بیٹی کے سسرالیوں کی مبینہ زیادتیوں کے خلاف نوح پوتو برادری کا سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاج
بیٹی کے سسرالیوں کی مبینہ زیادتیوں کے خلاف نوح پوتو برادری کا سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاج
سکھر(بیورورپورٹ۔ سید نصیر حسین زیدی دعا نیوز)ٹھری میرواہ، ضلع خیرپور سے تعلق رکھنے والی نوح پوتو برادری کے افراد نے بیٹی کے سسرالیوں کی مبینہ زیادتیوں، تشدد اور ناانصافیوں کے خلاف سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے اعلیٰ حکام سے واقعے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات، مبینہ طور پر درج مقدمے کی شفاف انکوائری اور انصاف و تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔احتجاج میں عبدالشکور نوح پوتو، عارف علی خاکی، نعیم سٹھار، حافظ ایاز ملاح، صدام سولنگی اور دیگر افراد شریک تھے۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور متعلقہ حکام سے مبینہ ظلم و زیادتی کا نوٹس لینے کی اپیل کی۔اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عبدالشکور نوح پوتو اور دیگر مظاہرین نے مؤقف اختیار کیا کہ کچھ عرصہ قبل ان کی بہن مسمات زکیہ ولد شفیع محمد نوح پوتو نے گھر سے روانہ ہو کر اپنی پسند سے عدنان ولد امام الدین سومرو کے ساتھ کورٹ میرج کی تھی۔ مظاہرین کے مطابق شادی کو تقریباً 11 ماہ گزرنے کے بعد زکیہ نے اپنی والدہ سے رابطہ کرکے مبینہ طور پر کہا کہ وہ سسرال میں حالات سے پریشان ہے اور اسے وہاں سے گھر لے جایا جائے۔مظاہرین کے مطابق زکیہ کی جانب سے رابطہ کرنے کے بعد اس کے والد شفیع محمد نوح پوتو نے اپنے داماد عدنان ولد امام الدین سومرو سے ملاقات کی، جہاں مبینہ طور پر معاملات کو خوش اسلوبی سے طے کرلیا گیا۔ تاہم، جب شفیع محمد نوح پوتو اپنی بیٹی زکیہ کو اپنے ہمراہ گھر لے جانے کے لیے پہنچے تو امام الدین سومرو سمیت بعض افراد نے مبینہ طور پر ان پر حملہ کردیا، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوگئے۔عبدالشکور نوح پوتو نے مزید الزام عائد کیا کہ وڈیرہ ذوالفقار سومرو نے مبینہ طور پر حملے میں کردار ادا کرنے کے بعد زکیہ کے والد شفیع محمد سمیت دیگر افراد کے خلاف بھی مبینہ طور پر بے بنیاد مقدمہ درج کروا کر معاملے کو مزید پیچیدہ کردیا۔ مظاہرین کے مطابق مقدمے میں شفیع محمد، عبدالنعیم، مسمات امتیاز، عبدالغفور اور نعیم سمیت دیگر کو نامزد کیا گیا ہے۔مظاہرین نے کہا کہ وہ قانون کو ہاتھ میں لینے کے بجائے قانونی اور آئینی طریقے سے انصاف کے حصول کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان، وزیراعلیٰ سندھ، آئی جی سندھ، ڈی آئی جی سکھر، ایس ایس پی خیرپور اور دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ واقعے کی مکمل اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، تمام فریقین کا مؤقف سنا جائے اور اگر کسی شخص نے قانون کی خلاف ورزی کی ہے تو اسے قانون کے مطابق سزا دی جائے۔مظاہرین نے مزید مطالبہ کیا کہ انہیں اور ان کے اہل خانہ کو مبینہ دھمکیوں یا کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے تحفظ فراہم کیا جائے اور معاملے میں انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے حقائق سامنے لائے جائیں۔ احتجاج کے اختتام پر مظاہرین نے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لے کر داد رسی کی اپیل کی۔