12

شہید غلام عباس واسوانہ کے بہیمانہ قتل پر دوڑ شہر میں عوامی غم و غصہ شدت اختیار کر گیا

شہید غلام عباس واسوانہ کے بہیمانہ قتل پر دوڑ شہر میں عوامی غم و غصہ شدت اختیار کر گیا
قاتلوں کی 24 گھنٹوں میں گرفتاری نہ ہونے پر شہر بھر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال اور مہران ہائی وے بند کرنے کا اعلان
نوابشاہ(رپورٹ۔انور عادل خانزادہ)
شہید غلام عباس واسوانہ کے بہیمانہ قتل کے خلاف دوڑ شہر میں عوامی غم و غصہ مزید شدت اختیار کر گیا، جہاں سینکڑوں شہریوں نے قاتلوں کی فوری گرفتاری کے مطالبے کے لیے احتجاجی ریلی نکالی۔
احتجاجی ریلی مرکزی امام بارگاہ سجادیہ دوڑ سے شروع ہوئی، جو شہر کی مختلف شاہراہوں سے ہوتی ہوئی دوڑ تھانے کے سامنے پہنچ کر دھرنے کی شکل اختیار کر گئی۔ مظاہرین نے قاتلوں کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا۔
احتجاج میں شہید کے ماموں ریٹائرڈ ڈی ایس پی میر جعفر خان واسوانہ، والد زوار اختر حسین واسوانہ، ماموں وزیر حسین واسوانہ، برادری کے سربراہ زوار صفدر عباس، جعفریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن ضلع شہید بینظیر آباد کے صدر عارف علی واسوانہ، سول سوسائٹی کے نمائندگان اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
مقررین نے احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شہید غلام عباس واسوانہ کے قتل کو پانچ روز گزر جانے کے باوجود پولیس کسی بھی ملزم کو گرفتار کرنے میں ناکام رہی ہے، جس سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سنگین سوالات جنم لے رہے ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ قتل میں ملوث تمام ملزمان کو فوری طور پر گرفتار کرکے قانون کے مطابق عبرتناک سزا دی جائے تاکہ مقتول کے اہل خانہ کو انصاف فراہم کیا جا سکے۔
احتجاج کے دوران برادری کے رہنماؤں نے اعلان کیا کہ اگر آئندہ 24 گھنٹوں کے اندر قاتل گرفتار نہ کیے گئے تو دوڑ شہر میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کی جائے گی، جبکہ احتجاج کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے مہران ہائی وے کو بھی ہر قسم کی آمد و رفت کے لیے بند کر دیا جائے گا۔
مقررین نے واضح کیا کہ احتجاج کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کسی بھی صورتحال کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ پولیس حکام اور ضلعی انتظامیہ پر عائد ہوگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں