7

ریحان بٹ کیس: انتقام سے تین پولیس اہلکاروں کی شہادت تک

ریحان بٹ کیس: انتقام سے تین پولیس اہلکاروں کی شہادت تک

لاہور میں تین پولیس اہلکاروں کی شہادت کا معاملہ محض ایک دن کی کہانی نہیں۔ دستیاب پولیس ریکارڈ اور میڈیا رپورٹس کے مطابق اس کیس کی جڑیں 2024 میں ریحان بٹ کے بھائی فیضان بٹ کی CTD کے مبینہ مقابلے میں ہلاکت تک جاتی ہیں۔

پولیس کے مطابق فیضان بٹ کے مبینہ عسکریت پسند روابط تھے۔ اس کی ہلاکت کے بعد ریحان بٹ نے سب انسپکٹر عدیل عاشق کو ذمہ دار سمجھتے ہوئے مبینہ طور پر جان سے مارنے کی دھمکی دی، جس پر 2024 میں باقاعدہ مقدمہ بھی درج ہوا۔

13 اگست کو کیا ہوا؟

تفتیشی ذرائع کے مطابق سب انسپکٹر عدیل عاشق کو ریحان بٹ کی موجودگی کی اطلاع دے کر بادامی باغ بلایا گیا۔ پولیس کو شبہ ہے کہ یہ اطلاع ایک منصوبہ بند جال تھا۔ موقع پر پہنچنے کے بعد فائرنگ ہوئی جس میں سب انسپکٹر عدیل عاشق اور ہیڈ کانسٹیبل اسد شہید ہوگئے۔

اس کے کچھ ہی عرصے بعد نواں کوٹ/ملتان روڈ کے قریب پولیس اہلکاروں پر دوسرا حملہ ہوا، جس میں زخمی ہونے والے کانسٹیبل حارث سلیم بھی شہید ہوگئے۔

یوں لاہور پولیس نے چند گھنٹوں میں اپنے تین جوان کھو دیے۔

شیخوپورہ میں انجام

پولیس کے مطابق حملوں کے بعد ریحان بٹ اور اس کے ساتھی لاہور سے فرار ہوگئے۔ تعاقب کے دوران شیخوپورہ/مریدکے کے علاقے میں مشترکہ آپریشن کیا گیا جہاں ریحان بٹ اور فیاض بٹ مبینہ پولیس مقابلے میں مارے گئے جبکہ ایک ملزم طارق فرار ہوگیا۔

کیس کا سب سے اہم سوال

تحقیقات میں اے ایس آئی جمشید اور کانسٹیبل غلام فرید کو بھی ملزمان سے مبینہ روابط کے شبہے میں حراست میں لیا گیا ہے۔ تاہم ان پر ابھی کوئی جرم ثابت نہیں ہوا اور تحقیقات جاری ہیں۔

اس پورے معاملے کا سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ جب سب انسپکٹر عدیل عاشق نے 2024 میں ہی اپنی جان کو لاحق خطرے کی اطلاع دے کر مقدمہ درج کرا دیا تھا تو اس خطرے کو بروقت ختم کیوں نہ کیا جاسکا؟

ریحان بٹ کیس بظاہر ذاتی انتقام، مبینہ دہشت گرد روابط اور ممکنہ انٹیلی جنس خامیوں کی ایک پیچیدہ کہانی ہے۔ تین پولیس اہلکار شہید ہوچکے ہیں، دو مرکزی ملزمان پولیس کے مطابق مارے جا چکے ہیں، لیکن اس نیٹ ورک اور ممکنہ سہولت کاروں سے متعلق کئی سوالات کے جواب ابھی باقی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں