10

خیبرپختونخوا میں کم عمری کی شادیوں کے خاتمے کے لیے قانون سازی پر منسٹیریل بریفنگ کا انعقاد۔

خیبرپختونخوا میں کم عمری کی شادیوں کے خاتمے کے لیے قانون سازی پر منسٹیریل بریفنگ کا انعقاد۔

کم عمری کی شادیوں کا مسئلہ مختلف شعبوں سے جڑا ہوا ہے۔سیکرٹری سماجی بہبود شریف حسین کی تقریب سے خطاب

پشاور(نمائندہ خصوصی)گلوبل ٹائمز میڈیا یورپ کے مطابق خیبرپختونخوا میں کم عمری کی شادیوں کے خاتمے کے لیے قانون سازی کو مؤثر بنانے کے حوالے سے بدھ کے روز پشاور میں ایک اعلیٰ سطحی وزارتی بریفنگ کا انعقاد کیا گیا۔ بریفنگ میں اراکینِ اسمبلی، سرکاری حکام، ترقیاتی اداروں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی اور بچوں کے تحفظ کے لیے مضبوط قانونی اور ادارہ جاتی نظام پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے پر زور دیا۔یہ بریفنگ خیبرپختونخوا کمیشن برائے وقارِ نسواں (کے پی سی ایس ڈبلیو) نے صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ، خیبرپختونخوا چائلڈ پروٹیکشن کمیشن اور دیگر متعلقہ محکموں اور اداروں کے تعاون سے منعقد کی۔تقریب میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے خزانہ مزمل اسلم نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر صوبائی اسمبلی کے اراکین، سیکرٹری صوبائی اسمبلی وقار شاہ، مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والی خواتین اراکینِ اسمبلی، ایس ڈی جیز ٹاسک فورس کے چیئرمین ایم پی اے آصف محسود، سیکرٹری سماجی بہبود، سیکرٹری خیبرپختونخوا کمیشن برائے وقارِ نسواں، چائلڈ پروٹیکشن کمیشن کے ڈپٹی چیف، یو این ویمن، بلیو وینز اور مختلف سرکاری محکموں کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔اجلاس میں کم عمری کی شادیوں کے سماجی، معاشی اور صحت پر پڑنے والے منفی اثرات پر تفصیلی گفتگو کی گئی.شرکاء نے کہا کہ کم عمری کی شادیوں سے بچیوں کی تعلیم متاثر ہوتی ہے، ماں اور بچے کی صحت کو خطرات لاحق ہوتے ہیں، معاشی مواقع محدود ہو جاتے ہیں اور مجموعی انسانی ترقی پر بھی منفی اثر پڑتا ہے۔شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے مؤثر قانون سازی، مختلف اداروں کے درمیان تعاون اور عوام میں آگاہی پیدا کرنا ضروری ہے۔ اجلاس میں بچوں کے تحفظ سے متعلق قوانین کو مزید مضبوط بنانے اور ان پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ قومی اور بین الاقوامی وعدوں کے مطابق بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے قانون سازی کو ہم آہنگ کرنے کی اہمیت بھی اجاگر کی گئی۔اس موقع پر مشیر برائے خزانہ مزمل اسلم نے کہا کہ صوبائی حکومت بچوں کے حقوق کے تحفظ اور کم عمری کی شادیوں کے خاتمے کے لیے مؤثر قانون سازی اور عملدرآمد کے لئے سنجیدہ کوششوں پر یقین رکھتی ہے۔اس موقع پر سیکرٹری سماجی بہبود شریف حسین نے کہا کہ کم عمری کی شادیوں کا مسئلہ مختلف شعبوں سے جڑا ہوا ہے، جس سے نمٹنے کے لیے مؤثر قانون سازی، بین الادارہ جاتی تعاون اور شواہد پر مبنی پالیسی سازی ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ بریفنگ بچوں کے حقوق کے تحفظ اور مؤثر قانون سازی کے لیے اہم پیش رفت ثابت ہوگی۔اجلاس میں خیبرپختونخوا کمیشن برائے وقارِ نسواں نے حکومت کو چائلڈ پروٹیکشن کمیشن کے تعاون سے تکنیکی معاونت فراہم کرنے کے عزم کا اظہار کیا، جبکہ صوبائی اسمبلی سیکرٹریٹ نے قانون سازی کے عمل میں ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خیبرپختونخوا کمیشن برائے وقارِ نسواں کی چیئرپرسن ڈاکٹر سمیرا شمس نے کہا کہ کم عمری کی شادیوں کے خاتمے کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قانون سازی کو مزید مؤثر، قابلِ عمل اور زمینی حقائق سے ہم آہنگ بنایا جائے تاکہ بچوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے اور بچیوں کے حقوق اور وقار کا مکمل تحفظ ممکن ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں