22

ہارون آباد 4/(حافظ ثاقب)یہ دنیا عجیب شور و غوغہ کا نام ہے ۔یہاں ہر انسان سکون کا متلاشی ہے

ہارون آباد 4/(حافظ ثاقب)یہ دنیا عجیب شور و غوغہ کا نام ہے ۔یہاں ہر انسان سکون کا متلاشی ہے، کوئی دولت کے انبار لگا کر سکون تلاش کرتا ہے
کوئی شہرت کی بلندیوں پر پہنچ کر قلبی اطمینان ڈھونڈتا ہے کوئی اقتدار اور منصب کے ذریعے اپنے دل کی بے چینی مٹاتا ہے مگر تاریخ انسانی گواہ ہے کہ جن لوگوں نے سکون کو مال و دولت شہرت اور دنیا کی رنگینوں میں تلاش کیا وہ اخر کار خالی ہاتھ رہے گئے ان کے دلوں کی ویرانیاں ختم نہ ہوئی ان کے سینوں کا اضطراب کم نا ہوا اور ان کی روح کی پیاس نا بجھی سوال یہ ہے کہ پھر سکون کہاں ہے
دل کی بے قراری کا علاج کیا ہے اور روح کی ویرانی کیسے آباد ہوتی ہے
ہاں قران مجید اس سوال کا ایسا جواب دیتا ہے جو قیامت تک انسانوں کے لیے مشعل راہ ہے اللہ تعالی قران مجید میں فرماتے ہیں “سن لو اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے ان خیالات کا اظہار تنظیم اسلامی کے بانی ڈاکٹر اسرار احمد کے شاگرد رشید حاجی نثار احمد شفیق نے درس قرآن سے خطاب کرتے ہوئے کیا
انہوں نے مزید کہا کہ یہ آیت اعلان کر رہی ہے کہ سکون کا خزانہ صرف اور صرف اللہ سے تعلق میں پوشیدہ ہے، جو دل اپنے رب سے جڑ جاتا ہے، دنیا کے طوفان بھی اسے بے سکون نہیں کر سکتے اور جو دل اپنے رب سے کٹ جاتا ہے، دنیا کی تمام نعمتیں بھی اسے سکون نہیں دے سکتی آج انسان کے پاس جدید ترین گاڑیاں ہیں عالیشان مکانات ہیں، آشائش کے بے شمار سامان ہیں لیکن اس کے باوجود بے چینی ڈپریشن خودکشی اور ذہنی امراض میں دن بدن اضافہ ہو رہا ، اس کی وجہ سے یہ کہ انسان نے اپنے خالق سے تعلق کمزور کر لیا ہے
سوچیے زمین کا ایک کمزور انسان اور کائنات کا رب جسے یاد کرے اس سے بڑی عزت اور کیا ہو سکتی ہے یہ دنیا فانی ہے ،ایک دن ہمارے گھر ہماری جائیدادیں، ہماری مصروفیات ہمارے دوست سب کچھ ہم سے چھوٹ جائے گا، قبر میں نہ دولت کام آئے گی نہ شہرت نہ منصب وہاں اگر کوئی چیز ہمارے لیے روشنی بنے گی تو اللہ سے ہمارا تعلق ہوگا دعا ہے اللہ تعالی ہمارے دلوں کو اپنی محبت سے بھر دے
اور ہماری دنیا و اخرت سنوار دے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں