*ٹائٹل: بیدار ھونے تک* *عنوان: واہ رے سندھ سرکار* *تحریر: جاوید صدیقی جرنلسٹ کراچی*
*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*
*عنوان: واہ رے سندھ سرکار*
*تحریر: جاوید صدیقی جرنلسٹ کراچی*
جعل سازی، دھوکہ دہی، اقرباپروری، سیاسی مداخلت اور اختیارات کے ناجائز استعمال نے ہمارے ریاستی و انتظامی نظام کو جس طرح کھوکھلا کیا ہے، اس کے اثرات آج ملک کے ہر صوبے، ہر شہر، ہر ادارے اور ہر شعبے میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ بدقسمتی سے صوبہ سندھ بھی اس صورتحال سے شدید متاثر رہا ہے۔ ماضی کے مختلف ادوار میں اقتدار پر براجمان رہنے والے صاحبانِ اختیار اگر عدل و انصاف، میرٹ، مساوات، شفافیت اور بہترین نظم و نسق کو حقیقی ترجیح دیتے تو شاید آج ہمیں ایسے واقعات پر سوال اٹھانے کی ضرورت پیش نہ آتی۔ مگر جب اداروں میں احتساب کمزور، نگرانی ناقص اور سیاسی و ذاتی اثر و رسوخ مضبوط ہوجائے تو پھر جعلی دستاویزات بھی اصلی بن جاتی ہیں، نااہل لوگ اہل قرار پاتے ہیں اور بعض افراد برسوں تک ریاستی وسائل سے فائدہ اٹھاتے رہتے ہیں۔ معزز قارئین! حالیہ دنوں میں سندھ پولیس سے متعلق سامنے آنے والا ایک معاملہ اسی نظام کی کمزوریوں کی طرف ایک انتہائی سنگین اشارہ ہے۔ اعجاز ترین نامی شخص کے بارے میں سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق وہ مبینہ طور پر 1989ء میں ایک جعلی تقرری نامے کے ذریعے سندھ پولیس میں بطور اسسٹنٹ سب انسپکٹر بھرتی ہوا۔ یہ وہ دور تھا جب ملک میں جنرل ضیاء الحق کی حکومت تھی۔ مبینہ طور پر جعلی تقرری کے باوجود مذکورہ شخص نے پولیس سروس میں نہ صرف اپنی ملازمت جاری رکھی بلکہ ترقی کرتے کرتے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اور بعد ازاں قائم مقام سپرنٹنڈنٹ آف پولیس جیسے اہم عہدوں تک بھی پہنچا۔ اطلاعات کے مطابق نوابشاہ سمیت مختلف شہروں میں اہم ذمہ داریاں انجام دینے کے دوران وہ طویل عرصے تک سرکاری تنخواہوں، مراعات اور دیگر فوائد سے مستفید ہوتا رہا۔ یہاں اصل سوال صرف ایک شخص کی مبینہ جعل سازی کا نہیں بلکہ پورے نظامِ بھرتی، تصدیق، ترقی، سروس ریکارڈ اور احتساب کا ہے۔ حیرت انگیز طور پر اطلاعات کے مطابق معاملہ اس وقت کھلا جب مذکورہ افسر نے اپنی سینیارٹی کے حوالے سے عدالت سے رجوع کیا۔ عدالت کی ہدایت پر جب محکمہ پولیس نے ان کے پرانے ریکارڈ کی باریک بینی سے جانچ کی تو مبینہ طور پر یہ انکشاف سامنے آیا کہ ان کی بنیادی تقرری کا حکم نامہ ہی جعلی تھا۔ اگر یہ تمام تفصیلات عدالتی و سرکاری ریکارڈ سے ثابت ہوتی ہیں تو یہ صرف ایک فرد کی جعل سازی نہیں بلکہ سندھ پولیس کے اس پورے نظام کے لیے ایک انتہائی سنجیدہ سوال ہے جس کے تحت ایک شخص مبینہ طور پر تین دہائیوں سے زائد عرصے تک مختلف مراحل سے گزرتا ہوا اعلیٰ عہدوں تک پہنچ گیا۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر کسی شخص کی ابتدائی تقرری ہی مشکوک یا جعلی تھی تو پھر اس کی سروس بک کس نے بنائی؟ اس کے تعلیمی اسناد کس نے دیکھے؟ تقرری کی تصدیق کس افسر نے کی؟ ترقی کے مراحل میں اس کے ریکارڈ کی جانچ کس نے کی؟ پوسٹنگ اور تبادلے کے دوران اس کی سروس ہسٹری کہاں تھی؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ بتیس برس تک محکمہ پولیس کے اندر موجود نگرانی کا نظام اس مبینہ جعل سازی کو کیوں نہ پکڑ سکا؟ یہ سوالات کسی ایک افسر سے نہیں بلکہ پورے نظام سے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق معاملہ سامنے آنے کے بعد آئی جی سندھ کی جانب سے عدالتی حکم کی روشنی میں کارروائی کی گئی اور ملازمت سے برخاستگی سمیت سرکاری خزانے سے حاصل کردہ تنخواہوں اور مراعات کی واپسی سے متعلق بھی احکامات جاری کیے گئے۔ اگر ایسا ہی ہوا ہے تو یہ اقدام اپنی جگہ قابلِ تحسین ہے، مگر اصل ضرورت صرف ایک شخص کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ اس پورے نظام کی ذمہ داری کا تعین ہے جس کی کمزوری یا غفلت کے باعث مبینہ طور پر یہ معاملہ اتنے طویل عرصے تک جاری رہا۔ سوال صرف اعجاز ترین کا نہیں معزز قارئین! ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ اگر ایک شخص مبینہ طور پر جعلی دستاویز کے ذریعے پولیس میں داخل ہو کر اعلیٰ عہدے تک پہنچ سکتا ہے تو یہ صرف ایک فرد کی کامیابی نہیں بلکہ نظام کی ناکامی بھی ہے۔اب ضرورت اس امر کی ہے کہ سندھ حکومت اور تمام متعلقہ ادارے محض بیانات اور وقتی کارروائیوں تک محدود نہ رہیں بلکہ ایک جامع اور غیر جانب دار ویری فکیشن آڈٹ شروع کریں۔ تمام سرکاری و نیم سرکاری اداروں، خودمختار اداروں، کارپوریشنز اور محکموں میں: بھرتیوں کے اصل ریکارڈ کی تصدیق کی جائے۔ تعلیمی اسناد اور تقرری ناموں کی دوبارہ جانچ ہو۔ ترقیوں اور سینیارٹی کے ریکارڈ کا آڈٹ کیا جائے۔ سیاسی بنیادوں پر ہونے والی مبینہ تقرریوں کی چھان بین کی جائے۔ جعلی یا مشکوک دستاویزات کی نشاندہی کی جائے۔ رشوت، سفارش اور اقرباپروری کے ذریعے بھرتی یا ترقی کے الزامات کی تحقیقات کی جائیں۔ریٹائرڈ اور حاضر سروس ملازمین کے ریکارڈ کی قانونی حدود اور مناسب طریقۂ کار کے تحت جانچ کی جائے۔ قومی خزانے سے غلط طریقے سے حاصل کیے گئے مالی فوائد کی قانونی وصولی کا طریقہ کار وضع کیا جائے۔اور سب سے اہم بات یہ کہ تحقیقات کسی مخصوص سیاسی جماعت، شخصیت یا گروہ کے خلاف مہم بننے کے بجائے قانون، میرٹ اور ریاستی مفاد کی بنیاد پر ہونی چاہئیں۔احتساب ہوگا تو ادارے بچیں گے ریاستی ادارے افراد سے نہیں بلکہ مضبوط نظام سے چلتے ہیں۔ اگر کسی ادارے میں ایک جعلی دستاویز تین دہائیوں تک زندہ رہ سکتی ہے تو ہمیں فرد سے زیادہ اس نظام کی خامیوں کو تلاش کرنا ہوگا جس نے اس جعل سازی کو چھپائے رکھا۔ یہ بھی ضروری ہے کہ ذمہ داری صرف اس شخص تک محدود نہ رکھی جائے جو مبینہ طور پر جعل سازی کرکے فائدہ اٹھاتا رہا، بلکہ اگر کسی مرحلے پر کسی افسر، اہلکار یا متعلقہ شعبے کی غفلت، ملی بھگت یا دانستہ چشم پوشی ثابت ہو تو اس کے خلاف بھی قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔ کیونکہ احتساب کا مطلب صرف یہ نہیں کہ جس نے غلط فائدہ اٹھایا اسے سزا دی جائے؛ احتساب کا اصل تقاضا یہ بھی ہے کہ غلط فائدہ پہنچانے والے راستے کو ہمیشہ کے لیے بند کیا جائے۔ واہ رے سندھ سرکار!ایک شخص مبینہ طور پر جعلی تقرری کے ذریعے پولیس میں داخل ہوتا ہے، ترقی کرتا ہے، اہم عہدوں تک پہنچتا ہے اور تین دہائیوں سے زائد عرصے تک ریاستی نظام کا حصہ رہتا ہے، مگر سوال تب اٹھتا ہے جب وہ خود عدالت سے سینیارٹی کے لیے رجوع کرتا ہے۔ تو پھر عوام پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ ہمارے اداروں میں ریکارڈ کی تصدیق کا نظام آخر کس لیے ہے؟ جب تک احتساب بلاامتیاز، شفاف، مسلسل اور مؤثر نہیں ہوگا؛ جب تک میرٹ کو سفارش پر فوقیت نہیں دی جائے گی؛ جب تک سیاسی مداخلت اور رشوت و اقرباپروری کے راستے بند نہیں کیے جائیں گے؛ اور جب تک ذمہ دار افراد کا تعین کرکے انہیں قانون کے مطابق جواب دہ نہیں بنایا جائے گا، تب تک ادارے اپنی حقیقی صلاحیت کے مطابق کام نہیں کرسکیں گے۔ سندھ کو مضبوط سیاسی نعروں سے نہیں بلکہ مضبوط اداروں، شفاف نظام، میرٹ، قانون کی حکمرانی اور بلاامتیاز احتساب سے مضبوط کیا جاسکتا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ سندھ سرکار صرف ایک واقعے کا نوٹس لینے کے بجائے پورے نظام کا فارنزک آڈٹ کرائے، تاکہ معلوم ہوسکے کہ کہیں اور بھی تو جعلی دستاویزات، جعلی تقرریاں، غیر قانونی ترقیاں اور قومی خزانے پر غیر مستحق بوجھ تو موجود نہیں۔ یہ عمل کسی فرد کی تضحیک کے لیے نہیں بلکہ ریاستی اداروں کی تطہیر، قومی خزانے کے تحفظ اور آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کے لیے ہونا چاہیے۔۔۔!!