ٹھٹھہ رپوٹ عبد العزیز شیخ ٹھٹھہ: نوری آباد کے صنعتی اداروں کے مل ایریاز سے خارج ہونے والے کیمیکل زدہ گندے اور زہریلے پانی کا
ٹھٹھہ رپوٹ عبد العزیز شیخ
ٹھٹھہ: نوری آباد کے صنعتی اداروں کے مل ایریاز سے خارج ہونے والے کیمیکل زدہ گندے اور زہریلے پانی کا رخ صنعتی اداروں کی انتظامیہ کی جانب سے برساتی نالوں اور دریاؤں کی طرف موڑے جانے کے باعث یہ زہریلا پانی کینجھر جھیل کی جانب بڑھنے لگا ہے۔ اس صورتحال کے باعث ماحولیاتی آلودگی کے ساتھ ساتھ آبی حیات، جنگلی جانوروں اور مقامی آبادی کو بھی خطرات لاحق ہوگئے ہیں، جبکہ زہریلا پانی پینے اور آلودہ گھاس چرنے کے باعث مویشی بھی مختلف وبائی بیماریوں کا شکار ہونے لگے ہیں۔ کوہستان کا قدرتی اور صحت بخش ماحول بھی شدید متاثر ہو رہا ہے۔اس سلسلے میں کوہستان کے سیاسی و سماجی رہنما ڈاکٹر لکمیر خان پالاری نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نوری آباد کے صنعتی علاقوں سے نکلنے والے کیمیکل زدہ گندے پانی کی مناسب نکاسی نہ ہونا ماحول اور انسانی صحت کے لیے تشویشناک مسئلہ بن چکا ہے۔ متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر صورتحال کا نوٹس لیں۔ڈاکٹر لکمیر خان پالاری نے کہا کہ صنعتی اداروں کی انتظامیہ کی جانب سے گندے پانی کی نکاسی کے مناسب انتظامات نہ ہونے کے باعث بارشوں کے دوران کیمیکل زدہ زہریلا پانی برساتی نالوں اور دریاؤں کے ذریعے کینجھر جھیل تک پہنچ رہا ہے، جو کینجھر جھیل کے میٹھے پانی کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ پانی استعمال کرنے والے افراد کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ مارچ 2026 میں سندھ انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (SEPA) کی ٹیم نے نوری آباد کے صنعتی یونٹس کا معائنہ کرکے گندے پانی کی نکاسی اور ماحولیاتی آلودگی کی صورتحال کا جائزہ لیا تھا، تاہم اس کے باوجود مسئلے کا کوئی مستقل حل نہیں نکالا جاسکا۔
ڈاکٹر لکمیر پالاری اور علاقہ مکینوں نے سندھ حکومت، ماحولیاتی تحفظ کے ادارے اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ نوری آباد کے صنعتی یونٹس سے نکلنے والے زہریلے پانی کی نکاسی کا فوری اور مستقل حل نکالا جائے، کینجھر جھیل، آبی حیات، مال مویشی پالنے والے افراد اور قدرتی ماحول کو مزید نقصان سے بچایا جائے، جبکہ کوہستان کے عوام کو روزگار سمیت تمام بنیادی سہولیات فراہم کرکے ان کے دیہات کو پکا کیا جائے اور انہیں باعزت زندگی گزارنے کا حق دیا جائے۔