17

شاید اس دن DPO آفس میں کچھ ایسا ہونے والا تھا، جس کی شاید خود ڈی پی او احمد محی الدین کو بھی توقع نہیں تھی۔

شاید اس دن DPO آفس میں کچھ ایسا ہونے والا تھا، جس کی شاید خود ڈی پی او احمد محی الدین کو بھی توقع نہیں تھی۔
یہ 21 اگست 2025کا دن تھا۔
چکوال کے ڈی پی او احمد محی الدین اپنے دفتر میں معمول کے مطابق سرکاری معاملات نمٹا رہے تھے۔ سامنے فائلوں کا ڈھیر تھا، فون مسلسل بج رہے تھے۔۔۔۔
اور اسی دوران ایک خاتون خاموشی سے دفتر میں داخل ہوئیں۔
وہ چند لمحے ایک طرف کھڑی رہیں، مگر ڈی پی او صاحب حسبِ معمول پہلے اپنے فرائض کی ادائیگی میں مصروف رہے۔
کچھ دیر انتظار کے بعد خاتون نے آہستہ سے کہا:
“سر… مجھے آپ کا آٹوگراف چاہیے۔”
احمد محی الدین نے خاتون کی طرف دیکھا اور مسکرانے لگے !
ایک پولیس افسر کے دفتر میں لوگ انصاف، شکایت یا مدد کی امید لے کر آتے ہیں، مگر شاید پنجاب پولیس کی تاریخ میں پہلی بار ایک خاتون صرف ایک DPO کا آٹوگراف لینے کے لیے ان کے دفتر پہنچی تھی۔
یہ آٹوگراف محض ایک دستخط نہیں تھا، بلکہ ایک ایسے افسر کے کردار، دیانت داری اور عوامی اعتماد کا اعتراف تھا، جس نے اپنے عہدے کو طاقت نہیں بلکہ امانت سمجھا۔
شاید اسی لیے لوگ ان سے صرف ملنے نہیں، بلکہ ان کے دستخط کو اپنی زندگی کی ایک یادگار بنانا چاہتے تھے۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں