تحریر *سجاد علی خاصخیلی*
*ترجمان شہید بینظیر آباد پولیس
*4 اگست – یومِ شہداء پولیس*
*”وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ”*
*ترجمہ:* “اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں انہیں ہرگز مردہ نہ سمجھو، بلکہ وہ زندہ ہیں، اپنے رب کے پاس رزق دیے جاتے ہیں”۔ *[سورۃ آل عمران: 169]*
4 اگست کا دن پاکستان کی تاریخ میں خون، وفا اور قربانی کی ایک روشن داستان ہے۔ یہ دن *پاکستان بھر کے پولیس شہداء* کے نام ہے۔ اس دن پوری قوم ان بہادر سپوتوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر ہماری راتوں کو پر سکون اور دنوں کو محفوظ بنایا۔
*بلخصوص سندھ پولیس* کے لیے یہ دن صرف ایک تقریب نہیں، بلکہ ایک عہد ہے۔ *سندھ پولیس اپنے شہداء کو “ماتھے کا جھومر”* سمجھتی ہے۔ یہ وہ چراغ ہیں جن کی روشنی سے آج بھی قانون کی راہ روشن ہے۔
*ضلع شہید بینظیر آباد پولیس* بھی ہر سال *4 اگست یومِ شہداء پولیس* کو انتہائی عقیدت، احترام اور جذبے کے ساتھ مناتی ہے۔ اس دن تمام افسران و اہلکار سیاہ بازو بند باندھ کر، فاتحہ خوانی کر کے اور دعاؤں کے ساتھ اپنے شہید ساتھیوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔ پھولوں کی چادریں چڑھائی جاتی ہیں اور یادگاروں پر سلامی دی جاتی ہے۔
*ضلع شہید بینظیر آباد قربانیوں کی علامت ہے۔ اس ضلع میں 54 سے زائد پولیس اہلکاروں نے دہشتگردی، ڈکیتی، پولیس مقابلوں اور امن و امان کی ڈیوٹی کے دوران جامِ شہادت نوش کیا۔*
یہ 54 سے زائد شہداء ہمارے ضلع کا فخر ہیں۔ ہر نام ایک بہادری کی داستان ہے اور ہر قربانی اس بات کی گواہ ہے کہ امن کے لیے دی جانے والی قربانی کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔
*شہداء کی فیملیز – ہمارا مان، ہماری ذمہ داری*
سندھ پولیس کا یہ ایمان ہے کہ شہید کا خون رائیگاں نہیں جاتا۔ *شہداء کی فیملیز کو کبھی تنہا نہیں چھوڑا جاتا*
شہداء کے بچوں کی تعلیم کے لیے خصوصی اسکالرشپس اور سہولیات فراہم کی جاتی ہیں تاکہ ان کا مستقبل محفوظ ہو۔
ہر عید، ہر تہوار اور ہر خوشی و غم میں شہداء کی فیملیز کو یاد رکھا جاتا ہے۔ افسران خود ان کے گھروں کا دورہ کرتے ہیں۔
سندھ پولیس کے افسران کا یہ حکم ہے کہ شہداء کی فیملیز کے کسی بھی مسئلے کو فوری اور ترجیحی بنیاد پر حل کیا جائے تاکہ انہیں کبھی “اکیلا” محسوس نہ ہو۔
*ایس ایس پی شہید بینظیر آباد جناب سمیر نور چنہ صاحب* کہتے ہیں: “ہمارے 54 سے زائد شہداء نے اپنی جان دے کر ضلع کا امن خریدا ہے۔ ان کی بیوائیں ہماری بہنیں ہیں اور ان کے یتیم ہمارے بچے۔ ان کی عزت کرنا، ان کا خیال رکھنا ہم پر قرض ہے”۔
یہ وہ جوان ہیں جو رات کے اندھیرے میں ڈاکوؤں سے لڑے، خودکش حملہ آور کے آگے سینہ تان کر کھڑے ہوئے، اور دہشتگردوں کی گولیوں کو اپنا سینہ پیش کیا۔ انہوں نے وردی کی عزت کے لیے جان دی تاکہ ہماری مائیں، بہنیں اور بچے سکون سے سو سکیں۔
*4 اگست* کو ہم عہد کرتے ہیں کہ ہم اپنے شہداء کو کبھی نہیں بھولیں گے۔ ہم ان کے مشن کو آگے بڑھائیں گے۔ ہم جرائم کے خلاف اسی جذبے سے لڑیں گے جس جذبے سے ہمارے شہید لڑے تھے۔
*”سلام ہے ضلع شہید بینظیر آباد کے 54 سے زائد شہداء کو*
*سلام ہے ان کی قربانیوں کو، سلام ہے ان کی فیملیز کے حوصلے کو”*
*پاکستان زندہ باد*
*سندھ پولیس پائندہ باد*