ایک خاتون ڈاکٹر اپنی ڈیوٹی مکمل کرکے گھر پہنچی تو اس کی آنکھیں اشک بار تھیں۔ شوہر نے پریشانی سے پوچھا: کیا ہوا؟
وہ روتے ہوئے بولی: “آج ایک باپ اپنی ننھی بیٹی کو اسپتال لایا تھا، مگر تمام کوششوں کے باوجود ہم اس کی جان نہ بچا سکے۔
جب میں نے کہا کہ ایمبولینس بلا دیتی ہوں تاکہ بچی کو گھر پہنچا دیا جائے، تو اس نے نم آنکھوں سے جواب دیا:
‘ڈاکٹر صاحبہ، رہنے دیجیے… میرے پاس ایمبولینس کے پیسے نہیں ہیں۔
میں اپنی بیٹی کو کندھوں پر اٹھا کر بس میں بیٹھ جاؤں گا۔ کسی کو کیا معلوم ہوگا کہ وہ بیمار ہے یا دنیا سے جا چکی ہے۔’
یہ سن کر میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔
بعض اوقات غربت صرف جیب نہیں، دل بھی توڑ دیتی ہے۔
یہ صرف ایک واقعہ نہیں، بلکہ ہمارے معاشرے کا ایک دردناک المیہ ہے۔









