ملک محمد حیات جوئیہ — صحافت کا روشن باب اور ایک عہد ساز شخصیت خصوصی تحریر: راجہ نورالٰہی عاطف
ملک محمد حیات جوئیہ — صحافت کا روشن باب اور ایک عہد ساز شخصیت
خصوصی تحریر: راجہ نورالٰہی عاطف
کسی بھی معاشرے کی تاریخ صرف عمارتوں، سڑکوں یا ترقیاتی منصوبوں سے نہیں بنتی بلکہ وہ ان شخصیات کے کردار سے بھی روشن ہوتی ہے جو اپنی صلاحیت، دیانت، خلوص اور بے لوث خدمات کے ذریعے آنے والی نسلوں کے لیے مثال بن جاتی ہیں۔ ضلع خوشاب کی صحافتی تاریخ میں اگر چند نمایاں ناموں کا ذکر کیا جائے تو ملک محمد حیات جوئیہ ان میں ایک معتبر، قابلِ احترام اور درخشاں نام ہیں۔ وہ نہ صرف ضلع خوشاب کے سینئر ترین صحافیوں میں شمار ہوتے ہیں بلکہ نورپور تھل میں صحافت کی بنیاد رکھنے والی شخصیات میں بھی ان کا نام ہمیشہ سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔
اللہ تعالیٰ نے ملک محمد حیات جوئیہ کو غیر معمولی ذہانت، بہترین مشاہدے، جراتِ اظہار اور اعلیٰ تحریری صلاحیتوں سے نوازا۔ ان کی قلمکاری ہمیشہ حق گوئی، سچائی اور عوامی مسائل کی ترجمانی کا استعارہ رہی۔ انہوں نے صحافت کو کبھی ذاتی مفاد یا شہرت کا ذریعہ نہیں بنایا بلکہ اسے عوامی خدمت اور معاشرتی اصلاح کا مؤثر وسیلہ سمجھ کر نبھایا۔
نورپور تھل کو یکم جولائی 1982ء کو تحصیل کا درجہ ملا، لیکن اس سے بہت پہلے ملک محمد حیات جوئیہ صحافت کے میدان میں سرگرم عمل تھے۔ تحصیل کے قیام کے بعد انہی کی مخلصانہ کاوشوں سے نورپور تھل پریس کلب وجود میں آیا، اور انہیں اس کا بانی اور پہلا صدر منتخب ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔ یہ صرف ایک تنظیم کا قیام نہیں تھا بلکہ ایک ایسے ادارے کی بنیاد تھی جس نے بعد ازاں علاقے کی صحافتی شناخت کو مضبوط کیا اور صحافیوں کو ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کیا۔
پریس کلب کے ابتدائی اراکین میں ایم نور دین، چوہدری عبدالستار، محمد یاسین شاکر اور ظفر علی اعوان شامل تھے۔ بعد ازاں راقم الحروف سمیت متعدد صحافی اس قافلے میں شامل ہوتے گئے اور وقت کے ساتھ پریس کلب ایک مضبوط، فعال اور باوقار ادارے کی صورت اختیار کرتا گیا۔ اس کامیابی کے پیچھے ملک محمد حیات جوئیہ کی مدبرانہ قیادت، تنظیمی صلاحیت اور سب کو ساتھ لے کر چلنے کی روایت بنیادی عنصر تھی۔
انہوں نے روزنامہ نوائے وقت سمیت متعدد قومی اور علاقائی اخبارات میں اپنی صحافتی خدمات انجام دیں۔ ان کی تحریروں میں عوامی مسائل، علاقائی ترقی، سماجی انصاف اور قومی مفاد کو ہمیشہ ترجیح حاصل رہی۔ انہوں نے نہ صرف مسائل کی نشاندہی کی بلکہ انہیں حکومتی ایوانوں تک پہنچانے میں بھی بھرپور کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں کئی عوامی مسائل کے حل کی راہ ہموار ہوئی۔
صحافتی دنیا میں انہیں بجا طور پر ایک اکیڈمی کہا جاتا ہے۔ ان کی تربیت اور رہنمائی سے بے شمار نوجوان صحافیوں نے صحافت کے اصول، خبر نویسی، تحقیق اور ذمہ دارانہ اظہار کا فن سیکھا۔ ان کے شاگرد آج ملک کے مختلف اداروں میں صحافتی خدمات انجام دے رہے ہیں، جو ان کے علمی و فکری اثرات کا واضح ثبوت ہے۔
ملک محمد حیات جوئیہ کی قیادت میں نورپور تھل پریس کلب نے نہ صرف مقامی سطح پر اپنی شناخت قائم کی بلکہ پنجاب بھر میں بھی ایک منظم اور باوقار صحافتی ادارے کے طور پر پہچان حاصل کی۔ ان کے دور میں ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن خوشاب، تحصیل انتظامیہ اور پریس کلب کے درمیان بہترین روابط قائم ہوئے، جن کے نتیجے میں متعدد عوامی مسائل کے حل میں پیش رفت ممکن ہوئی۔
ان کے صدارتی دور کا ایک یادگار لمحہ وہ تھا جب ٹاؤن کمیٹی نورپور تھل میں پریس کلب کی باقاعدہ تقریبِ حلف برداری منعقد ہوئی۔ اس تقریب میں اس وقت کے ضلع ناظم خوشاب ملک محمد احسان اللہ ٹوانہ نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی اور پریس کلب کے عہدیداران سے ان کے فرائض کا حلف لیا جبکہ راقم نے اس شاندار تقریب کی نقابت کے فرائض سرانجام دئیے۔ اس تقریب میں اس وقت کے صدر ڈسٹرکٹ پریس کلب جوہرآباد، نامور قانون دان حافظ خان محمد ماہل، انتظامی افسران اور علاقے کی نمایاں سیاسی و سماجی شخصیات کی شرکت اس ادارے کی اہمیت کا واضح اظہار تھی۔
صحافت کے ساتھ ساتھ تدریس کے شعبے میں بھی ملک محمد حیات جوئیہ کی خدمات قابلِ قدر ہیں۔ ایک معلم کی حیثیت سے انہوں نے طویل عرصہ محکمہ تعلیم میں خدمات انجام دیں۔ ان کے شاگرد آج ملک اور بیرونِ ملک مختلف شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں خدمات سرانجام دے رہے ہیں، جو کسی بھی استاد کے لیے سب سے بڑا اعزاز ہوتا ہے۔
وہ سماجی خدمت کے میدان میں بھی ہمیشہ پیش پیش رہے۔ بطور جنرل سیکرٹری ٹی بی ویلفیئر ایسوسی ایشن تحصیل نورپور تھل انہوں نے ٹی بی کے مریضوں کی خدمت اور علاج کے لیے شبانہ روز محنت کی۔ اس مشن میں اس وقت کے صدر ایڈووکیٹ ملک نعمت اللہ گاہی کی سرپرستی بھی انہیں حاصل رہی۔ دکھی انسانیت کی خدمت کو انہوں نے ہمیشہ اپنی زندگی کا اہم مقصد سمجھا۔
آج بھی، عمر اور تجربے کی پختگی کے باوجود، ملک محمد حیات جوئیہ نوجوان صحافیوں کی رہنمائی، ان کی حوصلہ افزائی اور صحافت کے اعلیٰ اصولوں کی ترویج میں مصروف ہیں۔ ان کی شخصیت اخلاص، شائستگی، دیانت اور خدمتِ خلق کا حسین امتزاج ہے۔ ایسے لوگ معاشروں کا سرمایہ ہوتے ہیں اور ان کی خدمات آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بن جاتی ہیں۔
ملک محمد حیات جوئیہ کی پوری زندگی اس حقیقت کی گواہ ہے کہ اگر قلم دیانت، اخلاص اور عوامی خدمت کے جذبے کے ساتھ اٹھایا جائے تو وہ معاشرے میں مثبت تبدیلی کا مؤثر ذریعہ بن جاتا ہے۔ انہوں نے اپنی عملی زندگی سے ثابت کیا کہ صحافت صرف خبر پہنچانے کا نام نہیں بلکہ قوم کی رہنمائی، حق کی آواز بلند کرنے اور معاشرتی اصلاح کی ایک مقدس ذمہ داری بھی ہے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ملک محمد حیات جوئیہ کو صحت، عافیت، عزت، خوشیاں اور درازیٔ عمر عطا فرمائے، ان کی خدمات کو شرفِ قبولیت بخشے اور انہیں ہمیشہ اپنے حفظ و امان میں رکھے۔ آمین۔