3

تحریر وتصاویر سکھر(سینر صحافی سید نصیر حسین زیدی )سکھر پی ایف یو جے کی 76 سالہ جدوجہدِ آزادی

تحریر وتصاویر
سکھر(سینر صحافی سید نصیر حسین زیدی )سکھر پی ایف یو جے کی 76 سالہ جدوجہدِ آزادی صحافت پر سیمینار، صحافیوں کے حقوق، آزادی اظہار اور شہید جان محمد مہر کے قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ، خبر کے مطابق سکھر یونین آف جرنلسٹس (ایس یو جے) کے زیر اہتمام پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) کے 76ویں یومِ تاسیس اور آزادی صحافت کی طویل جدوجہد کے حوالے سے سکھر پریس کلب میں ایک پروقار سیمینار منعقد ہوا، جس میں صحافیوں، وکلا، سیاسی، سماجی، مذہبی، تاجر رہنماو¿ں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی، سیمینار میں شہید صحافی و اینکر پرسن جان محمد مہر کی برسی کے سلسلے میں قرآن خوانی اور دعائے مغفرت بھی کی گئی،سیمینار کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جبکہ اسٹیج سیکریٹری کے فرائض ایس یو جے کے عہدیداروں نے انجام دیے، تقریب میں پی ایف یو جے کے مرکزی سیکریٹری فنانس لالہ اسد پٹھان، سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن سکھر کے صدر قربان ملانو، جمعیت علماءاسلام صوبہ سندھ کے رہنما علامہ راشد محمود سومرو ، مولانا محمد صالح انڈھڑ ، تاجر رہنما جاوید میمن ، سول سوسائٹی کی رہنما غزالہ انجم، مسلم لیگ (ن) کے رہنما خورشید میرانی، سکھر پریس کلب کے صدر خالد بھانبھن، ، وومن یونین آف جرنلسٹس کی صدر سحرش کھوکھر سمیت مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے شرکت کی ، سکھر یونین آف جرنلسٹس کے صدر جاوید جتوئی نے شرکاءکو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ سکھر پریس کلب ہمیشہ آمریت، سنسرشپ اور آمرانہ رویوں کے خلاف جدوجہد کا مرکز رہا ہے، ایس یو جے سندھ بھر کے صحافیوں کے لیے ایک ماں جیسا ادارہ ہے، جو ہر مشکل وقت میں صحافی برادری کے ساتھ کھڑا رہا ہے ،وومن یونین آف جرنلسٹس کی صدر سحرش کھوکھر نے کہا کہ پی ایف یو جے محض ایک تنظیم نہیں بلکہ ایک مضبوط ادارہ ہے، جو صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ پی ایف یو جے کی قیادت ہمیشہ صحافی برادری کی خوشی اور غم میں شریک رہی ہے شہید جان محمد مہر کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے استاد تھے اور ان سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا، ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ پیپلز پارٹی اور سول سوسائٹی کی رہنما غزالہ انجم نے کہا کہ سکھر پریس کلب آ کر ہمیشہ حوصلہ اور تقویت ملتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لالہ اسد پٹھان کی قیادت میں پریس کلب عام آدمی کے مسائل کے حل کے لیے مو¿ثر کردار ادا کر رہا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنما خورشید میرانی نے کہا کہ سکھر پریس کلب نے ہمیشہ حقائق پر مبنی صحافت کو فروغ دیا اور عوام کی آواز بلند کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحافی معاشرے کے مستقبل کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، اس لیے ان کی آواز کو ہمیشہ سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔ انہوں نے شہید جان محمد مہر کے قاتلوں کی عدم گرفتاری پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے فوری انصاف کا مطالبہ کیا، سکھر اسمال ٹریڈرز کے رہنما جاوید میمن نے کہا کہ پی ایف یو جے کے یومِ تاسیس پر سیمینار کا انعقاد خوش آئند ہے۔ انہوں نے لالہ اسد پٹھان کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے دن رات محنت کرکے سکھر کا نام ملک بھر میں روشن کیا۔ انہوں نے کہا کہ سکھر کے صحافی ہمیشہ حق اور سچ کا ساتھ دیتے آئے ہیں اور انہیں قلم کی طاقت سے مظلوموں کی آواز بنتے رہنا چاہیے۔سکھر پریس کلب کے صدر خالد بھانبھن نے کہا کہ پی ایف یو جے 2 اگست 1950ئ کو قائم ہوئی اور اس کی 76 سالہ جدوجہد صحافتی تاریخ کا روشن باب ہے۔ انہوں نے کہا کہ مارشل لا ہو یا جمہوری ادوار، پی ایف یو جے نے ہر دور میں آزادی? صحافت کے لیے بھرپور جدوجہد کی۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی پی ایف یو جے اپنی مرکزی قیادت کے ساتھ صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم عمل ہے پی ایف یو جے کے مرکزی سیکریٹری فنانس لالہ اسد پٹھان نے اپنے خطاب میں کہا کہ پی ایف یو جے گزشتہ 76 برس سے آزادی صحافت، آزادی اظہار اور جمہوری اقدار کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں نے کوڑے کھائے، جیلیں کاٹیں، جانوں کا نذرانہ پیش کیا، مگر آزادی? صحافت کے مشن سے کبھی دستبردار نہیں ہوئے ۔انہوں نے کہا کہ پی ایف یو جے کا منشور آزاد میڈیا، آزاد عدلیہ، قانون کی حکمرانی اور عوام کے اظہارِ رائے کے حق کا تحفظ ہے، انہوں نے کہا کہ آمریتوں نے پی ایف یو جے کو ختم کرنے کی کوشش کی، مگر یہ تنظیم آج بھی پہلے سے زیادہ مضبوط ہے کیونکہ یہ ورکرز کی تنظیم ہے، جہاں موروثی سیاست نہیں بلکہ جدوجہد کی بنیاد پر قیادت سامنے آتی ہے،انہوں نے کہا کہ ملک میں حقیقی جمہوریت اور عوام کے ووٹ کا احترام ضروری ہے۔ عوامی مسائل، مہنگائی، ٹوٹی سڑکیں، بے روزگاری اور دیگر بنیادی مسائل کو نظرانداز کرکے نئے تنازعات پیدا کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر سندھ اسمبلی میں صوبے کی تقسیم سے متعلق کوئی قرارداد منظور کی گئی تو اس کے سنگین سیاسی نتائج برآمد ہوں گے۔لالہ اسد پٹھان نے کہا کہ شہید جان محمد مہر سمیت ملک بھر میں 192 صحافیوں کو شہید کیا جا چکا ہے، مگر اکثر مقدمات میں اصل حقائق سامنے نہیں لائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ بظاہر ان واقعات کو ذاتی دشمنیوں کا رنگ دیا جاتا ہے، لیکن حقیقت میں کئی صحافی سچ لکھنے اور حقائق سامنے لانے کی سزا بھگتتے ہیں۔ انہوں نے سندھ اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ شہید جان محمد مہر سمیت تمام شہید صحافیوں کے قاتلوں کو فوری گرفتار کرکے قانون کے مطابق سزا دی جائے اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کیا جائے۔انہوں نے سوشل میڈیا کے حوالے سے کہا کہ اظہارِ رائے کا حق ذمہ داری کے ساتھ استعمال ہونا چاہیے۔ سوشل میڈیا پر کردار کشی، گالم گلوچ اور بے بنیاد الزامات سے گریز کیا جائے اور ہر خبر ثبوت اور حقائق کی بنیاد پر نشر کی جائے۔سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن سکھر کے صدر قربان ملانو نے کہا کہ حقیقی یومِ تاسیس اس دن ہوگا جب ملک میں صحافت مکمل طور پر آزاد ہوگی اور میڈیا پر ہر قسم کی سنسرشپ ختم ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ صحافت ادب کا حصہ ہے، اس لیے صحافیوں کو اپنی گفتگو اور تحریر میں شائستگی اور اخلاقیات کو مقدم رکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ شہید جان محمد مہر کو سچ بولنے کی سزا دی گئی اور ان کے قاتلوں کو فوری گرفتار کیا جانا چاہیے۔جمعیت علمائ اسلام (جے یو آئی) سندھ کے سیکریٹری جنرل راشد محمود سومرو نے کہا کہ تاریخ میں کچھ شخصیات ہمیشہ زندہ رہتی ہیں اور شہید جان محمد مہر بھی انہی میں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں دوہرے معیار کے خاتمے اور قانون کی یکساں بالادستی کے بغیر انصاف ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں کا معاملہ عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے، جبکہ اصل ضرورت مہنگائی، بے روزگاری اور عوامی مشکلات کے حل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اگر شہید جان محمد مہر کے قاتلوں کو گرفتار نہیں کر سکتی تو اسے اپنی ناکامی تسلیم کرنی چاہیے۔متفقہ قرارداد سیمینار کے اختتام پر شرکاءنے متفقہ طور پر آزادی صحافت، صحافیوں کے تحفظ، میڈیا پر ہر قسم کی سنسرشپ کے خاتمے، صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کے تحفظ اور شہید جان محمد مہر سمیت تمام شہید صحافیوں کے قاتلوں کی فوری گرفتاری اور انہیں قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا۔ مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پی ایف یو جے آزادی? صحافت، جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے اپنی جدوجہد پہلے کی طرح مستقبل میں بھی جاری رکھے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں