سکھر: پسند کی شادی کرنے والے جوڑے کا پریس کلب کے باہر احتجاج، تحفظ اور انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ
سکھر(بیورورپورٹ۔ سید نصیر حسین زیدی دعا ان لاین نیوز)سکھر کے علاقے واری تڑ کے رہائشی نوجوان ضامن علی ابڑو اور نوجوان خاتون ذکیہ ابڑو نے اپنی مرضی سے پسند کی شادی کر لی، جس کے بعد مبینہ طور پر سکھر کے اے سیکشن تھانے کی پولیس نے نوجوان کے دو بھائیوں کو حراست میں لے لیا۔ متاثرہ جوڑے نے سکھر پریس کلب کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے تحفظ، انصاف اور گرفتار افراد کی رہائی کا مطالبہ کیا۔تفصیلات کے مطابق سکھر کے علاقے واری تڑ کی رہائشی ذکیہ ابڑو نے قریشی گاؤں کے رہائشی ضامن علی ابڑو سے عدالت میں قانونی طور پر پسند کی شادی کی۔جوڑے کے مطابق شادی کے بعد خاتون کے ورثا نے پولیس کے ذریعے انہیں ہراساں کرنا شروع کر دیا، جبکہ اے سیکشن پولیس نے مبینہ طور پر نوجوان کے دو بھائیوں بابر علی ابڑو اور بلاول ابڑو کو گرفتار کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔پریس کلب کے سامنے احتجاج کے دوران جوڑے نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی آزاد مرضی اور رضا مندی سے شادی کی ہے، لیکن اس کے باوجود خاتون کے اہل خانہ انہیں مسلسل دھمکیاں دے رہے ہیں اور جھوٹے مقدمات میں پھنسانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ذکیہ ابڑو نے کہا کہ اس نے اپنی مرضی سے اپنے رشتہ دار ضامن علی ابڑو سے نکاح کیا ہے، لہٰذا اغوا یا زبردستی شادی کے تمام الزامات بے بنیاد اور حقائق کے منافی ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ان کے ماموں زاہد ابڑو، نبی بخش، ہیرو ابڑو اور دیگر رشتہ دار انہیں اور ان کے شوہر کو جھوٹے مقدمات میں ملوث کرنے کے ساتھ ساتھ قتل کی دھمکیاں بھی دے رہے ہیں، جس کے باعث ان دونوں کی جان کو شدید خطرات لاحق ہیں۔احتجاج کرنے والے جوڑے نے انسپکٹر جنرل (آئی جی) سندھ، ڈی آئی جی سکھر، ایس ایس پی سکھر اور دیگر متعلقہ حکام سے اپیل کی کہ ضامن علی ابڑو کے گرفتار بھائیوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے، ان کے خلاف مبینہ ہراسانی کا نوٹس لیا جائے اور انہیں جان و مال کا مکمل تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ وہ بلاخوف اپنی ازدواجی زندگی گزار سکیں۔