(سید زبیر حسین شاہ ): میرپور ساکرو میں قومی عوامی تحریک کے سربراہ ایاز لطیف پلیجو کی قیادت میں ہزاروں افراد نے ریلی نکالی، جس میں سندھ کی
(سید زبیر حسین شاہ ): میرپور ساکرو میں قومی عوامی تحریک کے سربراہ ایاز لطیف پلیجو کی قیادت میں ہزاروں افراد نے ریلی نکالی، جس میں سندھ کی تقسیم، کینالوں کے منصوبوں اور مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم کے خلاف احتجاج کیا گیا۔ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ سندھ کی تقسیم کا ہر منصوبہ ناقابلِ قبول ہے، سندھ ایک تاریخی، تہذیبی اور جغرافیائی وحدت ہے، اسے لسانی، انتظامی یا سیاسی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی ہر کوشش قومی یکجہتی کے خلاف ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹھٹھہ، بدین اور سجاول کے عوام غربت، منشیات اور بے روزگاری کے مسائل سے دوچار ہیں، جبکہ سمندری حدود اور دریائے سندھ کے باوجود ٹھٹھہ کو بنیادی سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے۔ سندھ میں پانی، روزگار، صحت اور امن و امان کے مسائل سنگین ہیں۔
ایاز لطیف پلیجو کا کہنا تھا کہ سندھ شدید آبی قلت، زرعی تباہی اور انڈس ڈیلٹا کی بربادی کا شکار ہے، سندھ کے عوام اپنے پانی، وسائل، زمین اور آئینی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔انہوں نے کہا کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے ذریعے حاصل صوبائی اختیارات پر کوئی سمجھوتہ قبول نہیں کیا جائے گا، جبکہ اگر مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم صوبائی خودمختاری، وفاقی توازن یا آئین کے بنیادی ڈھانچے کو کمزور کرنے کے لیے لائی گئی تو اس کی مخالفت کی جائے گی۔
قومی عوامی تحریک کے سربراہ نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ سندھ کے خلاف تمام متنازع منصوبے اور اقدامات واپس لیے جائیں اور تمام صوبوں کو برابر کا آئینی و سیاسی احترام دیا جائے۔
ایاز لطیف پلیجو نے کہا کہ سندھ کے عوام اپنے تاریخی، آئینی اور جمہوری حقوق کے لیے پرامن اور جمہوری جدوجہد جاری رکھیں گے، جبکہ نوجوانوں کو میرٹ، روزگار اور ترقی کے مواقع فراہم کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین، اقلیتوں اور کسانوں کو دیوار سے لگانے کا سلسلہ بند کیا جائے۔