یومِ استحصالِ کشمیر: شعور، یکجہتی اور قومی ذمہ داری کی تجدید
خصوصی تحریر: راجہ نورالہی عاطف
قومیں صرف اپنی سرحدوں سے نہیں بلکہ اپنے نظریات، اجتماعی شعور اور مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہونے کے عزم سے پہچانی جاتی ہیں۔ 5 اگست پاکستان اور کشمیری عوام کے لیے ایک ایسا دن ہے جو نہ صرف تاریخ کا ایک اہم باب ہے بلکہ انصاف، انسانی حقوق اور حقِ خودارادیت کی جدوجہد کی علامت بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سال اس دن کو یومِ استحصالِ کشمیر کے طور پر منایا جاتا ہے تاکہ دنیا کو یہ یاد دلایا جا سکے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام آج بھی اپنے بنیادی حقوق کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔
اسی قومی جذبے کے تحت گورنمنٹ گریجویٹ کالج برائے خواتین، خوشاب میں منعقدہ تقریب اس بات کا ثبوت تھی کہ ہماری تعلیمی درسگاہیں صرف تعلیم ہی نہیں بلکہ قومی شعور، فکری بیداری اور ذمہ دار شہریوں کی تربیت کا بھی اہم فریضہ انجام دے رہی ہیں۔ تقریب میں ڈپٹی ڈائریکٹر کالجز ضلع خوشاب پروفیسر ڈاکٹر ارم اقبال کی بطور مہمانِ خصوصی شرکت اور پرنسپل گورنمنٹ ایسوسی ایٹ کالج نوشہرہ پروفیسر ملک اعجاز کی موجودگی نے اس تقریب کی اہمیت کو مزید بڑھا دیا۔
تقریب کے مقررین نے 5 اگست 2019 کے بعد مقبوضہ کشمیر کی بدلتی ہوئی صورتحال، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے اس حقیقت کو اجاگر کیا کہ مسئلہ کشمیر صرف ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ انسانی وقار، انصاف اور عالمی قوانین کی پاسداری کا امتحان بھی ہے۔ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہے، اور اس حق کا احترام عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
ڈپٹی ڈائریکٹر کالجز پروفیسر ڈاکٹر ارم اقبال نے اپنے خطاب میں جس انداز سے کشمیری عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا، وہ اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان کا ہر طبقہ کشمیر کے مسئلے کو قومی اور انسانی ذمہ داری سمجھتا ہے۔ ان کا یہ پیغام کہ یومِ استحصالِ کشمیر انصاف، امن اور انسانی حقوق کے فروغ کے عزم کی تجدید کا دن ہے، نوجوان نسل کے لیے بھی ایک واضح سمت متعین کرتا ہے۔
پروفیسر ملک اعجاز نے اپنے خطاب میں قومی یکجہتی، نوجوانوں میں شعور بیدار کرنے اور کشمیر کاز سے وابستگی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی کہ قوموں کی طاقت صرف ہتھیاروں میں نہیں بلکہ تعلیم یافتہ، باخبر اور باکردار نوجوانوں میں ہوتی ہے۔ اگر نئی نسل تاریخ، حقائق اور قومی ذمہ داری سے آگاہ ہوگی تو وہ مستقبل میں ملک و قوم کی بہتر خدمت کر سکے گی۔
تعلیمی اداروں میں اس نوعیت کی تقریبات کا انعقاد نہایت ضروری ہے کیونکہ یہ طلبہ و طالبات کو صرف معلومات فراہم نہیں کرتیں بلکہ ان میں تحقیق، تجزیہ، قومی سوچ اور عالمی معاملات کو سمجھنے کی صلاحیت بھی پیدا کرتی ہیں۔ ایسے پروگرام نوجوانوں کو یہ احساس دلاتے ہیں کہ وہ اپنے معاشرے اور دنیا میں رونما ہونے والے اہم واقعات سے لاتعلق نہیں رہ سکتے۔
تقریب کے اختتام پر کالج کی پرنسپل مسز حفصہ حبیب کی جانب سے مہمانوں، اساتذہ اور طالبات کا شکریہ ادا کرنا اور بعد ازاں کشمیر کے عوام، پاکستان کی سلامتی، ترقی اور خطے میں پائیدار امن کے لیے خصوصی دعا کرنا اس بات کی علامت تھا کہ اختلافات اور تنازعات کا بہترین حل امن، انصاف اور باہمی احترام میں پوشیدہ ہے۔
یومِ استحصالِ کشمیر ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ ظلم کبھی دائمی نہیں ہوتا اور حق و انصاف کی آواز کو ہمیشہ زندہ رکھنا چاہیے۔ پاکستان کی قوم ہمیشہ کی طرح کشمیری عوام کے ساتھ اپنی اخلاقی، سفارتی اور انسانی یکجہتی کا اظہار کرتی رہے گی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوان نسل کو تاریخ، حقائق اور عالمی قوانین سے روشناس کرایا جائے تاکہ وہ مستقبل میں امن، انصاف اور انسانی وقار کے فروغ کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کر سکے۔
بلاشبہ، گورنمنٹ گریجویٹ کالج برائے خواتین، خوشاب کی یہ تقریب صرف ایک یادگاری پروگرام نہیں تھی بلکہ قومی شعور، فکری بیداری اور مظلوم کشمیری عوام سے یکجہتی کے عزم کی ایک مؤثر اور قابلِ تقلید مثال بھی تھی۔