فجر کی دو سنتیں اور جماعت میں شمولیت کے مسائل: قرآن، احادیث اور آثارِ صحابہ کی روشنی میں: جمعرات، یکم اکتوبر 2026ء تحقیق و تحریر: انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
فجر کی دو سنتیں اور جماعت میں شمولیت کے مسائل: قرآن، احادیث اور آثارِ صحابہ کی روشنی میں:
جمعرات، یکم اکتوبر 2026ء
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
فجر کی سنتوں کا مقام اور اہمیت:
نبی کریم ﷺ فجر کی دو سنتوں کا خاص اہتمام فرماتے تھے اور انہیں باقاعدگی سے ادا کرتے تھے۔
دلیل:
عن عائشة رضی الله عنها، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: رَكْعَتَا الْفَجْرِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا (صحیح مسلم: 725)
ترجمہ: فجر کی دو رکعتیں (سنتیں) دنیا اور جو کچھ اس میں ہے، ان سب سے بہتر ہیں۔
سنتیں گھر پر ادا کرنا:
سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق فجر کی سنتیں اور دیگر تمام نوافل گھر پر ادا کرنا اور فرضوں کی ادائیگی کے لیے مسجد آنا افضل ہے۔
دلیل:
عن زيد بن ثابت رضی الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: صَلُّوا أَيُّهَا النَّاسُ فِي بُيُوتِكُمْ، فَإِنَّ أَفْضَلَ الصَّلاَةِ صَلاَةُ المَرْءِ فِي بَيْتِهِ إِلاَّ المَكْتُوبَةَ (صحیح البخاری: 731، مسلم: 781)
ترجمہ:
اے لوگو! اپنے گھروں میں نمازیں پڑھا کرو، کیونکہ انسان کی بہترین نماز وہ ہے جو اس کے گھر میں ہو، سوائے فرض نماز کے۔
گھر میں نماز کے فوائد:
اس سے گھر میں خیر و برکت ہوتی ہے اور بچوں میں دینی تربیت کا عنصر پیدا ہوتا ہے۔
یاد رہے کہ نماز کے اکثر مسائل اسی وقت پیش آتے ہیں جب آپ تاخیر سے مسجد میں پہنچتے ہیں۔
انسان گھر سے سنتیں ادا کر کے مسجد پہنچے تو اطمینان اور سکون سے فرض جماعت کا انتظار کر سکتا ہے۔
اگر آپ گھر سے سنتیں پڑھ کر مسجد جائیں، تو مسجد میں داخل ہو کر بیٹھنے سے پہلے مزید کوئی نفل یا تحیۃ المسجد پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ فجر کا وقت ہونے کے بعد فرض سے پہلے ان دو سنتوں کے علاوہ زائد نوافل پڑھنا مسنون نہیں ہے۔
مسجد پہنچنے پر فرض جماعت قائم ہونے کی صورت:
اگر آپ مسجد پہنچیں اور فرض کی جماعت کھڑی ہو چکی ہو، تو قرآن و سنتِ نبوی ﷺ کا واضح اور محفوظ ترین طریقہ یہی ہے کہ آپ فوراً فرض جماعت میں شامل ہو جائیں۔
دلیل (حدیث):
عن أبي هريرة رضی الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا صَلَاةَ إِلَّا الْمَكْتُوبَةَ (صحیح مسلم: 710)
ترجمہ:
جب نماز (فرض) کی اقامت ہو جائے تو سوائے فرض نماز کے کوئی اور نماز پڑھنا جائز نہیں ہے۔
دلیل (اثرِ صحابی):
عن عبد الله بن سرجس رضی الله عنه قال: دخل رجل المسجد ورسول الله صلى الله عليه وسلم في صلاة الغداة، فصلّى ركعتين في جانب المسجد، ثم دخل مع رسول الله صلى الله عليه وسلم، فلما سلّم رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: يا فلان، بأي الصلاصلتين صليت؟ أبصلاتك وحدك أم بصلاتنا معنا؟ (صحیح مسلم: 712)
ترجمہ:
حضرت عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص مسجد میں داخل ہوا جبکہ رسول اللہ ﷺ فجر کی نماز پڑھا رہے تھے۔ اس شخص نے مسجد کے ایک کونے میں دو رکعتیں پڑھیں، پھر رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جماعت میں شامل ہو گیا۔ جب رسول اللہ ﷺ نے سلام پھیرا تو فرمایا: اے فلاں! تو نے ان دونوں میں سے کس نماز کو اپنی فرض نماز شمار کیا ہے؟ جو تو نے اکیلے پڑھی یا جو ہمارے ساتھ پڑھی؟ (یہ آپ ﷺ کی طرف سے اس عمل پر شدید زجر و توبیخ تھی)۔
فجر کے فرضوں کے بعد سنتوں کی ادائیگی (قضا):
اگر جماعت قائم ہونے کی وجہ سے یا کسی عذر کی بنا پر فجر کی سنتیں رہ جائیں، تو احادیث میں اس کی قضا کے دو مستند طریقے موجود ہیں:
پہلا طریقہ (فجر کے فرضوں کے فوراً بعد):
سنن ابی داؤد، جامع الترمذی اور سنن ابن ماجہ میں حضرت قیس بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
دلیل:
رأى رسول الله صلى الله عليه وسلم رجلا يصلي بعد صلاة الصبح ركعتين، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: صلاة الصبح ركعتان، فقال الرجل: إني لم أكن صليت الركعتين اللتين قبلهما فصليتهما الآن، فسكت رسول الله صلى الله عليه وسلم (سنن ابی داؤد: 1267، جامع الترمذی: 422)
ترجمہ:
رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو صبح (فجر) کی نماز کے بعد دو رکعتیں پڑھتے دیکھا، تو فرمایا: صبح کی فرض نماز تو دو رکعت ہے! اس شخص نے عرض کیا: میں نے وہ دو رکعتیں (سنتیں) نہیں پڑھی تھیں جو فرضوں سے پہلے ہیں، اس لیے میں نے انہیں اب پڑھا ہے۔ اس پر رسول اللہ ﷺ خاموش رہے (اور منع نہیں فرمایا)۔
دوسرا طریقہ (طلوعِ آفتاب کے بعد):
جامع الترمذی اور سنن ابن ماجہ میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
دلیل:
مَنْ لَمْ يُصَلِّ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ فَلْيُصَلِّهُمَا بَعْدَ مَا تَطْلُعُ الشَّمْسُ (جامع الترمذی: 423، سنن ابن ماجہ: 1155)
ترجمہ:
جو شخص فجر کی دو (سنت) رکعتیں نہ پڑھ سکے، وہ انہیں سورج نکلنے کے بعد ادا کرے۔
ایک غلط رویہ اور اس کی حقیقت:
اکثر لوگ جماعت کھڑی ہونے کے باوجود سنتیں انھی صفوں میں پڑھ رہے ہوتے ہیں جن میں لوگ فرض پڑھ رہے ہوتے ہیں، یا پچھلی صفوں میں جہاں جماعت میں تاخیر سے شامل ہونے والے نمازی آ رہے ہوتے ہیں۔
ایسا کرنے والے درج ذیل غلطیوں کے مرتکب ہوتے ہیں:
1۔ قرآن مجید کے حکم کی عدولی:
وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنصِتُوا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ (الاعراف: 204)
ترجمہ:
اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے غور سے سنو اور خاموش رہو، تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔
2۔ حدیثِ نبوی ﷺ کے صریح حکم کی عدولی:
نبی کریم ﷺ کا واضح فرمان ہے کہ جب فرض نماز کی اقامت ہو جائے تو سوائے فرض کے کوئی نماز نہیں (صحیح مسلم)۔ لہذا اقامت کے بعد سنتیں شروع کرنا يا پڑھتے رہنا فرمانِ رسول ﷺ کے صریح خلاف ہے۔
3۔ اصولِ دین کی عدولی:
عبادات توقیفی ہیں جو اللہ کے حکم اور نبی ﷺ کی سنت کے مطابق ہی ادا کی جا سکتی ہیں، یعنی دین میں اپنی مرضی نہیں چلتی۔ حتیٰ کہ جو فقہاء جماعت ملنے کی امید پر سنت پڑھنے کی رخصت دیتے ہیں، وہ بھی صفوں میں یا جہاں امام کی آواز آتی ہو وہاں سنت پڑھنے کو شدید ناپسندیدہ اور ممنوع قرار دیتے ہیں۔ پس محفوظ اور مسنون طریقہ یہی ہے کہ فرمانِ رسول ﷺ پر عمل کرتے ہوئے سنتیں چھوڑ کر فوراً فرض جماعت میں شامل ہوا جائے۔
خلاصہ کلام:
بہترین طریقہ یہی ہے کہ فجر کی سنتیں وقت پر گھر سے پڑھ کر مسجد جایا جائے۔ اگر تاخیر کی وجہ سے جماعت کھڑی ملے، تو سنتیں چھوڑ کر سیدھے فرض میں شامل ہونا چاہیے، اور جو سنتیں رہ جائیں انہیں چاہے فجر کے فرضوں کے فوراً بعد ادا کر لیں یا سورج نکلنے اور اس کا مکروہ وقت (تقریباً 15 سے 20 منٹ) گزرنے کے بعد زوال سے پہلے ادا کر لیں۔ یہی طریقہ قرآن، احادیث اور عملِ صحابہ سے ثابت ہے۔
یہی اصول نماز ظہر کی چار سنتوں کا بھی ہے۔
دعاء:
یا اللہ! ہمیں تیرے احکامات پر تیرے نبی محمد ﷺ کے طریقہ کے مطابق عمل کرنے کی توفیق عطا فرما۔
آمین یا رب العالمین۔
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا
www.nazirmalik.com Cell: 00923008604333