*مسعود رانا — میرپورخاص کا وہ سپوت جس کی آواز سرحدوں سے آگے پہنچ گئی* *تحریر: جاوید صدیقی، جرنلسٹ کراچی*
*مسعود رانا — میرپورخاص کا وہ سپوت جس کی آواز سرحدوں سے آگے پہنچ گئی*
*تحریر: جاوید صدیقی، جرنلسٹ کراچی*
پاکستانی فلمی موسیقی کی تاریخ میں بعض آوازیں ایسی ہوتی ہیں جو محض گیت نہیں گاتیں بلکہ اپنے عہد کی یادوں، جذبات اور احساسات کو آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ کر جاتی ہیں۔ مسعود رانا بھی ایسی ہی ایک منفرد اور باکمال آواز کا نام ہیں، جنہوں نے اردو، پنجابی، سندھی، قومی اور غیر فلمی نغمات کے ذریعے پاکستانی موسیقی کے افق پر اپنی ایک الگ شناخت قائم کی۔ مسعود رانا 6 اگست 1941ء کو میرپورخاص، سندھ میں ایک راجپوت کاشت کار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد چوہدری احمد علی رانا متوسط طبقے کے زمیندار تھے۔ نہری نظام کے قیام کے بعد ان کا خاندان جالندھر سے ہجرت کرکے سندھ آیا اور میرپورخاص کو اپنا مستقل مسکن بنایا۔ یوں مسعود رانا کی پیدائش ہی نہیں بلکہ ان کی ابتدائی زندگی اور شخصیت کی تشکیل بھی سندھ کی اسی زرخیز سرزمین پر ہوئی جس نے بعد میں پاکستان کو ان کی صورت میں ایک ممتاز گلوکار دیا۔ مسعود رانا نے ثانوی تعلیم گورنمنٹ ہائی اسکول میرپورخاص سے حاصل کی، جبکہ اعلیٰ ثانوی تعلیم شاہ عبداللطیف کالج میرپورخاص سے مکمل کی۔ طالب علمی ہی کے زمانے میں ان کی آواز اور گائیکی کا جوہر نمایاں ہونے لگا۔ اساتذہ نے ان کی صلاحیت کو محسوس کیا اور بھرپور حوصلہ افزائی کی۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک غیر معمولی اور پُراثر آواز عطا کی تھی۔ ابتدائی دور میں وہ برصغیر کے عظیم گلوکار محمد رفیع کے گائے ہوئے گیتوں کی نقل کیا کرتے تھے اور اس میں بھی انہیں خاصی مہارت حاصل تھی۔ تاہم ان کی گائیکی کا کوئی باقاعدہ استاد نہیں تھا۔ ان کی اصل تربیت مشق، شوق، مشاہدے اور مسلسل محنت سے ہوئی۔ میرپورخاص میں شام ڈھلے وہ اپنے دوست غلام قادر اور بلاول بیلجیئم کے ساتھ غریب آباد گوشت مارکیٹ کے سامنے واقع لال محمد بلوچ کی سائیکل کی دکان پر گانے بجانے کی مشق کیا کرتے تھے۔ یہی وہ چھوٹی سی جگہ تھی جہاں تین نوجوانوں کے خواب اور فن پروان چڑھ رہے تھے۔ وقت نے ثابت کیا کہ ان کی یہ محفل معمولی نہیں تھی؛ اسی محفل سے تین مختلف فنکارانہ راستے نکلے۔ مسعود رانا گائیکی کی دنیا میں بلند مقام تک پہنچے، بلاول بیلجیئم بینجو نوازی کے استاد کہلائے اور غلام قادر نے سندھی گائیکی میں اپنی نمایاں شناخت قائم کی۔ غلام قادر نے سید مرتضیٰ ڈاڈائی کا کلام: “زہر کھے بھی زم زم کرے پی ڈِٹھو سیںمرڻ کان اڳے ہی مرے مون ڈِٹھو سیں” گا کر بھی لازوال شہرت حاصل کی۔مسعود رانا کے خاندان میں اس سے پہلے گانے بجانے کی کوئی روایت نہیں تھی۔ چنانچہ ابتدا میں ان کے والد ان کی گائیکی کے حامی نہ تھے۔ لیکن اسکول اور کالج کے قومی دنوں اور دیگر تقریبات میں جب اساتذہ کی جانب سے ان کی آواز اور فن کی تعریف ہونے لگی تو والد بھی خاموش ہوگئے۔ شاید انہیں اندازہ ہونے لگا تھا کہ بیٹے کا شوق محض شوق نہیں بلکہ ایک غیر معمولی صلاحیت ہے۔
*ریڈیو سے فلمی دنیا تک*
1955ء میں حیدرآباد میں ریڈیو پاکستان کا آغاز ہوا تو مسعود رانا ریڈیو کی گائیکی کے لیے منتخب ہوگئے۔ یہ ان کی فنی زندگی کا ایک اہم موڑ تھا۔ اسی زمانے میں کراچی میں سالانہ نمائشیں منعقد ہوتی تھیں جہاں گلوکاری اور دیگر فنون کے مظاہرے بھی ہوا کرتے تھے۔ مسعود رانا ان پروگراموں میں بھی اپنی آواز کا جادو جگاتے رہے۔ ادھر پاکستان کی فلمی صنعت بھی اپنے قدم جما رہی تھی۔ مسعود رانا کو پہلی مرتبہ فلم “انقلاب” میں گانے کا موقع ملا۔ بعدازاں انہوں نے فلم “بنجارن” میں بھی گیت گایا، لیکن ان کی آواز کو حقیقی عوامی مقبولیت فلم “شرارت” کے گیت:”اے دل تجھے اب ان سے یہ کیسی شکایت ہے”سے حاصل ہوئی۔ اس کے بعد پنجابی فلم “ڈاچی” کا گیت: “تانگے والا خیر منگدا” ان کی مقبولیت کو ایک نئی بلندی پر لے گیا۔ پھر کامیابی کا سلسلہ ایسا چلا کہ مسعود رانا اردو اور پنجابی فلمی موسیقی کے نمایاں گلوکار بن گئے۔ فلم “ہم راہی” کے سات گیتوں نے ان کی شہرت کو بامِ عروج تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی آواز میں ایک خاص مردانہ گونج، سوز، روانی اور جذبے کی شدت تھی، جو رومانوی، المیہ، قومی اور جذباتی نغمات سبھی کے لیے موزوں ثابت ہوئی۔ اردو، پنجابی اور سندھی گائیکی کا منفرد سفر مسعود رانا نے صرف اردو اور پنجابی فلمی گیت ہی نہیں گائے بلکہ سندھی زبان میں بھی اپنی آواز کا جادو جگایا۔ ان کے بعض سندھی گیت اور غیر فلمی نغمات بھی مقبول ہوئے۔ ان کے سندھی گیتوں میں: “مہمان آہیوں، ہلیا ویندا سیں،ہی دیس چھڈے” اور: “سندھڑی آ، ہی سوہنی سندھڑی آ” قابل ذکر ہیں۔ اسی طرح ان کے غیر فلمی نغمات میں ناصر کاظمی کا: “خیالِ ترکِ تمنّا نہ کرسکے تو بھیاداسیوں کا مداوا نہ کرسکے تو بھی” اور صوفی تبسم کا: “دل کو جب بے کلی نہیں ہوتی زندگی، زندگی نہیں ہوتی” بھی خاص اہمیت رکھتے ہیں۔
*وطن سے محبت کی آواز*
مسعود رانا کی آواز صرف عشق و محبت کے گیتوں تک محدود نہیں تھی۔ انہوں نے قومی جذبے کو بھی اپنی آواز عطا کی۔ ان کے معروف قومی نغمات میں: “ساتھیو مجاہدو جاگ اٹھا ہے سارا وطن” “اے وطن ہم ہیں تری شمع کے پروانوں میں” اور: “ملت کا پاسباں ہے محمد علی جناح” جیسے نغمات شامل ہیں۔یہی وہ نغمے تھے جنہوں نے ان کی آواز کو صرف فلمی دنیا تک محدود نہیں رہنے دیا بلکہ قومی حافظے کا حصہ بنا دیا۔
*سینکڑوں فلمیں، سیکڑوں نغمات*
مسعود رانا نے تین سو سے زائد فلموں میں چھ سو سے زیادہ نغمات گائے۔ ان کے گائے ہوئے گیتوں میں نصف سے زیادہ پنجابی زبان میں تھے۔ اسی نسبت سے انہیں پاکستانی فلمی تاریخ کے سب سے زیادہ پنجابی گیت گانے والے نمایاں گلوکاروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان کی مقبولیت کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ ان کے متعدد گیت ریڈیو پر طویل عرصے تک عوام کی پسندیدہ فہرست میں شامل رہے۔ فلم “مے خانہ” کا گیت: “جان کہہ کے جو بلایا تو برا مان گئے” 1964ء میں ریڈیو سیلون پر بھی طویل عرصے تک مقبول رہا۔ ان کے دیگر یادگار گیتوں میں: “تم ہی ہو محبوب مرے، میں کیوں نہ تمہیں پیار کروں” “مرا خیال ہو تم، میری آرزو تم ہو” “حالِ دل آج ہم سنائیں گے” “میرا محبوب آگیا” “یہ مانا کہ تم دل رُبا نازنیں ہو” “یہ وعدہ کیا کہ محبت کریں گے” “او میرے شوخ صنم” “فسانۂ دل ہے مختصر سا” “تیری یاد آگئی، غم خوشی میں ڈھل گئے” “ہار دینا نہ ہمت، کہیں ایک سا وقت رہتا نہیں” “آگ لگا کر چھپنے والے، سن میرا افسانہ” اور “مرجھائے ہوئے پھولوں کی قسم” جیسے گیت شامل ہیں۔ پنجابی گائیکی میں بھی ان کی آواز نے الگ رنگ پیدا کیا: “عاشقاں توں سوہنا مکھڑا لُکان لئی سجناں نے بوہے اگے چِک تان لئی” اور: “ربّا ویکھ لیا تیرا میں جہاں” جیسے گیت آج بھی ان کی فنی شناخت کا حصہ ہیں۔
*نگار ایوارڈ — فن کا اعتراف*
مسعود رانا کی گائیکی کو صرف عوامی پذیرائی ہی نہیں ملی بلکہ فلمی صنعت نے بھی ان کے فن کا اعتراف کیا۔ انہوں نے بہترین گلوکار کا نگار ایوارڈ دو مرتبہ حاصل کیا۔ پہلی مرتبہ 1965ء میں فلم “مجاہد” کے قومی نغمے: “ساتھیو مجاہدو جاگ اٹھا ہے سارا وطن” پر انہیں نگار ایوارڈ سے نوازا گیا۔دوسری مرتبہ 1971ء میں فلم “آنسو” کے گیت: “تیرے بِنا یوں گھڑیاں بِیتیں، جیسے صدیاں بِیت گئیں” کے لیے بہترین گلوکار کا نگار ایوارڈ حاصل کیا۔ یہ اعزاز اس بات کی علامت تھے کہ مسعود رانا کی آواز نے نہ صرف عوام کے دلوں میں جگہ بنائی بلکہ فن کی دنیا میں بھی اپنی مضبوط شناخت قائم کی۔
*وجیہہ شخصیت، مگر اداکاری میں کامیابی نہ مل سکی*
مسعود رانا نہ صرف خوش آواز تھے بلکہ بے پناہ مردانہ وجاہت کے مالک بھی تھے۔ شاید اسی وجہ سے انہیں فلم “شاہی فقیر” میں ہیرو کا کردار بھی دیا گیا۔ اسی طرح پنجابی فلم “دو مُٹیاراں” میں انہوں نے سائیڈ ہیرو کا کردار ادا کیا۔ تاہم اداکاری کا یہ سفر ان کی گائیکی کی طرح کامیاب نہ ہوسکا اور دونوں فلمیں کامیابی حاصل نہ کرسکیں۔شاید قدرت نے انہیں اداکار نہیں بلکہ آواز کا فنکار بنا کر بھیجا تھا، کیونکہ جس مقام تک ان کی آواز پہنچی، وہ مقام اداکاری کے ذریعے حاصل کرنا شاید ان کے نصیب میں نہیں تھا۔ *میرپورخاص — شہرت سے زیادہ نسبت کی سرزمین*
مسعود رانا کے لیے میرپورخاص محض جائے پیدائش نہیں تھا بلکہ ان کا آبائی شہر اور شناخت کا حصہ تھا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اتنی بڑی شہرت کے باوجود انہوں نے میرپورخاص میں عام عوام کے سامنے اپنے فن کا باقاعدہ مظاہرہ کبھی نہیں کیا۔ البتہ 1973ء میں ڈپٹی کمشنر میرپورخاص منظر اکبر کی دعوت پر وہ سیلاب متاثرین کے لیے امدادی فنڈ جمع کرنے میرپورخاص آئے۔ تھرپارکر جیم خانہ کلب میں محدود پیمانے پر صرف کلب کے اراکین کے لیے انہوں نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا اور اس سے حاصل ہونے والی رقم سیلاب متاثرین کے امدادی فنڈ میں جمع کرادی۔ یہ واقعہ مسعود رانا کی شخصیت کے ایک ایسے پہلو کو سامنے لاتا ہے جس میں فن کے ساتھ سماجی احساس بھی موجود تھا۔میرپورخاص میں مسعود رانا کا خاندان لال پاڑا اور ڈھولن آباد دونوں علاقوں میں آباد تھا۔ ان کے بہن بھائیوں کی شادیوں کے موقع پر ان کے ساتھی فنکاروں، جن میں مالا اور احمد رشدی جیسے معروف نام بھی شامل تھے، نے شرکت کی۔ تاہم یہ شرکت بھی خاندانی تقریبات تک محدود رہی۔ ایک ملاقات جو آج بھی یاد ہے 1993ء کا ذکر ہے۔ ایک دن میں نے مسعود رانا کو ڈھولن آباد روڈ کے فٹ پاتھ پر پیدل چلتے ہوئے ریلوے اسٹیشن کی طرف آتے دیکھا۔ میں بھی اسی فٹ پاتھ پر مخالف سمت سے پیدل چلا آرہا تھا۔ میرا رخ ان ہی کی جانب تھا۔ وہ سفید دھاری دار شرٹ اور سیاہ پتلون پہنے ہوئے تھے۔ وہی مسعود رانا، جن کی آواز کبھی ریڈیو، فلمی پردے اور قومی نغمات کے ذریعے پورے ملک میں گونجتی تھی۔ مگر آج کے لوگ اپنے وقت کے اس مقبول ترین گلوکار کو پہچاننے سے قاصر تھے۔ میں نے انہیں فوراً پہچان لیا۔ نہ جانے کیوں، ایک اضطراری کیفیت میں میرے منہ سے بے اختیار سلام نکلا۔ انہوں نے بھی اپنی کھرج بھری، دھیمی اور مخصوص آواز میں میرے سلام کا جواب دیا۔ پھر قدرے متحیر انداز میں آگے بڑھ گئے۔شاید وہ سوچ رہے ہوں گے کہ ان کے اپنے آبائی شہر میں انہیں پہچاننے والا یہ شخص آخر کون ہے؟ یہ ملاقات چند لمحوں کی تھی، مگر میرے لیے وہ چند لمحے پاکستانی موسیقی کی ایک پوری تاریخ سے ملاقات کے مترادف تھے۔ وقت گزرتا رہا۔ مسعود رانا کی آواز فلموں، ریڈیو اور ریکارڈوں میں محفوظ رہ گئی، مگر وہ خود 4 اکتوبر 1995ء کو اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ آج جب ہم پاکستانی فلمی موسیقی کی تاریخ کے اوراق پلٹتے ہیں تو مسعود رانا کا نام ایک ایسے گلوکار کے طور پر سامنے آتا ہے جس نے اپنی آواز سے کئی نسلوں کو متاثر کیا۔ انہوں نے محبت کے گیت گائے، درد کے نغمے گائے، وطن کی محبت کے ترانے گائے اور سندھ کی زبان میں بھی اپنی آواز کا تحفہ پیش کیا۔ مگر شاید مسعود رانا کی سب سے بڑی پہچان یہ ہے کہ وہ میرپورخاص کی مٹی سے اٹھنے والی وہ آواز تھے جو پورے پاکستان کے دلوں تک پہنچی۔انسان چلا جاتا ہے، آواز باقی رہ جاتی ہے۔ اور کچھ آوازیں وقت کے ساتھ پرانی نہیں ہوتیں؛وہ یادوں میں اور بھی گہری ہوجاتی ہیں۔مسعود رانا بھی ایسی ہی ایک آواز تھے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے اور ان کے فن کو ہماری قومی و ثقافتی تاریخ میں ہمیشہ زندہ رکھے۔ آمین۔۔۔!!