11

*بلنکن: ٹرمپ اپنی ہی بنائی ہوئی جنگی دلدل میں پھنس چکے، ایران جنگ سے نکلنے کا راستہ نہیں مل رہا*

*بلنکن: ٹرمپ اپنی ہی بنائی ہوئی جنگی دلدل میں پھنس چکے، ایران جنگ سے نکلنے کا راستہ نہیں مل رہا*
واشنگٹن: امریکا کے سابق وزیر خارجہ *انتھونی بلنکن* نے صدر *ڈونلڈ ٹرمپ* کی ایران پالیسی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ اپنی ہی پالیسیوں کے باعث ایک ایسے بحران میں پھنس گئے ہیں جہاں سے نکلنے کا کوئی واضح راستہ موجود نہیں۔

ایرانی نشریاتی ادارے *پریس ٹی وی* کے مطابق بلنکن نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جاری جنگ نے ٹرمپ انتظامیہ کو ایک مشکل صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ ان کے مطابق صدر ٹرمپ اس جنگ سے نکلنے کے لیے کسی *”آف ریمپ” (محفوظ راستے)* کی تلاش میں ہیں، مگر انہیں ایسا کوئی قابلِ عمل راستہ دکھائی نہیں دے رہا۔

بلنکن کے مطابق ٹرمپ نے ایران کے خلاف دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی اپنائی، لیکن اس کے نتیجے میں خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی اور اب جنگ کو ختم کرنا پہلے سے کہیں زیادہ مشکل ہو چکا ہے۔

ادھر مختلف بین الاقوامی تجزیوں میں بھی کہا جا رہا ہے کہ ایران کے ساتھ طویل ہوتی جنگ، بڑھتے فوجی اخراجات، امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں اور اندرونِ ملک سیاسی دباؤ نے وائٹ ہاؤس کے لیے صورتحال پیچیدہ بنا دی ہے۔ بعض رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ بیک وقت فوجی دباؤ برقرار رکھنے اور سفارتی مذاکرات کی کوششوں کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم اب تک کوئی واضح پیش رفت سامنے نہیں آئی۔

دوسری جانب ٹرمپ نے حالیہ بیانات میں کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان رابطے جاری ہیں، تاہم ان کے مطابق تہران ابھی کسی حتمی معاہدے کے لیے تیار نہیں۔

بلنکن کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بدستور برقرار ہے اور ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازع خطے کے امن اور عالمی توانائی کی منڈیوں پر گہرے اثرات مرتب کر رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں