مسلم لیگ ن کے قائد میاں محمد نواز شریف کی شادی 1971ء میں کلثوم ریحانہ بٹ سے ہوئی، جو بعد میں۔۔۔
Jul 31, 2026
National
جی ہاں، میاں نواز شریف کی شادی اپریل 1971ء میں کلثوم ریحانہ بٹ سے ہوئی تھی، جو بعد میں [بیگم کلثوم نواز] کے نام سے معروف ہوئیں۔
ان کی شادی سے متعلق کچھ اہم اور دلچسپ حقائق درج ذیل ہیں:
## اہم معلومات اور خاندانی پس منظر
* نام اور پہچان: شادی سے قبل ان کا پورا نام کلثوم ریحانہ بٹ تھا اور وہ امرتسر کے مشہور پہلوان “گاما پہلوان” کی نواسی تھیں۔
* عمر کا فرق: نواز شریف اپنی اہلیہ سے عمر میں صرف ایک سال بڑے تھے۔
* اولاد: ان کے چار بچے ہیں جن میں مریم نواز، عاصمہ نواز، حسن نواز اور حسین نواز شامل ہیں۔
بیگم کلثوم نواز پاکستان کی تین بار خاتونِ اول اور ایک بہادر سیاست دان رہیں، جنہوں نے مشکل ترین وقت میں اپنی پارٹی کی قیادت کی۔ ان کی زندگی، تعلیم اور سیاسی سفر کے اہم پہلو درج ذیل ہیں:
## پیدائش اور خاندانی پس منظر
* پیدائش: وہ 29 مارچ 1948ء (کچھ ذرائع کے مطابق 1950ء) کو لاہور کے ایک معزز کشمیری خاندان میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد کا نام ڈاکٹر محمد حفیظ بٹ تھا۔
* امرتسر سے رشتہ: وہ برصغیر کے مشہور اور ناقابلِ شکست پہلوان “گاما پہلوان” کی نواسی تھیں۔
## تعلیمی سفر اور ادبی لگاؤ
* ابتدائی تعلیم: انہوں نے لاہور کے مدرسہ البنات اور لیڈی گریفن اسکول سے میٹرک کیا۔
* اعلیٰ تعلیم: انہوں نے اسلامیہ کالج لاہور اور فارمین کرسچن (ایف سی) کالج سے گریجویشن مکمل کی۔
* ماسٹرز اور پی ایچ ڈی: انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے اردو ادب میں ایم اے کیا۔ انہیں ادب اور شاعری سے گہرا لگاؤ تھا اور انہوں نے بعد میں فلسفے میں پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی حاصل کی۔
## شادی اور خاندانی زندگی
* رشتہ ازدواج: ان کی شادی اپریل 1971ء میں میاں محمد نواز شریف سے ہوئی۔
* اولاد: ان کے چار بچے ہیں: مریم نواز (موجودہ وزیر اعلیٰ پنجاب)، عاصمہ نواز، حسن نواز اور حسین نواز۔
## سیاسی سفر اور “مادرِ جمہوریت” کا لقب
* تین بار خاتونِ اول: نواز شریف کے تینوں ادوارِ حکومت (1990-1993، 1997-1999، اور 2013-2017) میں وہ پاکستان کی خاتونِ اول رہیں۔
* آمریت کے خلاف مزاحمت: جب 12 اکتوبر 1999ء کو جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹ کر شریف خاندان کے مردوں کو جیل میں ڈال دیا، تو بیگم کلثوم نواز نے عملی سیاست میں قدم رکھا۔
* مسلم لیگ (ن) کی صدارت: وہ 1999ء سے 2002ء تک پاکستان مسلم لیگ (ن) کی صدر رہیں اور پارٹی کو بکھرنے سے بچایا۔ لاہور میں ایک احتجاج کے دوران جب پولیس نے ان کی گاڑی کو کرین سے اٹھا لیا، تو وہ گھنٹوں گاڑی کے اندر ڈٹی رہیں، جو مشرف آمریت کے خلاف مزاحمت کی علامت بن گیا۔ ان کی اسی جرات کی وجہ سے انہیں “مادرِ جمہوریت” کا خطاب دیا گیا۔
* رکن قومی اسمبلی (ایم این اے): 2017ء میں نواز شریف کی نااہلی کے بعد، انہوں نے لاہور کے حلقہ این اے-120 سے ضمنی انتخاب لڑا اور علالت کے باوجود شاندار کامیابی حاصل کی۔
## علالت اور انتقال
* بیماری: سال 2017ء میں ان میں گلے کے کینسر کی تشخیص ہوئی، جس کے علاج کے لیے انہیں لندن منتقل کیا گیا۔
* وفات: طویل علالت اور کینسر سے جنگ لڑنے کے بعد، وہ 11 ستمبر 2018ء کو لندن کے ہارلے اسٹریٹ کلینک میں انتقال کر گئیں۔