یاسین ملک اپنی بیوی مشعل سے علیحدگی کا فیصلہ کرچکے ہیں اور یوں 17 سال بعد یہ شادی طلاق پر ختم ہوتی دکھائی دے رہی ہیں لیکن اسکی وجوہات نہایت دردناک ہیں۔۔۔۔
یاسین ملک اپنی بیوی مشعل سے علیحدگی کا فیصلہ کرچکے ہیں اور یوں 17 سال بعد یہ شادی طلاق پر ختم ہوتی دکھائی دے رہی ہیں لیکن اسکی وجوہات نہایت دردناک ہیں۔۔۔۔
کہا جاتا ہے یہ شادی پسند کی تھی اور جب 2005 میں یاسین ملک پاکستان آئے تو راولپنڈی میں اک نمائش کے دوران انکی مشعل سے ملاقات ہوئی اور کشمیری جڑیں دونوں کو جلد شادی تک لے گئی لیکن مشعل ملک اس شادی سے پہلے ہی انسانی حقوق کی علمبردار بن چکی تھی بلکہ لندن کے سکول آف اکنامکس سے گریجویٹ تھی اور یاسین ملک سمیت کوئی بھی لیڈر ایسی ہی بیوی کی تلاش میں ہوتا ہے جو اسکے کیرئیر میں ساتھ چل سکے۔
خیر دونوں کی شادی ہوئی اور 2012 میں انکی بیٹی پیدا ہوئی تو اسکا نام رضیہ سلطانہ رکھا گیا اور متعدد مرتبہ ماں مشعل اور بیٹی رضیہ سلطانہ اپنے سسرال اور دادکے گئی۔ لیکن 2019 میں جب یاسین ملک اور انکی جماعت پر پابندی لگی تو یاسین بعدزاں گرفتاری دہلی کی تہاڑ جیل میں قید ہوئے، انکی بیوی نے اپنے شوہر اور انکے علاقے کی آواز پوری دنیا میں پہنچائی اور ثابت کیا کہ یاسین ملک کا ایک خودمختار خاتون سے شادی کرنے کا فیصلہ درست تھا اور اسی بیچ انہوں نے کئی مرتبہ اپنے شوہر سے ملنے کے لیے ویزہ درخواستیں بھی دی جو نامنظور ہوئی اور اسی دوران یاسین ملک پہلے عمر قید اور ہوسکتا ہے اب انہیں سزائے موت بھی سنا دی جائے اور یاسین ملک اسکے خلاف رحم کی اپیل بھی نہیں کرنا چاہتے تو انہوں نے 25 صفحات پر مشتمل عدالت کو جمع کروائے گئے حلف نامے میں اپنے لگ بھگ 8 سال کی تنہائی کو بیان کرتے ہوئے بے بسی کا اظہار کیا اور لکھا کہ وہ ان 8 سالوں میں بیوی اور بیٹی کی آواز بھی نہیں سن سکے اور انکے پاس صرف ایک بیٹی کی تصویر ہے اور اسی سے باتیں کرتے ہیں لیکن اب بیوی کو آزاد کرنے کا سوچ رہے ہیں تاکہ وہ اپنا پروقار نیا سفر شروع کرسکے اور بیٹی کو روازنہ اپنی دادی سے فون پر بات کرنے کی تلقین کی تاکہ وہ ان سے جڑی رہے اور ایک مضبوط خیالات کے ساتھ پروان چڑھے۔
یہاں واضح رہے کہ انکی بیٹی رضیہ سلطانہ نے اپنے والد کے طلاق کے فیصلے کو ریجیکٹ کرتے ہوئے ایک فیملی کے طور پر چلنے کو چننے کا کہا ہے۔
باقی مشعل ملک پر اکثر عجیب الزامات لگتے رہتے ہیں لیکن وہ آج بھی شوہر کے بیان اور آواز کو زندہ رکھے ہوئے ہے اور ہمارے جیسے تنگ نظر معاشرے میں خودمختار عورتیں زیادہ پسند نہیں کی جاتی۔۔۔
شرمین عبید چنائے، ملالہ یوسف زئی اور مشعلِ ملک بڑی مثالیں ہیں۔