کراچی والوں کو کوئٹہ والوں کی طرف سے تحفہ قبول ہو۔
سول اسپتال کوئٹہ کے باہر یہ خاتون خون آلود کپڑوں میں جس میں سے کچھ خون اس کا اور کچھ اس کے مرحوم شوہر کا اپنی معصوم بچیوں کے ساتھ بے یارومددگار شاید اپنے شوہر کی میت حوالگی کے انتظار میں بیٹھی ہے۔ ان چھوٹی چھوٹی معصوم بچیوں کو تو ابھی پتہ بھی نہیں کہ ان پر کیا قیامت توڑ دی گئ۔ ہے۔
یہ وہ کراچی والے ہیں جن کے شہر میں پاکستان کے ہر صوبے ہر شہر کا رہنے والا آزادی سے رہتا ہے، روزگار کماتا ہے کاروبار کرتا ہے اور کراچی کے ہر علاقے میں کراچی والوں کی طرح ہی آزادی سے گھومتا پھرتا ہے۔ یہ اپنی فیمیلیز کے ساتھ کراچی کا ہر مقام گھومتے ہیں۔ کراچی والے ان جیسے پردیسیوں کے لئے درجنوں مفت دسترخوان پورے شہر میں بچھاتے ہیں کہ کوئ بے گھر پردیسی ان کے شہر میں بھوکا نہ سوئے۔
کراچی سے ان کے بیمار شفایاب ہوکر جاتے ہیں۔
کراچی میں ان کوئٹہ والوں کے ہزاروں چائے کے ہوٹل ہیں جہاں کراچی والے ان کے ریگولر کسٹمرز ہیں۔ جب یہ شدید بیمار یا اچھے ڈاکٹر کو دکھانا ہو تو کراچی کے ھسپتالوں کا رخ کرتے ہیں۔ کراچی والے ان کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ ان کے ہزاروں بچے اور بچیاں کراچی کے اسکول کالج اور یونیورسٹیوں۔ میں پڑھتے ہیں۔ کراچی والے تمہارے شہروں۔ میں محنت مزدوری کرنے ہیں نہ تمہارے سرکاری محکموں میں کسی کوٹے پر ملازمت کرتے ہیں
یہ سمجھے تھے کہ بلوچستان والے بھی ان کی طرح کھلے دل والے مہمان نواز اور خواتین اور بچوں کی عزت و حفاظت کرنے والے ( انسان ) ہونگے،
اور شاذونادر اگر کراچی کی ایک فیملی جس میں بیوی شوہر اور دو معصوم بچیاں تھیں ان کے علاقے میں راستہ بھٹک گئے تو کوئ ان کی راہنمائ نہ کرسکا بلکہ ان پر گولیاں چلا دی گئیں۔ معصوم بچیوں کو یتیم اور ایک عورت کو بلاوجہ بغیر کسی قصور کے بیوہ اور ایک کراچی والے کو خون میں نہلادیا گیا۔
اب کوئ کچھ بھی کہے مگر کراچی والوں کو بلوچستان والوں کی طرف سے ایک جوان میت ایک بیوہ اور دو معصوم یتیم بچیوں کا تحفہ قبول ہو۔
یہ کوئ نفرت کا پرچار نہیں۔ ایک کراچی والے کا احتجاج ہے کیونکہ اب بہت سارے بھاشن دینے آجائیں۔ گے کہ نفرت تعصب نہ پھیلاؤ۔ کراچی والے کب تعصب پھھیلاتے ہیں۔ اوپر اتنی مثالیں اسی لئے دی گئ ہیں جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ کراچی والے نفرت اور تعصب نہیں پھیلاتے لیکن اگر کراچی والے اپنے خون پر احتجاج کریں تو بہت سارے آجائیں گے کہ نفرت نہ پھیلاؤ۔









