October 6, 2026

عامر انصاری کی بازیابی کے لیے سکھر پریس کلب پر احتجاجی کیمپ 60ویں روز بھی جاری

IMG-20261006-WA0162

عامر انصاری کی بازیابی کے لیے سکھر پریس کلب پر احتجاجی کیمپ 60ویں روز بھی جاری
70 روز گزرنے کے باوجود نوجوان لکھاری کا سراغ نہ مل سکا، اہل خانہ اور جسقم آریسر کا فوری بازیابی کا مطالبہ،

سکھر کھوڑا شہر کے رہائشی نوجوان لکھاری عامر انصاری کی مبینہ گمشدگی کو 70 روز گزر جانے کے باوجود تاحال ان کا کوئی سراغ نہ مل سکا۔ ان کی بازیابی کے لیے جسقم آریسر ضلع خیرپور کی جانب سے سکھر پریس کلب کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ مسلسل دن رات جاری ہے، جو 60ویں روز بھی برقرار رہا۔ احتجاجی کیمپ میں عامر انصاری کے اہل خانہ، سیاسی و سماجی کارکنان اور قوم پرست رہنماؤں نے شرکت کرتے ہوئے نوجوان کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا۔احتجاجی کیمپ جسقم آریسر ضلع خیرپور کے صدر وجید خاصخیلی کی قیادت میں جاری ہے، جبکہ تنظیم کے نائب صدر نظیر کھوکھر، صدر دین سمیت عامر انصاری کی بہن ارم انصاری اور ان کی ماسی سلمہ اور نسیمہ بھی اپنے بھانجے کی بازیابی کے لیے کیمپ میں موجود رہتی ہیں۔اس کے علاوہ صدر دین، جسقم آریسر سکھر کے آرگنائزر خمیسو سومرو سمیت جسقم آریسر کے ضلعی و صوبائی رہنماؤں اور سکھر و خیرپور سے تعلق رکھنے والے مختلف سیاسی و سماجی حلقوں کے افراد کی کیمپ میں آمد کا سلسلہ بھی جاری ہے۔کیمپ کے شرکاء نے عامر انصاری کی مبینہ گمشدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جس وقت نوجوان کو مبینہ طور پر ٹاؤن شپ سیکٹر 3 سے لاپتا کیا گیا، اس وقت ٹاؤن شپ چوکی کے انچارج راؤ شفیق، ایئرپورٹ تھانے کے ایس ایچ او ابوبکر گبول، اے ایس پی سٹی صہیب امین اور ایس ایس پی سکھر اظہر مغل اپنے عہدوں پر تعینات تھے۔مظاہرین نے ان افسران کے حوالے سے مختلف الزامات عائد کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ عامر انصاری سمیت دیگر مبینہ طور پر لاپتا نوجوانوں کے معاملات کی شفاف، غیر جانبدارانہ اور مکمل تحقیقات کرائی جائیں۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ اگر تحقیقات کے دوران کسی اہلکار یا افسر کی غفلت، کوتاہی یا قانون سے تجاوز ثابت ہو تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پولیس افسران اور اہلکاروں سے متعلق عائد کیے جانے والے الزامات مظاہرین کے دعوے ہیں، جن کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کے ذریعے ہی حقیقت سامنے آسکتی ہے۔احتجاجی شرکاء نے اے ایس پی سٹی صہیب امین سے متعلق بھی مختلف الزامات عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ سکھر اور گردونواح میں بعض نوجوانوں کے خلاف مبینہ طور پر کارروائیاں کی جا رہی ہیں اور انہیں رقم نہ دینے کی صورت میں مبینہ طور پر جعلی پولیس مقابلوں، منشیات، چوری اور ڈکیتی کے مقدمات میں ملوث کرنے کی دھمکیاں یا کارروائیاں کی جاتی ہیں۔ مظاہرین نے ان دعوؤں کی بھی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر الزامات درست ثابت ہوں تو ذمہ دار عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے، جبکہ بے بنیاد ثابت ہونے کی صورت میں حقائق بھی عوام کے سامنے لائے جائیں۔مقررین نے کہا کہ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کی ذمہ داری ریاستی اداروں اور پولیس پر عائد ہوتی ہے۔ اگر کسی ادارے یا اہلکار کی جانب سے آئین و قانون سے تجاوز کیا جائے تو اس سے شہریوں میں خوف، بے چینی اور عدم تحفظ کا احساس پیدا ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ عامر انصاری کی بازیابی تک احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا اور ان کے اہل خانہ کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔اس موقع پر جسقم آریسر کے رہنما نظیر کھوکھر نے کہا کہ عامر انصاری کی بازیابی کے لیے احتجاجی کیمپ کو 60 روز گزر چکے ہیں، تاہم انہیں تاحال کوئی تسلی بخش جواب یا پیش رفت نہیں ملی۔ انہوں نے کہا کہ وہ 10 اکتوبر کو اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ افسوس کی بات ہے کہ منتخب نمائندوں میں سے بھی کسی نے احتجاجی کیمپ میں پہنچ کر اہل خانہ کی داد رسی کرنے کی زحمت نہیں کی۔مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ عامر انصاری سمیت دیگر مبینہ طور پر لاپتا نوجوانوں، بچوں اور قومی کارکنان کو فوری طور پر بازیاب کرایا جائے۔ اگر کسی شخص کے خلاف کوئی مقدمہ، الزام یا قانونی کارروائی موجود ہے تو اسے آئین و قانون کے مطابق عدالت کے سامنے پیش کیا جائے۔ انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ عامر انصاری کی مبینہ گمشدگی کے ذمہ دار عناصر کا تعین کرکے انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور اہل خانہ کو ان کے عزیز کے بارے میں فوری طور پر آگاہ کیا جائے۔مظاہرین نے اعلان کیا کہ عامر انصاری کی بازیابی کے مطالبے کے سلسلے میں احتجاجی کیمپ بدستور جاری رہے گا۔