October 6, 2026

سنی سلامتی پاکستان ضلع سکھر کے زیرِ اہتمام جبلِ استقامتؒ سیمینار کا انعقاد

Screenshot_2026-10-04_135803.386

سنی سلامتی پاکستان ضلع سکھر کے زیرِ اہتمام جبلِ استقامتؒ سیمینار کا انعقاد

سکھر(بیورورپورٹ)سنی سلامتی پاکستان ضلع سکھر کے زیرِ اہتمام مرکزِ اہلِ سنت، جامعہ ربانیہ، ایوب گیٹ، سٹی سکھر میں جبلِ استقامتؒ سیمینار کا انعقاد کیا گیا، جس کی صدارت قائدِ سکھر حافظ محمد زمان ربانی نے کی۔سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے رہنماؤں حضرت مولانا ثناء اللہ عثمانی، حضرت مولانا فداء الحق فاروقی، مولانا محمد ہاشم الحسینی، قاری منیر احمد انقلابی، حضرت مولانا غلام اللہ خان حیدری، حضرت مولانا معشوق علی حیدری، حاجی رحمت اللہ حیدری حضرت مولانا عبدالکریم صابری، حضرت مولانا زین العابدین، حضرت مولانا عبد المالک حیدری، قاری ابو سعید عثمانی، مجاہد اصغر علی نقشبندی اور حافظ نادر معاویہ فاروقی سمیت دیگر مقررین نے کہا کہ:
ان شاء اللہ تعالیٰ سنی سلامتی پاکستان کے پلیٹ فارم سے تحفظِ ناموسِ رسالت ﷺ، تحفظِ ناموسِ صحابہؓ اور تحفظِ ناموسِ اہلِ بیتؓ کے لیے ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔
رہنماؤں نے کہا کہ ہمارے اکابرین، بالخصوص 6 اکتوبر 2003ء کو شہید ہونے والے جبلِ استقامت حضرت مولانا حافظ محمد اعظم طارق شہیدؒ سمیت دیگر اکابرین کی قربانیاں ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ ان بزرگوں نے وطنِ عزیز پاکستان کے تحفظ اور اپنے نظریات کے لیے قربانیاں پیش کیں، جنہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔مقررین نے مزید کہا کہ ہم اپنے محبوب قائد، قائدِ سندھ غازی سید محمد پریل شاہ بخاری صاحب حفظہ اللہ کی سرپرستی میں قدم بہ قدم آگے بڑھتے رہیں گے اور جماعت کو مزید منظم، مضبوط اور فعال بنانے کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔یہ وہ خبر تھی جس نے 6 اکتوبر 2003 کو دل چیر کر رکھ دیا تھا ۔اس وقت اپنی عمر 12 سال کے لگ بھگ تھی۔مغرب کی نماز کے لیےخیابان سرسید مقامی مسجد میں نماز پڑھنے گۓ تو ایک نمازی ساتھی نے روتے ہوۓ یہ خبر دی تھی کہ مولانا اعظم طارق صاحب شھید ہوگے ہیں ۔خدا کی قسم دل ٹوٹ گیا تھا اور روتے ہوۓ نماز بھی مشکل سے ادا کی ۔آج پھر 6 اکتوبر ہے مگر 2026 ہے۔قائد وہ دن وہ لمحہ نہیں بھولے ۔زباں پہ قائد شہید کا وہ جملہ (شعر) بےساختہ آتا ہے ۔رِفض کفر ہے پیغام میرا حاکم وقت خفاء ہے تو خفاء رہنے دو ۔اعظم طارق تم بہت یاد آتے ہو ۔۔معاویہ نے آج اپنا لوہا منوایا ہے کفر کے سامنے سیسہ پلائ دیوار بن کر کھڑا ہے۔ختم نبوت ؐ و دفاعِ صحابہؓ و اہلبیتؓ پاک کا چوکیدار بن کر کھڑا ہے مگر تم بہت یاد آتے ہو ۔

اعظم طارق تیری مسند پہ کھڑا مرشد بخاری اپنی عمر کے اس حصہ میں بھی وہی جذبہ و ہمت کے ساتھ ڈٹ کر کھڑا ہے۔وہ للکار ہے وہ گفتار ہے وہی کردار ہے مگر تم بہت یاد آتے ہو۔۔
اعظم طارق شہید تیرے ہاتھ پہ تربیت پانے والا کارکن تیرا جانثار آج رافضیت کے لیے آہنی دیوار بن کر کھڑا ہے۔
اعظم طارق ناموسِ صحابٰہؓ بل اب صرف سپاہ صحابہؓ کی جدوجہد نہیں بلکہ تمام دیوبندی بریلوی اہلحدیث جمیعت جماعت و تمام سیاسی پاڑٹیوں کی ضرورت بن چکا ہے ۔ اب سب اس پہ متفق ہیں کہ صحابہؓ کا دشمن قانون کی گرفت میں ہو ۔۔اب الحمداللہ سب اس قانون پہ متفق ہیں ان شاء اللہ وہ خواب بھی پورا ہوگا۔۔اعظم طارق شہید تم بہت یاد آتے ہو ۔اعظم طارق شہید صحابہؓ کا دشمن پوری دنیاء میں ذلیل ہورہا ہے ۔۔اب اسکی ذلت اسکو الٹے منہ غلاظت میں گراۓ گی ۔اب ان شاء اللہ گھر گھر صحابہؓ و اہلبیتؓ کا پرچم لہراۓ گا ۔ہر شخص کہے گا اعظم طارق تم کامیاب ہوگے اعظم طارق تم سرخرو ہوۓ اعظم طارق تم جیت گۓ تمھارا دشمن ناکام ہوا نامُراد ہوا اور ہار گیا ۔تم صحابہؓ کے قدموں میں پہنچ گے اور جیت گۓ اور جیت میں جنت ملی ۔۔اعظم طارق آپ جنت کے عالیشان محلات میں ہوگے۔۔آپ جھنگوی فاروقی ایثار و مختار حیدری و عثمانی سمیت اپنے شہید کارکنان قائدین سمیت جنت کے بالا خانوں میں ہوگے۔۔اللہ پاک آپ سے راضی ہو تم سرخرو ہوکر گۓ ہو میرے عظیم قائد ۔۔آج بھی آپکی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔اعظم طارق بہت یاد آتے ہو۔۔وقت گزرہا ہے مگر یاد آتی ہے ۔عزم ہے سیمینار کے اختتام پر حضرت مولانا محمد اعظم طارق شہیدؒ کے ایصالِ ثواب اور ملکی سلامتی، استحکام و امن کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ان شاء اللہ تعالیٰ سنی سلامتی پاکستان کے پلیٹ فارم کو مزید منظم اور مضبوط کرنے کے لیے بھرپور جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔