اپیل۔۔۔۔۔۔شدید گرمی میں تھیلسیمیا کے مریضوں کے لیے بلڈ ڈونیشن بہت کم ھوجاتی ھے کیونکہ معاشرے میں پھیلی بہت ساری بے بنیادی خود ساختہ سائنسی تحقیقات ھیں۔کہ گرمیوں میں ںلڈ نہیں دینا چاھے۔میرے ساتھ میرے ھی محلے شمس آباد جھمرہ روڈ کا رہائشی محمد شایان ھے۔جوکہ تھیلسیما کا مریض ھے گزشتہ روز گھر آیا تھا کہ کہیں سے ںلڈ کا انتظام کردیں ۔میں نے بلڈ گروپ پوچھا تو بتایا کہ اے بی پازیٹو ھے۔تو میرے لیے یہ ناممکن تھا کہ میرا گروپ بھی یہی ھے اور میں کہوں کہ کہیں سے انتظام کرتا ھوں۔سو میں نے کہا کہ ٹھیک ھے میں دوں گا۔عمر کا مسلہ بنتا ھے۔چالیس سال تک آپ آسانی سے ھر تین ماہ بعد دے سکتے ھیں۔الحمد اللہ کئی دفعہ بلڈ ڈونیٹ کیا ھے۔مجھے یاد ھے ٹیکنالوجی کالج میں میں ایک دفعہ چنیوٹ سے ایک شخص آیا اور اپنی ماں کے لیے خون عطیہ کرنے کی اپیل کی تو ساری کلاس خاموش ایک دوسرے کی طرف دیکھ رھی تھی تو میرے اندر انجمن طلبہ اسلام کی تربیت نے جوش مارا اور میں نے کھڑے ھوکر بلڈ ڈونیٹ کرنے کی حامی بھری۔تو وہ کوئی امیر آدمی تھا گاڑی میں مجھے چنیوٹ لے گے اور ںلڈ دینے کے بعد گھر لے گے کھانا کھلایا اور پیسے دینے کی کوشش کی لیکن الحمد اللہ فی سبیل اللہ کا جزبہ بچپن سے ھی تھا۔میں نے کہا کہ بس کھانا کھالیا ھے اب آپ مجھے فیصل آباد چھوڑ آھیں۔پورے پروٹوکول کے ساتھ وہ مجھے گھر چھوڑ کر آئے۔تو عرض کرنے کا مقصد صرف اتنا ھے کہ تھیلسمیا کے بچے آج میں نے خود پہلی دفعہ دیکھے اتنی بڑی تعداد میں معصوم بچے امید بھری نظروں سے آپ کی رہ تک رھے ھیں۔سندس فاؤنڈیشن ماشاءاللہ زبردست کام کررھی ھے۔میری المصطفی فاونڈیشن کے تمام رضکاروں سے گزارش ھے کہ ضرور عطیہ کریں۔اگر آپ کی عمر کا مسلہ ھوتو آپ میری طرح جھوٹ بول سکتے ھیں کہ پچاس کی بجائے چالیس کہ دینا۔جان بچانے کے لیے جھوٹ بولنا جائز ھے۔اپنی جان کو بچانے کے لیے جھوٹ بولنا جائز ھے ۔یہ تو پھر کسی معصوم بچے کی جان بچانے کا سوال ھے۔میری دردمندانہ اپیل ھے کہ خاص طور پر میرے محلے شمس آباد والے اس ںچے کو اچھی طرح جانتے ھیں وہ اس سے رابط کریں اور اے بی پازیٹو گروپ عام ھے۔اسے خون کی کمی نہیں ھونی چاھے۔اگر کوئی پیسوں سے بھی دینا چاھے تو بھی مجھ سے رابط کرے۔المصطفی فاؤنڈیشن تعاون کرے گی۔اور خاص بات جو مجھے محمد شایان نے بتائی کہ یہ تھیلاسیمیا ایک موروثی بیماری ھے۔خاص طور پر کزن میرج سے پہلے تھیلاسیمیا کا ٹیسٹ ضرور کرواھیں۔میرے خیال میں حکومتی سطح پر ایسا کوئی انتظام نہیں ھے ایسے بچوں کی دیکھ بھال ھوسکے۔این جی اوز ھی یہ فریضہ سرانجام دے رھی ھیں۔لیکن بلڈ ڈونرز ھر وقت نہیں ملتے اور خون فیکٹری میں تیار ھوتا نہیں اس لیے ایسے بچوں کے لیے آگے آھیں اور خاص طور پر نوجوان بچے ایسے بچوں کا سہارا بنیں۔اللہ تعالی بچوں کو صحت عطا فرمائے
مقبول خبریں
نیوز لیٹر میں شمولیت
تازہ ترین خبریں روزانہ اپنے میل باکس میں حاصل کرنے کے لیے ہمارے نیوز لیٹر میں سبسکرائب کریں۔ بے فکر رہیں، ہمیں بھی سپیمنگ سے نفرت ہے!
[contact-form-7 id="287" title="subscribe"]اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں
مزید پڑھیں
مقبول خبریں
نیوز لیٹر میں شمولیت
تازہ ترین خبریں روزانہ اپنے میل باکس میں حاصل کرنے کے لیے ہمارے نیوز لیٹر میں سبسکرائب کریں۔ بے فکر رہیں، ہمیں بھی سپیمنگ سے نفرت ہے!
[contact-form-7 id="287" title="subscribe"]