3

شہدائے کربلا کے مقدس سر اور اہل بیت کی پاک بیبیوں اور بچوں کا قافلہ یا خوارج کا قافلہ:

شہدائے کربلا کے مقدس سر اور اہل بیت کی پاک بیبیوں اور بچوں کا قافلہ یا خوارج کا قافلہ:

ہفتہ 05 جولائی 2026
تحقیق و تحریر:
انجینیئر نذیر ملک سرگودھا

تاریخی روایات کے مطابق، جب شہدائے کربلا کے مقدس سر اور اہل بیت کی پاک بیبیوں اور بچوں کا قافلہ شام کے قریب پہنچا، تو یزیدی حکومت نے یہ جھوٹا پروپیگنڈا کر رکھا تھا کہ (معاذ اللہ) یہ لوگ ‘خوارج’ (باغی) ہیں جنہوں نے حکومت کے خلاف بغاوت کی تھی۔ اسی وجہ سے عام لوگ انہیں تماشا سمجھ کر دیکھنے آئے تھے۔
جب یہ قافلہ دمشق کے دروازے (جسے بابِ شام یا بابِ توما کہا جاتا ہے) پر ٹھہرایا گیا، تو وہاں تماشائیوں کا ہجوم تھا۔ اس دوران ایک بزرگ خاتون، جن کا تعلق مدینہ منورہ سے تھا اور وہ بعد میں دمشق میں بس گئی تھیں، وہاں موجود تھیں۔ کچھ روایات میں آتا ہے کہ وہ اپنی چھت پر تھیں اور کچھ کے مطابق وہ ہجوم میں تھیں۔ جب انہوں نے دیکھا کہ پاک بیبیوں کی چادریں چھین لی گئی ہیں اور ان کے سر ڈھانپنے کے لیے مکمل پردہ موجود نہیں ہے، تو ان کا دل تڑپ اٹھا۔
وہ خاتون دوڑ کر اپنے گھر گئیں اور وہاں سے کئی چادریں اور کپڑے لے کر آئیں۔ انہوں نے ادب کے ساتھ وہ چادریں قافلے کی بیبیوں کی خدمت میں پیش کیں تاکہ وہ اپنے سر اور جسم کو ڈھانپ سکیں۔
جب انہوں نے یہ چادریں پیش کیں، تو سیدہ زینب بنتِ علی نے ان سے پوچھا کہ اے نیک خاتون، اس بے بسی کے عالم میں جہاں سب تماشا دیکھ رہے ہیں، تو نے ہم پر یہ احسان کیوں کیا؟ تو کون ہے؟
اس بوڑھی خاتون نے روتے ہوئے جواب دیا کہ میں آپ کو ذاتی طور پر نہیں پہچانتی کہ آپ کون ہیں، لیکن میں مدینہ منورہ میں سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی کنیز (خادمہ) رہی ہوں۔ انہوں نے مجھے ہمیشہ یہ تعلیم دی تھی کہ جب بھی کسی بے بس، بے سہارا اور پردے سے محروم عورت کو دیکھو، تو اس کی پردہ پوشی کرو اور اس کی مدد کرو۔ آج میں اپنی اسی شفیق شہزادی سیدہ فاطمہ زہرا کے سکھائے ہوئے درس اور وعدے کو پورا کر رہی ہوں۔
یہ سن کر سیدہ زینب زار و قطار رو پڑیں اور فرمایا کہ اے خاتون، خدا کی قسم! تو جس کی کنیز ہونے کا واسطہ دے رہی ہے، ہم انہی سیدہ فاطمہ زہرا کے یتیم بچے اور بیٹیاں ہیں اور یہ سر جو نیزے پر ہے، یہ ان کے لاڈلے حسین کا ہے۔ یہ سن کر وہ خاتون چیخ مار کر رو پڑیں اور انہوں نے یزیدی ظلم کے خلاف ماتم کیا۔
حوالے اور تاریخی حیثیت:
اس واقعے کا ذکر کربلا اور مقاتل کی مختلف روایتی اور عزاداری کی کتابوں میں ملتا ہے، جہاں دمشق کے مصائب اور اہل بیت کی پردہ پوشی کے احوال بیان کیے گئے ہیں:
1۔ مقتل کی معروف عربی اور فارسی کتابوں جیسے ‘امالی الاَفکار’ اور ‘منتخب التواریخ’ میں شام کے راستوں اور دمشق کے دروازے پر آنے والے مختلف واقعات کے تحت ایسی روایات کا ذکر ملتا ہے، جہاں دمشق کے کچھ رحم دل لوگوں نے (جو اہل بیت کے مقام سے واقف تھے یا مدینہ سے تعلق رکھتے تھے) بیبیوں کو چادریں اور حجاب پیش کیے تھے۔
2۔ اسی طرح ‘بحار الانوار’ (علامہ مجلسی) کی جلدوں میں جہاں شام کے مصائب کا ذکر ہے، وہاں اس بات کی گواہی ملتی ہے کہ دمشق کی کچھ عورتوں نے جب قیدیوں کی حقیقت (کہ یہ نبی کا کنبہ ہیں) جانی، تو انہوں نے روتے ہوئے اپنے گھروں سے چادریں لا کر بیبیوں کو دی تھیں۔
یہ واقعہ اس بات کی دلیل ہے کہ ظلم کا پروپیگنڈا چاہے کتنا ہی سخت کیوں نہ ہو، سیدہ فاطمہ زہرا کی تربیت اور اہل بیت کی عظمت دلوں میں اپنا راستہ ڈھونڈ ہی لیتی ہے۔

الدعاَء
یا حیئ یا قیوم برحمتک استغیث
Please visit us at www.nazirmalik.com Cell 0092300860 4333

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں