر؟شہریوں کا سوال
قصور
گورنمنٹ ماڈل ہائی سکول قصور میں طلبہ سے پارکنگ فیس کی وصولی، آخر کس کے حکم پر؟شہریوں کا سوال
تفصیلات کے مطابق شہر قصور کے قدیم تر سرکاری سکول ،گورنمنٹ ماڈل ہائی سکول قصور میں امتحان دینے آنے والے طلبہ سے پارکنگ کے نام پر پیسے وصول کئے جانے کی شکایات سامنے آ رہی ہیں
مذید حیرت کی بات یہ ہے کہ فیس کے بدلے جو پرچی دی جا رہی ہے اس پر نہ کوئی واضح تفصیل ہے نہ کوئی مہر اور نہ ہی کوئی ایسا ثبوت ہے جس سے معلوم ہو کہ یہ وصولی کس قانونی اجازت کے تحت کی جا رہی ہے
شہریوں کا کہنا ہے کہ ہمارا یہ سوال ہے کہ آخر یہ پیسے کس کے حکم پر لیے جا رہے ہیں؟
پارکنگ کا ٹھیکہ کس نے دیا؟ کیا سکول انتظامیہ نے اس کی اجازت دی ہے؟ اور اگر سکول میں سیکیورٹی گارڈ موجود ہے تو پھر باہر سے آنے والے افراد کس حیثیت سے طلبہ سے رقم وصول کر رہے ہیں؟
ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ امتحان دینے والے طلبہ موبائل فون ساتھ نہیں لے جا سکتے اس لیے ہر طالب علم کے لیے موقع پر ویڈیو بنا کر ثبوت دینا ممکن نہیں،تو اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ معاملے کو نظر انداز کر دیا جائے
شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر متعلقہ حکام کو شک ہے تو وہ خود اچانک دورہ کرکے صورتحال کی تصدیق کر سکتے ہیں
اہلیان علاقہ نے سی ای او ایجوکیشن قصور سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری انکوائری کی جائے، پارکنگ کے ٹھیکے اور اجازت نامے کی تفصیلات سامنے لائی جائیں اور یہ واضح کیا جائے کہ طلبہ سے وصول ہونے والی رقم کہاں جا رہی ہے
سرکاری تعلیمی اداروں میں طلبہ کو سہولت ملنی چاہیے
اگر وصولی قانونی ہے تو اس کا ثبوت عوام کے سامنے رکھا جائے، اور اگر کوئی غیر قانونی وصولی ہو رہی ہے تو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے