*کارگو طیارہ حادثہ: وسیع سمندر اور جون، جولائی کی بپھری لہروں کے باعث سرچ آپریشن بڑا چیلنج بن گیا*
*کارگو طیارہ حادثہ: وسیع سمندر اور جون، جولائی کی بپھری لہروں کے باعث سرچ آپریشن بڑا چیلنج بن گیا*
بلوچستان اورماڑہ کے قریب سمندر میں شارجہ سے کراچی آنے والے نجی کمپنی کے کارگو طیارے کو حادثہ پیش آیا جس کے بعد ایدھی فاؤنڈیشن کی بحری ٹیم سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کے لئیے روانہ کردی گئی۔
رپورٹ کے مطابق کے ٹو ایئرویز طیارے کی تلاش کے لیے فضائی اور بحری کارروائیاں تیز کردی گئیں، متعدد بحری اور فضائی وسائل سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں۔
متعلقہ ادارے لاپتا طیارے کی تلاش کے لیے مشترکہ آپریشن میں مصروف ہیں، سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں پاک بحریہ، پاک فضائیہ اور مرچنٹ ویسل شریک ہیں، ریسکیو ٹیمیں متاثرہ علاقے میں سرچ آپریشن بلا تعطل جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق پاک بحریہ کے دو بحری جنگی جہاز پی این ایس ذوالفقار اور پی این ایس حنین متاثرہ علاقے میں سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن سر انجام دے رہے ہیں، پاک بحریہ کا ہوائی جہاز بھی سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں مصروف ہے، وسیع سمندری علاقے اور جون، جولائی میں بپھری لہروں کے باعث سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن ایک بڑا چیلنج ہے۔
ترجمان ایدھی فاؤنڈیشن نے کہا کہ ایدھی فاؤنڈیشن کا ائیر کرافٹ پائپر سنیکا APBFM بھی امدادی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے لئیے صبح ٹیم کے ساتھ روانہ کردیا گیا، ایدھی کا ایئر کرافٹ پائپر سنیکا APBFM سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کے لیے استعمال ہوتا ہے۔