مصنوعی بازاروں” کی سیاست عروج پر، ایک ہی بازار کی گلیوں سے نئی تنظیمیں تشکیل
“مصنوعی بازاروں” کی سیاست عروج پر، ایک ہی بازار کی گلیوں سے نئی تنظیمیں تشکیل
عوامی مینڈیٹ کے بجائے نامزدگیوں کی سیاست، صدر، جنرل سیکریٹری ہر تنظیم کا وہی، باقی جتنے ممبر اتنے عہدیدار،ایک ہی بازار سے متعدد تنظیموں کے قیام پر تاجر حلقوں میں بحث چھڑ گئی
سکھر(بیورورپورٹ)شہر کی تاجر سیاست میں نمائندگی کے ایک نئے انداز نے بحث چھیڑ دی ہے۔ تاجر رہنماؤں کے مطابق عوامی مینڈیٹ کے ذریعے قیادت حاصل کرنے کے بجائے اب شہر کے بڑے بازاروں کو مختلف گلیوں میں تقسیم کرکے ہر گلی کو الگ “بازار” کا نام دیا جا رہا ہے۔ انکے بقول اس طریقۂ کار سے حقیقی نمائندگی کے تصور کو کمزور کرکے مصنوعی تنظیمی ڈھانچہ تشکیل دیا جا رہا ہے۔ تاجر حلقوں کے مطابق ایک ہی بڑے بازار کی کسی گلی سے صرف 10 سے 12 دکانداروں کو اکٹھا کرکے نئی تنظیم قائم کی جاتی ہے، جبکہ صدر اور جنرل سیکریٹری کے عہدے ہر بار وہی مخصوص افراد اپنے پاس رکھتے ہیں جو عوامی مینڈیٹ حاصل کرنے میں ناکام رہے جبکہ گلی کے دیگر دکانداروں میں نائب صدر، جوائنٹ سیکریٹری، خزانچی اور دیگر عہدے جتنے ممبر اتنے ہی عہدے تقسیم کرکے اسی گلی کو ایک نیا “بازار” قرار دے دیا جاتا ہے پھر اسی بڑے بازار کی دوسری، تیسری گلی میں بھی یہی فارمولا دہرایا جاتا ہے، یوں ایک ہی بازار سے متعدد کاغذی تنظیمیں وجود میں لائی جاتی ہیں۔تاجر رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بعدازاں انہی کاغذی تنظیموں کو ایک ایسے مرکزی پلیٹ فارم سے منسلک کرکے شہر کے چالیس سے زیادہ بازاروں کی نمائندگی کا تاثر پیش کیا جاتا ہے جس کا بانی و دیگر عہدیدار اپنے بازاروں سے بری طرح بیلٹ سے شکست کھاچکے ہیں تاجر رہنماؤں کے بقول اس مرکزی پلیٹ فارم کا مقصد اپنا ذاتی مفاد ہے چھوٹے تاجروں کی فلاح نہیں یہی وجہ ہے کہ اس مرکزی پلیٹ فارم میں یہ مصنوعی تنظیمیں ایک ہی بازار کی مختلف گلیوں سے تشکیل دی گئی ہوتی ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ نمائندگی کا اصل معیار چند افراد میں عہدوں کی تقسیم نہیں بلکہ پورے بازار کے تاجروں کا اعتماد اور اجتماعی مینڈیٹ ہے۔ تاجر رہنماؤں نے کہا کہ شہر کی تاجر برادری اب نمائندگی کے ہر دعوے کو اس کے عوامی کردار، عملی حیثیت اور تاجر برادری کی حقیقی تائید کی بنیاد پر پرکھے گی۔ ان کے مطابق وقت آ گیا ہے کہ بازاروں کی سیاست ذاتی مفادات، بند کمروں کے فیصلوں اور نامزدگیوں کے بجائے تاجروں کی آزاد رائے اور جمہوری عمل کی بنیاد پر استوار ہو، تاکہ ہر بازار کی حقیقی آواز اسی بازار کے تاجروں کے ووٹ اور اعتماد سے سامنے آئے۔