August 31, 2026
google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0

سرگودھا: علم و ادب کا گہوارہ خصوصی تحریر: راجہ نورالٰہی عاطف

IMG-20260725-WA0174
google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0

سرگودھا: علم و ادب کا گہوارہ

خصوصی تحریر: راجہ نورالٰہی عاطف

پاکستان کا شہر سرگودھا صرف اپنی زرخیز زمینوں، خوش ذائقہ کینو اور زرعی اہمیت کی وجہ سے ہی معروف نہیں، بلکہ یہ علم، ادب، ثقافت اور تہذیب کا بھی ایک روشن مینار ہے۔ اس دھرتی نے ہر دور میں ایسے اہلِ قلم، دانشور، اساتذہ، شعراء، ادباء اور صحافی پیدا کیے جنہوں نے نہ صرف سرگودھا بلکہ پورے پاکستان میں اپنی علمی و ادبی خدمات کے ذریعے نمایاں مقام حاصل کیا۔
سرگودھا کی ادبی روایت کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ یہاں کی ادبی محفلیں، مشاعرے، سیمینارز، کتابوں کی تقریبات اور علمی نشستیں ہمیشہ اہلِ ذوق کے لیے کشش کا باعث رہی ہیں۔ شہر میں قائم تعلیمی اداروں نے بھی علم و ادب کے فروغ میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ ان اداروں سے فارغ التحصیل ہزاروں طلبہ آج ملک و بیرونِ ملک مختلف شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
سرگودھا یونیورسٹی، گورنمنٹ کالجز، نجی تعلیمی ادارے اور مختلف ادبی تنظیمیں نوجوان نسل میں مطالعے، تحقیق، تخلیق اور مثبت سوچ کو فروغ دینے میں مصروفِ عمل ہیں۔ یہاں کی لائبریریاں، ادبی فورمز اور علمی کانفرنسیں اس شہر کی فکری زندگی کی عکاس ہیں۔
یہ شہر ہمیشہ نامور شعراء، ادیبوں اور صحافیوں کی آماجگاہ رہا ہے۔ یہاں کے قلم کاروں نے قومی زبان اردو کی خدمت کے ساتھ ساتھ پنجابی اور سرائیکی ادب کو بھی نئی جہتیں عطا کیں۔ ان کی تخلیقات میں معاشرتی مسائل، قومی یکجہتی، انسانی اقدار اور محبت کا پیغام نمایاں نظر آتا ہے۔
صحافت کے میدان میں بھی سرگودھا نے قابلِ فخر شخصیات پیدا کی ہیں جنہوں نے حق گوئی، دیانت داری اور عوامی مسائل کی نشاندہی کو اپنا شعار بنایا۔ مقامی اخبارات اور میڈیا پلیٹ فارمز نے نہ صرف عوام کی آواز بلند کی بلکہ علمی و ادبی سرگرمیوں کو بھی بھرپور انداز میں اجاگر کیا۔
آرٹس کونسل، ادبی انجمنیں، رائٹرز فورمز اور مختلف ثقافتی تنظیمیں وقتاً فوقتاً مشاعروں، کتابوں کی رونمائی، سیمینارز اور مذاکروں کا انعقاد کرتی ہیں، جن سے نوجوان لکھنے والوں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا بہترین موقع ملتا ہے۔ یہ سرگرمیاں اس حقیقت کا ثبوت ہیں کہ سرگودھا کی ادبی روح آج بھی زندہ اور متحرک ہے۔
موجودہ دور میں اگرچہ سوشل میڈیا اور جدید ٹیکنالوجی نے مطالعے کے رجحان کو متاثر کیا ہے، تاہم سرگودھا کے اہلِ علم و ادب اب بھی کتاب، قلم اور تحقیق سے اپنی وابستگی برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ نوجوان نسل کو بھی چاہیے کہ وہ موبائل اور انٹرنیٹ کے ساتھ ساتھ کتاب دوستی کو اپنی زندگی کا حصہ بنائے، کیونکہ قوموں کی ترقی کا راز علم، تحقیق اور شعور میں پوشیدہ ہے۔
یہ امر خوش آئند ہے کہ سرگودھا میں ادبی تنظیمیں نئی نسل کی تربیت، مطالعے کے فروغ اور مثبت ادبی ماحول کی تشکیل کے لیے مسلسل کام کر رہی ہیں۔ اگر حکومت، تعلیمی ادارے، اہلِ قلم اور معاشرہ مل کر ادبی سرگرمیوں کی سرپرستی کریں تو سرگودھا مستقبل میں بھی علم و ادب کا روشن مرکز بنا رہے گا۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ سرگودھا صرف ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ علم، شعور، تہذیب اور ادب کی ایک ایسی سرزمین ہے جس نے ہمیشہ قوم کو اہلِ علم، بہترین اساتذہ، نامور ادیب، باصلاحیت شاعر اور ذمہ دار صحافی عطا کیے ہیں۔ اس ادبی ورثے کی حفاظت اور اس کی نئی نسل تک منتقلی ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، تاکہ آنے والے وقتوں میں بھی سرگودھا اپنی علمی و ادبی شناخت کے ساتھ دنیا بھر میں پہچانا جاتا رہے۔

google.com, pub-9673306505872210, DIRECT, f08c47fec0942fa0