سکھر: قتل کے مبینہ جھوٹے مقدمے اور تشدد کے خلاف کھوسو برادری کا سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاج، انصاف اور تحفظ کا مطالبہ
سکھر: قتل کے مبینہ جھوٹے مقدمے اور تشدد کے خلاف کھوسو برادری کا سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاج، انصاف اور تحفظ کا مطالبہ
سکھر(بیورورپورٹ)سکھر کے گاؤں حاجی نہال خان کھوسہ کے رہائشی کھوسو برادری سے تعلق رکھنے والے مرد و خواتین نے قتل کے مبینہ جھوٹے مقدمے میں ایک شخص کی گرفتاری اور اس کے بھائی پر مبینہ تشدد کے خلاف سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے اعلیٰ حکام سے واقعے کی شفاف تحقیقات کروا کر انصاف اور تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔احتجاجی مظاہرے کی قیادت مسمات نوراں اور سرکی احمد کھوسو نے کی۔مظاہرین نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسمات نوراں نے الزام عائد کیا کہ چند ماہ قبل ان کی برادری سے تعلق رکھنے والے نوجوان شہمیر کھوسو نے مبینہ طور پر خود کو گولی مار کر اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا تھا، تاہم اس واقعے کے بعد مقتول کے ورثاء نے ان کے شوہر کو قتل کے جھوٹے مقدمے میں نامزد کرا دیا، جس کے باعث وہ اس وقت جیل میں ہیں۔انہوں نے مزید الزام لگایا کہ حال ہی میں مقتول شہمیر کھوسو کے ورثاء، جن میں لکھمیر، بلال، وحید اور نظر کھوسو شامل ہیں، نے ان کے دیور سرکی احمد کھوسو کو بلاجواز روک کر مبینہ طور پر بدترین تشدد کا نشانہ بنایا، جس سے وہ شدید ذہنی و جسمانی اذیت سے دوچار ہیں۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ ان کے خاندان کے ساتھ ناانصافی کی جا رہی ہے اور انہیں مسلسل ہراساں کیا جا رہا ہے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ معاملے کی غیرجانبدارانہ، شفاف اور میرٹ پر تحقیقات کرائی جائیں تاکہ اصل حقائق سامنے آسکیں۔احتجاج کے شرکاء نے چیف جسٹس آف پاکستان، وزیر اعلیٰ سندھ، آئی جی سندھ، ڈی آئی جی سکھر اور ایس ایس پی سکھر سے اپیل کی کہ مبینہ جھوٹے مقدمے کی ازسرنو تحقیقات کروا کر ان کے شوہر کو باعزت بری کیا جائے، تشدد میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے اور ان کے خاندان کو مکمل تحفظ اور انصاف فراہم کیا جائے۔